سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔

عن عبد الرحمن بن أبي بكرة قال: «كتب أبي -أو كتبتُ له- إلى ابنه عبيد الله بن أبي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ بِسِجِسْتَانَ: أَنْ لا تَحْكُمْ بَيْنَ اثْنَيْنِ وأنت غضبان، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لايحكم أحد بين اثنين وهو غضبان». وَفِي رِوَايَةٍ: «لا يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بين اثْنَيْنِ وهو غَضْبَانُ».
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھا یا میں نے ان کے لیے ان کے فرزند عبیداللہ بن ابی بکرہ کے نام لکھا، جب کہ وہ سجستان کے قاضی تھے: تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے“۔ اور ایک روایت میں ہے:”کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے، جب وہ غصہ میں ہو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

شارع حکیم نے حاکم کو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے روکا ہے؛ کیوں کہ غصہ آدمی کی شخصیت اور توازن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ وہ غصہ کی حالت میں ظؒلم کربیٹھے یا صحیح کوغلط قرار دے ڈالے۔ اس طرح یہ محکوم پر ظلم ہوگا اورحاکم خسارہ وگناہ اٹھائے گا۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، بدون طبعة، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر بدمشق، الطبعة الأولى، 1381هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
قاضی کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com