سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مقاصدِ شریعت

3 احادیث

یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص آ کر مجھ سے میرا مال چھیننا چاہے (تو مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے اپنا مال نہ دو۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: «فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: «قَاتِلْهُ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: «فَأَنْتَ شَهِيدٌ»، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: «هُوَ فِي النَّارِ».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص آکر مجھ سے میرا مال چھیننا چاہے (تو مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے پوچھا کہ اگر وہ مجھ سے لڑے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اس سے لڑو۔ اس نے مزید پوچھا کہ اگر اس نے مجھے قتل کر دیا تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس صورت میں تم رُتبۂ شہادت پر فائز ہو جاؤ گے۔ اس نے دریافت کیا کہ اگر میں نے اسے قتل کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس صورت میں وہ جہنم رسید ہو گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیں کہ اگر کوئی شخص آکر میرا مال ناحق مجھ سے چھیننا چاہے تو مجھے کیا کرنے کا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے اپنا مال نہ دو۔ اس نے مزید پوچھا کہ مجھے یہ بتائیں کہ اگر وہ مجھ سے لڑنے لگے تو میں کیا کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے مال کا دفاع کرو اگرچہ اس کی وجہ سے اس سے لڑنا پڑے۔ تاہم پہلے آپ کو آسان سے آسان تر طریقے سے اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جیسے لوگوں سے مدد مانگ کر یا اسے چھڑی یا اس کی سمت کے بجائے کسی اور طرف فائرنگ وغیرہ کر کے ڈرا دھمکا کر۔ اس شخص نے پوچھا اگر وہ مجھ پر قابو پا لے اور مجھے قتل کر دے تو میرا انجام کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تجھے شہید کا اجر ملے گا۔ اس نے دریافت کیا کہ اگر میں اس پر قابو پا لوں اور اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے اسے قتل کردوں تو اس کا کیا انجام ہو گا؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک متعینہ مدت کے لیے دوزخ میں جائے گا بشرطیکہ وہ اس عمل کو حلال سمجھ کر نہ کرتا ہو۔ اگر وہ اپنے اس فعل کو حلال سمجھتا ہوا تو اس صورت میں ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ اُس نے ایک ایسی شے کو حلال سمجھا جو دین میں بدیہی طور پر حرام ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم (1/ 124) (140). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 449). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 936). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 389).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما نهيتكم عنه فاجتنبوه، وما أمرتكم به فأْتُوا منه ما استطعتم، فإنما أَهلَكَ الذين من قبلكم كثرةُ مسائلهم واختلافهم على أنبيائهم».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ نے ہماری رہنمائی کی اور فرمایا کہ جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز سے منع کردیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم بلا استثناء اس سے اجتناب کریں اور جب آپ ﷺ ہمیں کسی شے کے کرنے کا حکم دیں تو ہم پر واجب ہیں کہ ہم مقدور بھر اسے سر انجام دیں۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے ڈرایا کہ ہم سابقہ امتوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہوں نے اپنے انبیاء سے بہت زیادہ سوالات کیے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان کی مخالفت بھی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاکت و بربادی کے مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ ہم ان کی طرح نہ ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی ویسے ہی ہلاک ہو جائیں جیسے وہ ہوئے۔

فوائد
  1. اوامر کی بجا آوری اورنواہی سے بچنے کا حکم۔
  2. نہی کے ارتکاب کی ذرا بھی اجازت نہیں دی گئی ہے، جب کہ امر کو استطاعت کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے، کیوں کہ آدمی ترک کی قدرت رکھتا ہے اور فعل کے لیے مامور بہ کام کو انجام دینے کی قدرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
  3. زیادہ سوال کرنے کی ممانعت۔ علما نے سوال کی دوقسمیں کی ہیں: ایک، جو دین کی ضروری بات سیکھنے کےلیے ہو۔ یہ ماموربہ ہے۔ صحابۂ کرام کے سوالات اسی نوع کے ہوتے تھے۔ دوسری جو بہ طور تکلّف اور پریشان کرنے کے لیے ہو۔ اسی سے روکا گیا ہے۔
  4. اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
  5. کسی چیز کی ممانعت میں اس کا قلیل اور کثیر دونوں شامل ہوتا ہے۔ کیوں اس سے (مکمل طور پر) اسی وقت بچا جاسکتاہے، جب اس کے کم اور زیادہ مقدار دونوں سے بچاجائے۔ مثال کے طورپر ہمیں سود سے منع کیا گیا ہے، تو اس میں اس کی کم اور زیادہ مقدار دونوں شامل ہوگی۔
  6. حرام تک پہنچانے والے اسباب کو چھوڑدینا چاہیے، اس لیے کہ یہ اجتناب کے معنیٰ میں داخل ہے۔
  7. انسان صاحب استطاعت اور قدرت والا ہے، کیوں کہ آپ کا فرمان ہے: "مَا استَطَعْتُمْ" جتنی تمہیں طاقت ہو۔ چناںچہ اس میں جبریہ کی تردید ہے، جو کہتے ہیں کہ انسان کے پاس کوئی استطاعت نہیں ہے اور وہ عمل پر مجبور ہے، یہاں تک کہ انسان گفتگو کے وقت اپنے ہاتھ سے جو حرکت کرتا ہے، ان کے قول کے مطابق ہاتھ کی وہ حرکت بھی اس کی استطاعت میں نہیں ہے۔ وہ بالکل مجبور ہے۔ بلاشبہ یہ باطل قول ہے، جس پر بڑے مفاسد مرتب ہوتے ہیں۔
  8. کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ جب وہ رسولﷺکا حکم سنے توکہےکہ کیا یہ واجب ہے یا مستحب؟ کیوں کہ آپ کا فرمان ہے: "فَأْتُوا مِنْهُ مَا استَطَعْتُمْ". یعنی تم اس میں سے اپنے مقدور بھر سر انجام دو۔
  9. نبیﷺ جس بات کا حکم دیں یا جس سے منع فرمائیں، وہ شریعت ہے، خواہ وہ قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ لہذا سنت سے ثابت ان اوامر اور نواہی پر بھی عمل کیا جائے گا، جو قرآن میں نہیں ہیں۔
  10. زیادہ سوال کرنا ہلاکت کا سبب ہے، بالخصوص ایسی باتوں کے بارے میں جن کا جان پانا ممکن نہ ہو، جیسے اللہ کے اسما و صفات اور قیامت کے احوال۔ ان کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور تمھارا شمار غلو کرنے والوں ہوگا۔
  11. گزشتہ امتیں کثرت سوال اور اپنے انبیا کے بارے میں زیادہ اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوگئیں۔
حوالہ

-التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، مطبعة دار نشر الثقافة، الإسكندرية، الطبعة: الأولى، 1380 هـ. -شرح الأربعين النووية، للشيخ ابن عثيمين، دار الثريا للنشر. -فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، دار ابن القيم، الدمام المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1424هـ/2003م. -الفوائد المستنبطة من الأربعين النووية، للشيخ عبد الرحمن البراك، دار التوحيد للنشر، الرياض. -شرح الأربعين النووية، للشيخ صالح آل الشيخ، دار الحجاز، الطبعة: الثانية، 1433هـ. -الأربعون النووية وتتمتها رواية ودراية، للشيخ خالد الدبيخي، ط. مدار الوطن. -الجامع في شروح الأربعين النووية، للشيخ محمد يسري، ط. دار اليسر. -صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح اسے یہ پسند ہے کہ اس کے احکام واوامر پر عمل کیا جائے"۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح اسے یہ پسند ہے کہ اس کے احکام واوامر پر عمل کیا جائے"۔
رواه ابن حباندرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالی کو یہ پسند ہے کہ اس نے جو رخصتیں مشروع کی ہیں، ان پر عمل کیا جائے۔ یعنی جن احکام و عبادات میں عذر کی بنا پر بندۂ مکلف کے لیے اس نے تخفیف اور آسانی کی ہے، اس کو برتا جائے- جیسے سفر کی حالت میں قصر اور جمع کے ساتھ نماز ادا کرنا- بالکل اسی طرح جس طرح اسے یہ محبوب ہے کہ اس کے مشروع کردہ واجب احکام واوامر پر عمل کیا جائے، کیوں کہ رخصت اور عزیمت ہر ایک میں اللہ کا حکم یکساں ہے۔

فوائد
  1. بندوں کے تئیں اللہ کی رحمت ومہربانی اور یہ کہ اللہ پاک کو یہ پسند ہے کہ اللہ کی مشروع کردہ رخصتوں پر عمل کیا جائے۔
  2. اس سے شریعت کا کمال ظاہر ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مسلمان سے حرج اور مشقت کو دور کردیا ہے۔
حوالہ

صحيح ابن حبان (2/ 69) (354)، فيض القدير (2/292)، نيل الأوطار (3/244).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com