سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح اسے یہ پسند ہے کہ اس کے احکام واوامر پر عمل کیا جائے"۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے جس طرح اسے یہ پسند ہے کہ اس کے احکام واوامر پر عمل کیا جائے"۔
رواه ابن حباندرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالی کو یہ پسند ہے کہ اس نے جو رخصتیں مشروع کی ہیں، ان پر عمل کیا جائے۔ یعنی جن احکام و عبادات میں عذر کی بنا پر بندۂ مکلف کے لیے اس نے تخفیف اور آسانی کی ہے، اس کو برتا جائے- جیسے سفر کی حالت میں قصر اور جمع کے ساتھ نماز ادا کرنا- بالکل اسی طرح جس طرح اسے یہ محبوب ہے کہ اس کے مشروع کردہ واجب احکام واوامر پر عمل کیا جائے، کیوں کہ رخصت اور عزیمت ہر ایک میں اللہ کا حکم یکساں ہے۔

فوائد
  1. بندوں کے تئیں اللہ کی رحمت ومہربانی اور یہ کہ اللہ پاک کو یہ پسند ہے کہ اللہ کی مشروع کردہ رخصتوں پر عمل کیا جائے۔
  2. اس سے شریعت کا کمال ظاہر ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مسلمان سے حرج اور مشقت کو دور کردیا ہے۔
حوالہ

صحيح ابن حبان (2/ 69) (354)، فيض القدير (2/292)، نيل الأوطار (3/244).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
شرعی حکم

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com