سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قرآن کریم کے فضائل

10 احادیث

قرآن پڑھا کرو کیوں کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔

عن أبي أمامة رضي الله عنه قال: سمعتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يقولُ: «اقْرَؤُوا القرْآنَ؛ فَإنَّهُ يَأتِي يَوْمَ القِيَامَةِ شَفِيعًا لأَصْحَابِهِ».
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو اس لیے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نےاپنی امت کو قرآن پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ روزِ قیامت اللہ تعالی اس قرآن کے ثواب کو ایک بذاتِ خود موجود شے کی شکل دے دے گا، جو اپنے پڑھنے والوں، اس میں مشغول رہنے والوں اور اس کے احکام و نواہی کی پابندی کرنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔

حوالہ

1-بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. 2-دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. 3-رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 4-شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. 5-صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. 6-نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ {الم} حَرْفٌ، وَلَكِنْ {أَلِفٌ} حَرْفٌ، وَ{لَامٌ} حَرْفٌ، وَ{مِيمٌ} حَرْفٌ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے“
رواه الترمذيدرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کوئی مسلمان اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھتا ہے، تو اس کے بدلے میں اسے ایک نیکی ملتی ہے اور اس کے لیے ثواب کو دس گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے؛ بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔" اس طرح تین حرف ہوئے، جن کو پڑھنے پر تیس نیکیاں ملیں گی۔

فوائد
  1. زیادہ سے زیادہ قرآن تلاوت کرنے کی ترغیب۔
  2. قرآن پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے، جسے دس گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
  3. اللہ کا وسیع رحم و کرم کہ وہ اپنے فضل و کرم کے نتیجے میں بندوں کو اجر و ثواب بڑھا کر دیتا ہے۔
  4. دوسرے کلام پر قرآن کی فضیلت اور اس کی تلاوت کا عبادت ہونا۔ ایسا اس لیے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
حوالہ

سنن الترمذي (5/ 33) (2910). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 229). سلسلة الأحاديث الصحيحة، للألباني (7/ 970). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 655). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 742).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

عن أبي لبابة بشير بن عبد المنذر رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَن لَم يَتَغنَّ بِالقُرآنِ فَليسَ مِنَّا».
ابو لبابہ بشیر بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے اس حدیث میں قرآن کو سریلی آواز میں پڑھنے کی ترغیب دی۔ اس لفظ (تغنی بالقرآن)کے دو معانی ہیں: پہلا معنی یہ کہ جو شخص اسے سریلی آواز میں نہیں پڑھتا یعنی قرآن کو اچھی آواز میں نہیں پڑھتا وہ ہماری سنت اور ہمارے طریقہ کار پر کاربند نہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جو شخص قرآن پر تکیہ کرتے ہوئے دوسری ہر شے سے مستغنی نہیں ہو جاتا بایں طور کہ کسی اور شے سے بھی ہدایت چاہتا ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص قرآن کے علاوہ کسی اور شے سے ہدایت چاہتا ہے اسے یہ شے گمراہ کر دیتی ہے، العیاذ باللہ۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اچھی آواز میں قرآن پڑھے اور اس کی موجودگی میں دیگر تمام اشیاء سے بے نیاز ہو جائے۔

حوالہ

1- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي.-الطبعة الأولى 1418ه. 2- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. 3- سنن أبي داود؛ للإمام أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني، تعليق عزت الدعاس وغيره، دار ابن حزم-بيروت، الطبعة الأولى، 1418هـ. 4- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. 5- صحيح سنن أبي داود؛ تأليف الشيخ محمد ناصر الدين الألباني، غراس-الكويت، الطبعة الأولى، 1423هـ. 6- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. 7- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين -المؤلف: محمد علي بن محمد بن علان الصديقي-اعتنى بها: خليل مأمون شيحا-دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان-الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، لَهُ أَجْرَانِ».
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرآن کا ماہر ہو وہ سفرۃ الکرام البررۃ (بزرگ اور پاکباز لکھنے والے) فرشتوں کےساتھ ہوگا۔ قرآن کا ماہر سے مراد جو قرآن کو تجوید کے مطابق پڑھے، اس سے مراد اچھی تلاوت کرنے والا جب کہ اسے قرآن یاد بھی اچھا ہو وہ سفرۃ الکرام البررۃ فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ ’’السفرة الكرام البررة‘‘ یہ فرشتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ، مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ، بِأَيْدِي سَفَرَةٍ، كِرَامٍ بَرَرَةٍ﴾ ”یہ تو پر عظمت صحیفوں میں (ہے)، جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے، ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے، جو بزرگ اور پاکباز ہے“ (سورہ عبس: 13-16) قرآن کا ماہر فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قاری کے لیے قرآن کو آسان کیا ہے جیسے کہ ’’کرام بررۃ‘‘ فرشتوں پر اسے آسان کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ قاری قرآن پڑھنے میں ان فرشتوں کی طرح ہیں اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک درجہ ہے۔ جب کہ وہ شخص جو کہ قرآن اٹک اٹک کے پڑھتا ہو اور یہ اس پر گراں گزرتا ہو، اس کے لیے دُہرا اجر ہوتا ہے۔ ایک تلاوت کا اور دوسرے تھکن اور مشقت کا۔

حوالہ

صحيح البخاري (6/ 166) (4937). صحيح مسلم (1/ 549) (798). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 226). تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، لمحمد المباركفوري (8/ 174). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص580). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 639). شرح كتاب التوحيد من صحيح البخاري، لعبدالله الغنيمان (2/ 592). فتح الباري بشرح صحيح البخاري، لابن حجر العسقلاني (9/ 127). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (12/ 562). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 740).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے قارئین کا سفارشی بن کر آئے گا۔

عن أبي أمامة الباهلي رضي الله عنه قال: سمعتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «اقرؤوا القرآنَ فإنَّه يأتي يوم القيامة شَفِيعًا لأصحابه، اقرؤوا الزَّهرَاوَين البقرةَ وسورةَ آل عِمران، فإنهما تأتِيان يوم القيامة كأنهما غَمَامَتان، أو كأنهما غَيَايَتانِ، أو كأنهما فِرْقانِ من طَيْر صَوافٍّ، تُحاجَّان عن أصحابهما، اقرؤوا سورة البقرة، فإن أخذها بَرَكة، وتركها حَسْرة، ولا تستطيعها البَطَلَة».
ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئےگا۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں:البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اس کا ترک کرنا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

قرآن پڑھا کرو اور اس کی تلاوت پر مداومت برتو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنی تلاوت کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔ بالخصوص سورۂ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھا کرو کیونکہ ان دونوں کا نام دو چمکدار یعنی دو روشنیاں رکھا گیا ہے، اُن کے منور ہونے، ہدایت کے اعتبار سے اور عظیم اجر کے اعتبار سے -گویا کہ اللہ کے نزدیک دیگر سورتوں کے تناسب سے ایسے ہی ہے جیسے قمرین کو تما م ستاروں پر- ان دونوں کے پڑھنے کا ثواب یہ ہےکہ قیامت کے دن یہ دونوں دو بادلوں کی صورت میں اپنے پڑھنے والے پر روز محشر کی گرمی سے سایہ کیے ہوئے ہوں گی یا پھر ان کے پڑھنے کا ثواب پرندوں کی دو جماعتیں جو صفوں کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے پر ملائے ہوئے کھڑے ہو ں گے جو اپنے پڑھنے والے کا دفاع کریں گی اور ان کو جہنم میں سے بچائیں گی۔ اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ وہ آنے والا خود عملِ (قرآن) کی شکل میں آئے گا جیسا کہ حدیث کے ظاہر سے پتہ چل رہا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وہ آنے والا خود اللہ کا کلام ہے، تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ’کلام‘ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور صفتْ ذات سے الگ نہیں ہوتی اور جس چیز کو میزان میں رکھا جائے گا وہ بندے کافعل اور عمل ہو گا جیسا کہ ﴿وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ﴾ ”اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اور جو تم عمل کرتے ہو ان سب کو پیدا کیا ہے“ (سورہ الصافات: 96) نبی کریم ﷺ نے سورۂ بقرہ کی تلاوت کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ اس کی تلاوت پر مداومت برتنے، اس کے معانی پر غور وفکر اور اس پر عمل کرنے میں بہت ساری برکتیں اور عظیم منافع موجود ہیں۔ اور اس سورت کو چھوڑنا، اس کی تلاوت نہ کرنا اور اس پر غور وفکر کرتے ہوئے اس پر عمل نہ کرنا قیامت کے دن حسرت و ندامت کا سبب بنے گا۔ اس سورت کا ایک بہت بڑا کمال یہ بھی ہے کہ اس کے پڑھنے والے اور اس پر غور و فکر کرتے ہوئے عمل کرنے والے کو جادو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ جادوگر اس کے پڑھنے، اس میں تدبر کرنے، اس کے مطابق عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اورنہ ہی ان کو اس کی توفیق ملتی ہے ۔

حوالہ

صحيح مسلم (1/ 553) (804). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (4/ 1460). التنوير شرح الجامع الصغير، لمحمد الصنعاني (2/ 606). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص232). معارج القبول بشرح سلم الوصول إلى علم الأصول، لحافظ الحكمي (2/ 846). التَّحبير لإيضَاح مَعَاني التَّيسير، لمحمد الصنعاني (2/ 9). تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص579).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ نے (اسلام کی) مثال صراط مستقیم (سیدھی راہ)

عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا، وَعَلَى جَنْبَتَيْ الصِّرَاطِ سُورَانِ، فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ، وَعَلَى بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، ادْخُلُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا، وَلَا تَتَعَرَّجُوا، وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ يَفْتَحُ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ، قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ، فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ، وَالصِّرَاطُ الْإِسْلَامُ، وَالسُّورَانِ: حُدُودُ اللهِ، وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ: مَحَارِمُ اللهِ، وَذَلِكَ الدَّاعِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ: كِتَابُ اللهِ، وَالدَّاعِي مِنِ فَوْقَ الصِّرَاطِ: وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِمٍ».
نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "اللہ نے (اسلام کی) مثال صراط مستقیم (سیدھی راہ) سے دی ہے، جس کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں۔ ان دیواروں میں مختلف دروازے ہیں اور تمام دروازوں پر پردے لگے ہیں۔ صراط (راستے) کے آغاز میں ایک داعی ہے جو کہہ رہا ہے: اے لوگو! تم سب کے سب اس راستے پر چل پڑو اور دائیں بائیں نہ مڑو۔ جب کہ ایک داعی صراط (راستے کے) کے اوپر سے پکار رہا ہے اور جب کوئی ان دروازوں میں جھانکنا چاہتا ہے، تو وہ کہتا ہے: تیری بربادی ہو، اسے مت کھولو، اگر تم نے اسے کھول دیا، تو تم اس میں داخل ہوجاؤگے۔ صراط سے مراد اسلام ہے اور دو دیواروں سے مراد اللہ کی حدود واحکام ہیں اور کھلے ہوئے دروازوں سے مراد اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں اور وہ داعی جو صراط (راستے کی ابتدا) میں پکار لگاتا ہے، وہ اللہ کی کتاب ہے اور صراط (راستے کے) اوپر سے پکارنے والا داعی اللہ کی جانب سے نصیحت وموعظت کرنے والا ہے، جو ہر مسلمان کے دل میں ودیعت ہے"۔
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ نے اسلام کی مثال ایک ایسے سیدھے راستے سے دی ہے، جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ اس راستے کے دونوں کناروں پر دو دیواریں ہیں جو اسے دو طرف سے گھیری ہوئی ہیں۔ اس سے مراد اللہ کی حدود و احکام ہیں۔ ان دونوں دیواروں کے درمیان کچھ کھلے ہوئے دروازے یعنی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔ ان دروازوں پر پردے لگے ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے گزرنے والا دروازے کے اس پار رہنے والے کو دیکھ نہیں پاتا۔ راستے کے آغاز میں ایک داعی ہے، جو لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے اور انہیں کہہ رہا ہے کہ اس راستے پر چل پڑو اور دائیں بائیں نہ جھانکو۔ یہ داعی اللہ کی کتاب ہے۔ ایک دوسرا داعی بھی ہے، جو راستے کے اوپر سے پکارتا ہے۔ جب بھی گزرنے والا ان دروازوں پر لٹکے پردے کو تھوڑا بھى اٹھانا چاہتا ہے، تو یہ داعی اسے ڈانٹتا ہے اور کہتا ہے کہ تیری بربادی ہو، اسے مت کھولو! کیوں کہ اگر تم نے اسے کھول دیا تو تم اس میں داخل ہوجاؤگے اور اپنے آپ کو داخل ہونے سے نہیں روک سکوگے۔ یہ داعی اللہ تعالی کی جاننب وہ نصیحت کرنے والا ہے، جو ہر مسلمان کے دل میں موجود ہے۔

فوائد
  1. اسلام ہی دین حق ہے۔ وہی وہ سیدھا راستہ ہے، جو ہمیں جنت تک پہنچا سکتا ہے۔
  2. اللہ کی حدود پر قائم رہنا اور اللہ کی حلال اور حرام کردہ چیزوں کا التزام کرنا واجب ہے اور ان میں غفلت برتنے سے تباہی وبربادی ہاتھ آتی ہے۔
  3. قرآن مجید کی فضیلت اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب، کیوں کہ اس میں ہدایت، نور اور کامیابی ہے۔
  4. بندوں کے تئیں اللہ کی رحمت کہ اس نے مومنوں کے دلوں میں وہ (احساس و شعور) ودیعت کر رکھا ہے، جو انہیں ہلاکت خیز گناہوں میں مبتلا ہونے سے روکتا اور انہیں وعظ ونصیحت کرتا رہتا ہے۔
  5. اللہ نے اپنی رحمت کی بنیاد پر بندوں کے لیے ایسی رکاوٹیں پیدا کر رکھی ہیں، جو انہیں گناہوں میں مبتلا ہونے سے روکتی ہیں۔
  6. تعلیم کا ایک وسیلہ یہ بھی ہے کہ معنی و مفہوم کی وضاحت کے لیے مثال کے ذریعہ بات سمجھائی جائے۔
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 539) (2859)، مسند أحمد (29/ 181، 183) (17634)، جامع العلوم والحكم (2/161)، فيض القدير (4/253)، التنوير شرح الجامع الصغير (7/100)، الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني (1/ 83).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ جب گھر جائے تو اسے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں ملیں؟

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟» قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: «فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ جب گھر جائے تو اسے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں ملیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اگر کوئی نماز میں تین آیتیں پڑھ لے، تو وہ اس کے لئے تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ نماز میں تین آیتیں تلاوت کرنے کا اجر و ثواب اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ انسان اپنے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں پائے۔

فوائد
  1. نماز میں تلاوت قرآن کی فضیلت۔
  2. نیک اعمال دنیا کی فنا ہونے والے وقتی ساز وسامان سے کہیں زیادہ بہتر اور دیرپا ہیں۔
  3. یہ فضیلت صرف تین آیتوں کے ساتھ مقید نہیں ہے، بلکہ نمازی اپنی نماز میں جس قدر آیتیں تلاوت کرے گا اسی کے بقدر حاملہ اونٹنیوں کے مقابلہ میں اس کا اجر و ثواب بہتر ہوگا۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 552) (802)، إكمال المعلم (3/172)، الإفصاح عن معاني الصِّحاح (8/65)، فتح المنعم شرح صحيح مسلم (3/620)، البحر المحيط الثجاج (16/343).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يقالُ لصاحبِ القرآن: اقرَأ وارتَقِ، ورتِّل كما كُنْتَ ترتِّل في الدُنيا، فإن منزِلَكَ عندَ آخرِ آية تقرؤها».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ صاحب قرآن جو اس پر عمل بھی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کی تلاوت اور حفظ میں محو رہتا ہے، جب وہ جنت میں داخل ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور ساتھ ساتھ جنت کی منزلوں پر چڑھتا جا۔ جس طرح دنیا میں غور و فکر اور اطمینان کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا تھا، اسی طرح تلاوت کر۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی۔

فوائد
  1. اعمال پر ان کى کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے بدلہ ملے گا۔
  2. قرآن کی تلاوت، اسے یاد کرنے، اس پر غور وفکر کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب۔
  3. جنت کے بہت سے منازل اور درجات ہیں۔ صاحب قرآن کو جنت کی سب سے بلند منزل ملے گی۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 592) (1464)، سنن الترمذي (5/ 35) (2914)، مسند أحمد (11/ 403) (6799)، السنن الكبرى للنسائي (7/ 272) (8002)، معالم السنن (1/290)، تحفة الأحوذي (8/187)، عون المعبود وحاشية ابن القيم (4/ 237).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
10 میں سے 8
10 احادیث
  1. قرآن پڑھا کرو کیوں کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔
  2. ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر اس طرح کی دس نیکیوں کے برابر ہوتا ہے
  3. جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
  4. جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے۔
  5. قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے قارئین کا سفارشی بن کر آئے گا۔
  6. اللہ نے (اسلام کی) مثال صراط مستقیم (سیدھی راہ)
  7. کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ جب گھر جائے تو اسے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں ملیں؟
  8. صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔
  9. قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے"۔
  10. اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com