اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ مسلمان کو جو بھی بیماریاں، غم، تکلیفیں، پریشانیاں، مصیبتیں، دشواریاں، خوف اور فاقے لاحق ہوتے ہيں، یہاں تک کہ اسے ایک کانٹا بھی چبھتا ہے، جو اس کے لیے باعث تکلیف ہوتا ہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔
- اپنے مؤمن بندوں پر اللہ کا بے پایاں فضل و کرم کہ ان کو لاحق ہونے والے معمولی نقصان کی وجہ سے بھی ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
- ایک مسلمان کو ابتلا وآزمائش کو اللہ کے یہاں ملنے والے اجر و ثواب کا ذریعہ سمجھنا چاہیے اور ہر چھوٹی بڑی مصیبت پر صبر کرنا چاہیے، تاکہ اس کے درجات بلند ہوں اور اس کے گناہ مٹا دیے جائیں۔
صحيح البخاري (7/ 114) (5641). صحيح مسلم (4/ 1992) (2572). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 489). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 242). شرح النووي على مسلم (16/ 126). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص44). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 96). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 70).