سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلے کے سلسلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلے کے سلسلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو رشوت دیتے اور لیتے ہوں۔ اس کے اندر وہ چیزیں بھی شامل ہیں، جو قاضیوں کو ان فیصلوں کے بارے میں دی جاتی ہیں، جو ان کو کرنا ہوتا ہے اور جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دینے والا غلط طریقے سے اپنے حق میں فیصلہ دلوا لے۔

فوائد
  1. رشوت دینا، لینا، اور رشوتا مي، واسطہ بننا اور اس میں کسی بھی طرح کی مدد کرنا حرام ہے، کیوں کہ یہ غلط کام میں مدد کرنا ہے۔
  2. رشوت میں ملوث ہونا کبیرہ گناہ ہے، کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت کی ہے۔
  3. قضا اور فیصلے کے سلسلے میں رشوت دینا اور لینا زیادہ بڑا جرم اور سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ یہ ظلم اور اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کو درکنار کرکے من مانی انداز میں فیصلہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
حوالہ

سنن الترمذي (3/ 15) (1336). مسند أحمد (15/ 8) (9023). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، للبسام (7/ 188). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 172). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (9/ 450). سبل السلام شرح بلوغ المرام، للصنعاني (2/ 577).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قاضی کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com