عن علي بن الحسين: "أنه رأى رجلا يجيء إلى فُرْجَةٍ كانت عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيدخل فيها فيدعو، فنهاه، وقال: ألا أحدثكم حديثا سمعته من أبي عن جدي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:« لا تتخذوا قبري عيدا، ولا بيوتكم قبورا، وصلوا علي، فإن تسليمكم يبلغني أين كنتم».
علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو نبی ﷺ کی قبر کے پاس موجود ایک شگاف میں سے اندر داخل ہوتا اور پھر دعا مانگا کرتا۔ انھوں نے اسے کہا: کیا میں تمھیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں، جو میں نے اپنے ابا سے اور انھوں نے میرے دادا سے سنی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچتا ہے چاہے، تم جہاں بھی ہو“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔درجہیہ حدیث اپنی دیگر اسانید اور شواہد کی بنیاد پر صحیح ہے۔
تشریح
علی بن الحسین (رحمہ اللہ) بتا رہے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو نبی ﷺ کی قبرمبارک کے پاس کھڑے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے دیکھا اور یہ کہ انھوں نے اس حدیث نبوی ﷺ کی بنیاد پر اسے ایسا کرنے سے منع فرمایا، جس میں آپ ﷺ کی قبر پر بار بار آنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں گھروں کو اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر سے تہی کرنے سے بھی منع فرمایا گیا اور ایسے گھروں کو قبروں سے تشبیہہ دی گئی اور یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان کی طرف سے کیا گیا سلام آپ ﷺ تک پہنچتا ہے، چاہے وہ جس جگہ پربھی ہو۔
حوالہ
كتاب التوحيد، للإمام محمد بن عبد الوهاب، ت: د. دغش العجمي، مكتبة أهل الأثر, الطبعة الخامسة, 1435ه.
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد, مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه.
الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان, دار العاصمة, الطبعة الأولى، 1422ه.
مصنف ابن أبي شيبة، تحقيق: كمال يوسف الحوت، نشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولى، 1409ه.
تحذير الساجد من اتخاذ القبور مساجد, الألباني, المكتب الإسلامي - الطبعة: الرابعة.
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ».
ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایک مسلمان کو جو بھی تکان، مرض، پريشانی، صدمہ، تکلیف یا غم پہنچتا ہے، حتی کہ اگر كوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ مسلمان کو جو بھی بیماریاں، غم، تکلیفیں، پریشانیاں، مصیبتیں، دشواریاں، خوف اور فاقے لاحق ہوتے ہيں، یہاں تک کہ اسے ایک کانٹا بھی چبھتا ہے، جو اس کے لیے باعث تکلیف ہوتا ہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔
فوائد
اپنے مؤمن بندوں پر اللہ کا بے پایاں فضل و کرم کہ ان کو لاحق ہونے والے معمولی نقصان کی وجہ سے بھی ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
ایک مسلمان کو ابتلا وآزمائش کو اللہ کے یہاں ملنے والے اجر و ثواب کا ذریعہ سمجھنا چاہیے اور ہر چھوٹی بڑی مصیبت پر صبر کرنا چاہیے، تاکہ اس کے درجات بلند ہوں اور اس کے گناہ مٹا دیے جائیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 114) (5641).
صحيح مسلم (4/ 1992) (2572).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 489).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (1/ 242).
شرح النووي على مسلم (16/ 126).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص44).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 96).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخِن وغيره (1/ 70).
عن أبي ذر رضي الله عنه قال: كنت أمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في حَرَّةٍ بالمدينة، فاستقبلنا أُحُدٌ، فقال: «يا أبا ذر» قلت: لبيك يا رسول الله. فقال: «ما يَسُرُّنِي أن عندي مثل أُحُدٍ هذا ذهبًا تمضي علي ثلاثة أيام وعندي منه دينارٌ، إلا شيء أرصده لِدَيْنٍ، إلا أن أقولَ به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا» عن يمينه وعن شماله ومن خلفه، ثم سار، فقال: «إن الأكثرين هم الأَقَلُّونَ يوم القيامة إلا من قال بالمال هكذا وهكذا وهكذا» عن يمينه وعن شماله ومن خَلفه «وقليل ماهم». ثم قال لي: «مكانك لا تَبْرح حتى آتيك» ثم انطلق في سوادِ الليل حتى تَوارى، فسمعت صوتًا، قد ارتفع، فَتَخَوَّفْتُ أن يكون أحدٌ عَرض للنبي صلى الله عليه وسلم فأردت أن آتيه فذكرت قوله: «لا تَبْرَحْ حتى آتيك» فلم أبْرَحْ حتى أتاني، فقلت: لقد سمعت صوتًا تَخَوَّفْتُ منه، فذكرت له، فقال: «وهل سمعته؟» قلت: نعم، قال: «ذاك جبريل أتاني فقال: من مات من أُمتك لا يُشرك بالله شيئًا دخل الجنة»، قلت: وإن زنى وإن سرق؟ قال: «وإن زنى وإن سرق».
ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینے کے ایک حرے (کالے پتھر والی زمین) پر چلا جا رہا تھا کہ ہمارے سامنے احد پہاڑ آگيا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر مجھ پر تین دن گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی موجود ہو، ماسوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں۔ اس کے سوا جتنا کچھ بھی ہو میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح تقسیم کردوں۔ اپنے دائیں، بائیں اور پیچھےکی طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ ﷺ چل دیے اور فرمایا: زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے، ماسوا اس شخص کے جس نے مال کو اس طرح، اس طرح اور اس طرح اپنے دائیں، بائیں اور پیچھے خرچ کیا ہوگا، ليکن ایسا کرنے والے کم ہی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اپنی اس جگہ سے تب تک نہ ہٹنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاوں۔ پھر آپ ﷺ رات کے اندھیرے میں چل دیے يہاں تک کہ اوجھل ہو گئے۔ پھر میں نے ایک بلند آواز سنی۔ مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی شخص نبی ﷺ کو نقصان پہنچانے کے درپے تو نہیں ہو گیا۔ میں نے آپ ﷺ کے پاس جانے کا ارادہ کیا لیکن مجھے آپ ﷺ کا فرمان یاد آ گیا کہ میرے آنے تک اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔ چنانچہ میں وہاں سے نہ ہٹا یہاں تک کہ آپ ﷺ میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: میں نے ایک آوا ز سنی تھی جس کی وجہ سے مجھے خوف لاحق ہو گیا تھا۔ میں نے ساری بات آپ ﷺ کو بتا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے وہ آواز سنی تھی؟ میں نے جواب دیا:جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا: اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ فرمايا: اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
حدیث کا مفہوم: ابو ذر رضی اللہ عنہ بيان کر رہے ہيں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ میں کالے پتھروں والی زمین (حرہ) پر چلے جا رہے تھے کہ سامنے احد پہاڑ آ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو مجھے یہ بات بالکل پسند نہ ہوتی کہ مجھ پر تین دن گزر جائیں“۔ یعنی یہ بات مجھے خوش نہيں کرتی کہ تین دن گزر جائیں اور اس میں سے میرے پاس کچھ بچا رہے ایک دینار بھینہیں، ”ما سوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں“ یعنی اگر میرے پاس احد پہاڑ کے بقدر خالص سونا ہوتا تو میں وہ سارا کا سارا اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑتا سوائے اس شے کے جس کی مجھے حقوق پورا کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے ضرورت ہوتی۔ اور جو کچھ اس سے زائد ہوتا تو ميں اس بات کوبالکل پسند نہيں کرتا کہ تين دن گزر جائيں اور اس ميں سے کچھ بھی ميرے پاس باقی رہے۔
يہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو دنیا میں بالکل بھی رغبت نہیں تھی کیونکہ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ مال جمع کریں سوائے اس شے کے جسے آپ ﷺ قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال رکھتے۔ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جَو کے بدلے رہن ميں رکھی ہوئی تھی جسے آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے ليے ليے تھے۔
اگر اللہ عز و جل کے نزدیک دنیا محبوب ہوتی تو اللہ تعالی اپنے نبی ﷺ کو اس سے محروم نہيں رکھتا۔ لیکن دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے اور سوائے عالم اور متعلم کے اور ان کاموں کے جو اللہ کی اطاعت گزاری میں ہوں۔
پھر آپ ﷺ نےفرمایا: ”زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے“ یعنی جن کے پاس دنیا کی کثرت ہو گی قیامت کے دن ان کے پاس نیک اعمال کی کمی ہو گی۔ کیونکہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس دنیا کے مال کی کثرت ہو جاتی ہے وہ استغنا اور تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اللہ کی اطاعت سے رو گردانی کرنے لگتا ہے کیونکہ دنیا اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے چنانچہ وہ دنیا میں تو بہت مال والا ہوتا ہے لیکن آخرت میں تہی دامن ہوگا۔
”جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح دیا“ یعنی مال کو، اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ کیا۔
”اور ایسے لوگ کم ہی ہیں“ یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ بہت کم ہیں۔
پھر فرمایا: ”جو بھی اس حال میں مر گیا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا تو وہ جنت میں جائے گا اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ زنا اور چوری بہت ہلکے گناہ ہیں بلکہ یہ بہت ہی بڑے گناہ ہیں۔ اسی لیے تو ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت بڑی لگی اور انہوں نے پوچھا کہ ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“، ایسا اس وجہ سے ہے کہ جو شخص حالت ایمان میں مر جاتا ہے اور اس پر کبیرہ گناہ ہوتے ہیں تو (ایسے لوگوں کے بارے میں) اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے“۔
ہو سکتا ہے کہ اللہ اس شخص کو معاف کر دے اور اسے عذاب (بھی) نہ دے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے عذاب دے، تاہم اگر عذاب دے گا بھی تو بالآخر وہ جنت میں ہی جائے گا کیونکہ ہر وہ شخص جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو اور نہ ہی اس نے کسی کفریہ بات کا ارتکاب کیا ہو تو وہ بالآخر جنت میں جائے گا۔
البتہ جس نے کسی کفریہ عمل کا ارتکاب کیا اور اسی پر اس کی فوات ہوئی ہو تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اس کا عمل رائیگاں جائے گا۔ کیونکہ منافقین رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّـهِ﴾ ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“ وہ اللہ کا ذکر تو کرتے تھے لیکن بہت کم اور نماز تو پڑھتے تھے لیکن: ﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾ ”اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں“ اس کے باوجود وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔
یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختيار کرنے کی دليل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو اپنا دل اس دنيا میں نہیں لگانا چاہیے اور یہ کہ دنیا اس کے ہاتھ میں ہو، دل میں اس کی جگہ نہ ہو۔ تاکہ وہ اپنے دل کے ساتھ اللہ عز وجل کی طرف متوجہ ہو۔ یقینا یہی کمالِ زہد ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ اس دنيا میں سے کچھ بھی نہ لیں، بلکہ جو چیز آپ کے لیے حلال ہو وہ لیں اور اس میں سے اپنا حصہ نہ بھولیں لیکن اسے اپنے ہاتھ میں رکھیں، اپنے دل میں اسے جگہ نہ دیں۔ اور يہی اہم بات ہے۔
حوالہ
- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه .
- بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه
- نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.
- صحيح البخاري ؛ عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ.
- صحيح مسلم؛ حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ.
- شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.
- كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه
- المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج /أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، دار إحياء التراث العربي – بيروت الطبعة: الثانية، 1392
- منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري تأليف- حمزة محمد قاسم مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية 1410 هـ - 1990 م
- فتح الباري شرح صحيح البخاري- أحمد بن علي بن حجر العسقلاني الشافعي- دار المعرفة - بيروت، رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي- قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب- عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے، جب کہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اس طرح تین بار خطاب کیا۔ پھر فرمایا: ”جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی اطلاع نہ دے دوں، تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے“۔ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت (کتمانِ علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے اس حدیث کو بیان کر دیا۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے ان کا نام لے کر تین بار کہا : اے معاذ! آپ کے ان کو تین بار پکارنے کا مقصد دراصل آگے کہی جانے والی بات کی اہمیت کو واضح کرنا تھا۔
چنانچہ ہر بار معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کی ہر آواز پر کھڑا ہوں اور اسے اپنے لیے سرمايۂ افتخار سمجھتا ہوں۔
چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جو بندہ سچے دل سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں اور پھر وہ اسی حالت میں مر جاتا ہے، تو اللہ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔
یہ سننے کے بعد معاذ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ وہ یہ حدیث لوگوں کو سنا دیں، تاکہ لوگوں میں مسرت کی لہر دوڑ جائے۔
لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ نہ جائیں اور عمل کے میدان میں پیچھے رہ جائیں۔
لہذا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث کسی کو نہیں بتائی۔ موت سے پہلے اس ڈر سے بتا دی کہ کہیں علم چھپانے کا گناہ سر پر لد نہ جائے۔
فوائد
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تواضع دیکھیے کہ معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا۔
یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تعلیم دینے کا ایک طریقہ سامنے آتا ہے کہ آپ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک سے زیادہ بار پکارا، تاکہ وہ پوری توجہ کے ساتھ آپ کی بات سنیں۔
اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کی ایک شرط یہ ہے کہ گواہی دینے والا سچے دل اور پورے یقین کے ساتھ گواہی دے۔ اس میں جھوٹ یا شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔
اہل توحید جہنم کی آگ میں ہمیشہ نہيں رہيں گے۔ اپنے گناہوں کے سبب اس میں داخل ہو بھی جائیں، تو پاک صاف ہونے کے بعد وہاں سے نکال لیے جائیں گے۔
سچے دل سے مذکورہ دونوں گواہی دینے والے کی فضیلت۔
بعض حالات میں کسی حدیث کو بیان نہ کرنا بھی جائز ہے، جب اسے بیان کرنے کے نتیجے میں کوئی برائی سامنے آئے۔
حوالہ
صحيح البخاري (1/ 37) (128).
صحيح مسلم (1/ 61) (32).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين (1/ 377).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 487).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 496).
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر چھوٹے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیا۔ آپ نے فرمایا: "کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؟" تین دفعہ آپ نے یہ سوال کیا۔ اس شخص نے جواب دیا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: "یہ شہادت ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے"۔
رواه أبو يعلى والطبراني والضياء المقدسيدرجہصحيح
تشریح
ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر طرح کے گناہ کر ڈالے ہيں۔ کوئی صغیرہ اور کبیرہ گناہ مجھ سے نہیں چھوٹا ہے۔ کیا میری مغفرت ہو سکے گی؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں؟ آپ نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا۔ اس شخص نے جواب دیا: ہاں! میں یہ گواہی دیتا ہوں۔ تو اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتین کی فضیلت بتلائی اور یہ بتایا کہ اس شہادت سے گناہ مٹ جاتے ہیں اور توبہ اپنے ماقبل کے تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔
فوائد
اس حدیث سے شہادتین کی عظمت شان معلوم ہوتی ہے اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جو شخص اپنے دل سے صدق نیتی کے ساتھ اس کی گواہی دیتا ہے، اس کی گواہی اس کے گناہوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔
اسلام اپنے ماقبل کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
سچی توبہ سے سابقہ گناہ مٹ جاتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ تعلیم دینے کے لیے ایک بات کو کئی دفعہ دہرایا کرتے تھے۔
اس حدیث سے شہادتین کی فضیلت معلوم ہوتی ہے اور یہ کہ شہادتین جہنم کی دائمی سزا سے نجات کا ذریعہ ہے۔
حوالہ
مسند أبي يعلى الموصلي (6/ 155) (3433)، المعجم الصغير للطبراني (2/ 201) (1025)، شعب الإيمان (5/404) (7086)، الأحاديث المختارة للضياء المقدسي (5/ 151) (1773)، غريب الحديث للخطابي (1/255)، الترغيب والترهيب (4/55)، النهاية في غريب الحديث والأثر (1/341)، الزواجر لابن حجر الهيتمي (2/961)، جامع العلوم والحكم (1/305).
معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، جس کا نام عفیر تھا۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے۔‘‘
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے۔ بندوں پر اللہ کا حق یہ کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ جب کہ اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ اپنے ان موحد بندوں کو عذاب نہ دے، جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ دے دوں، تاکہ وہ اس فضل وکرم کو جان کر خوش ہوسکیں؟ لیکن آپ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کردیا، اس خوف سے کہ کہیں لوگ اس پر توکل کرکے بیٹھ نہ رہیں۔
فوائد
اللہ تعالی کے اس حق کی وضاحت جو اللہ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے۔ وہ حق یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
اللہ تعالی پر بندوں کے اس حق کی وضاحت، جو اللہ نے اپنے فضل و انعام کے طور پر اپنی ذات پر واجب کیا ہے۔ وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل کرے اور عذاب سے محفوظ رکھے۔
اس حدیث میں ان موحد بندوں کے لیے بڑی عظیم بشارت ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے کہ ان کی جاے قرار جنت ہے۔
معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی موت سے قبل یہ حدیث اس خوف سے بیان کر دی کہ کہیں وہ کتمان علم کے جرم میں نہ مبتلا ہو جائیں۔
اس بات کی تنبیہ کہ کچھ احادیث کچھ لوگوں کے سامنے بیان نہ کی جائیں، اس خوف سے کہ کہیں وہ ان کے معانی کا ادراک نہ کر سکیں۔ لیکن یہ بات ان احادیث کے ساتھ خاص ہے جو نہ تو کسی عمل پر مشتمل ہیں اور نہ ان میں شریعت کی حدود بیان کی گئی ہیں۔
گناہ گار موحد بندے اللہ کی مشیت کے ماتحت ہوں گے۔ اگر اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو انہیں معاف کردے گا اور بالآخر جنت میں داخل کرے گا۔
حوالہ
صحيح البخاري (4/ 29) (2856)، صحيح مسلم (1/ 58) (30)، المحكم لابن سيده (10/26)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (1/ 203)، فتح الباري (11/340، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (1/ 623)، (1/ 627)، عمدة القاري شرح صحيح البخاري (14/ 148).
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی دو باتوں کے بارے میں پوچھا، جن میں سے ایک دخول جنت کو واجب کر دیتی ہے اور دوسری دخول جہنم کو واجب کردیتی ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جنت کو واجب کرنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی موت اس حال میں ہو کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو۔ جب کہ جہنم کو واجب کرنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی موت اس حال میں ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو۔ چنانچہ اللہ کی الوہیت، اس کی ربوبیت یا اس کے اسماء و صفات میں کسی کو شریک اور ہم مثل قرار دیتا ہو۔
فوائد
اس حدیث سے توحید کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے ہوئے وفات پائے، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
نیز شرک کی سنگینی بھی معلوم ہوتی ہے اوریہ پتہ چلتا ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرے، وہ جہم میں داخل ہوگا۔
گناہ گار موحد بندے اللہ کی مشیت کے ما تحت ہوں گے۔ اگر اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو معاف کردے گا پھر ان کی جاے قرار جنت ہوگی۔
حوالہ
صحيح مسلم (1/ 94) (93)، إكمال المعلم بفوائد مسلم (1/ 363)، شرح النووي على مسلم (2/96) المفهم للقرطبي (1/290)، تطريز رياض الصالحين (ص 281)، الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج (3/63).
خُرَیم بن فاتِک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ دو عمل واجب کردینے والے ہیں، ایک عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے، ایک عمل کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اور ایک عمل کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ جہاں تک واجب کردینے والے اعمال کی بات ہے تو وہ یہ ہیں : جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا اور جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ جس عمل کا بدلہ اسی کے مثل ملتا ہے وہ یہ ہے : جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے یہاں تک کہ اس کا دل اس نیکی کو محسوس کرنے لگے اور اللہ اس کے ارادہ کو دیکھ لے، تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں وہ برائی لکھ دی جاتی ہے۔ اور جو شخص نیکی کرے تو اسے اس کا دس گنا اجر ملتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے، اسے سات سو گنا اجر وثواب ملتا ہے۔ جہاں تک لوگوں کی بات ہے تو کسی کو دنیا میں کشادگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں تنگی ملے گی، کسی کو دنیا میں تنگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں فراخی ملے گی، کسی کو دنیا میں تنگی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں بھی تنگی ملے گی، جب کہ کسی کو دنیا میں فراخی ملی ہوئی ہے اور آخرت میں بھی فراخی ملے گی"۔
رواه أحمددرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اعمال کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ چھ قسم کے اعمال یہ ہیں:
پہلی قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
دوسری قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو اس پر جہنم واجب ہوجاتی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔
یہ دونوں عمل واجب کردینے والے ہیں۔
تیسری قسم: نیت پر مبنی نیکی۔ جو شخص کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور اپنی نیت میں سچا ہو، یہاں تک کہ اپنے دل میں اس نیت کو محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی اس کی اس نیت کو دیکھ لے۔ پھر کسی پیش آمدہ سبب کی بنا پر وہ اس نیکی کو انجام دینے سے قاصر رہے، تو اس کے حق میں پورے طور پر وہ نیکی لکھ دی جاتی ہے-
چوتھی قسم: انجام کردہ گناہ۔ جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں ایک برائی لکھ دی جاتی ہے۔
ان دونوں عمل کا بدلہ ان کے برابر ملتا ہے۔ بغیر کسی اضافہ کے۔
پانچویں قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ یہ اس شخص کے حق میں ہوتا ہے جو کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اسے انجام بھی دے دے۔ اس کے حق میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
چھٹی قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں کوئی مال خرچ کرے، تو اس کے حق میں اس نیکی کے بدلے سات سو گنا اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔ یہ بندوں پر اللہ تبارک وتعالی کا خاص فضل واحسان ہے۔
جہاں تک لوگوں کی چار قسموں کی بات ہے، تو وہ یہ ہیں:
پہلی قسم: وہ شخص جسے دنیا میں کشادہ رزق ملتا ہے۔ چنانچہ وہ دنیا کے اندر ناز ونعم کی زندگی گزارتا ہے اور اپنی ساری خواہشات پوری کرتا ہے، لیکن آخرت میں اسے تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اس سے مال دار کافر مراد ہے۔
دوسری قسم: وہ شخص جسے دنیا میں رزق کی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن آخرت میں اسے فراخی ہی فراخی ملے گی اور اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا۔ اس سے مراد فقیر مؤمن ہے۔
تیسری قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ تنگی ہی تنگی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد فقیر کافر ہے۔
چوتھی قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ فراخی ہی فراخی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد مال دار مؤمن ہے۔
فوائد
بندوں پر اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل واحسان ہے کہ وہ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔
اللہ تعالی کا یہ عدل اور اس کا کرم ہے کہ وہ گناہ کرنے پر ہمارے ساتھ عدل کا معاملہ کرتا ہے اور ہر برائی پر صرف ایک گناہ درج کرتا ہے۔
اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ثواب سات سو گنا سے شروع ہوتا ہے، کیوں کہ اس سے اللہ کے کلمہ (توحید) کو بلند کرنے میں مدد ملتی ہے۔
لوگوں کی مختلف قسموں کا بیان اور ان کے اندر جو عملی اختلاف پایا جاتا ہے، اس کی وضاحت۔
دنیا میں مؤمن اور غیر مؤمن ہر کسی کو فراخی ملتی ہے، لیکن آخرت میں صرف مؤمن کو ہی فراخی وکشادگی ملے گی۔
حوالہ
مسند أحمد (31/ 196) (18900)، (31/ 384)، الفتح الرباني لترتيب مسند أحمد بن حنبل الشيباني (19/198).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com