سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب میری براءت کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺمنبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیات تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو آپ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا اور انہیں حد لگائی گئی۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «لما نَزَلَ عُذْرِي، قام النبي صلى الله عليه وسلم على المِنْبَر، فَذَكَرَ ذَاكَ، وتَلَا -تعني القرآن-، فلما نَزَلَ من المِنْبَر، أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ والمرأة فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ».
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب میری براءت کے متعلق آیتیں نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور قرآن کی آیتیں تلاوت فرمائیں۔ جب منبر سے نیچے اترے تو آپ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا اور انہیں حد لگائی گئی۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ جب ان پر لگائے گئے جھوٹے الزام سے برأت کی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اس کے متعلق مسلمانوں کو اطلاع دی اور منبر پر آپ ﷺ نے قرآن کی ان آیات کی تلاوت فرمائی جو برأت کے لیے نازل ہوئیں تھیں۔ آپ ﷺ منبر سے نیچے اترے اور بہتان لگانے والے دو مردوں کو لایا گیا، ان میں سے ایک حسان بن ثابت اور دوسرے مسطح بن اثاثہ (رضی اللہ عنہما) تھے اور ایک عورت جو کہ حمنہ بنت جحش (رضی اللہ عنہا) تھی، ان کے جھوٹے ثابت ہونے کی وجہ سے ان پر بہتان کی حد قائم کی گئی(جو کہ اسّی کوڑے ہے)۔

حوالہ

- عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم، للعظيم آبادي - دار الكتب العلمية – بيروت - الطبعة الثانية، 1415هـ. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان - دار ابن الجوزي - ط1، 1428ه. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة - الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م. - شرح مصابيح السنة للإمام البغوي، لابن الملك - الناشر: إدارة الثقافة الإسلامية، الطبعة الأولى، 1433هـ - 2012م. - مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ - 2001م. - سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. - سنن أبي داود، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت. - سنن الترمذي، للإمام الترمذي، تحقيق : أحمد محمد شاكر وآخرون، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي –مصر- الطبعة الثانية، 1395هـ - 1975م. - تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، للمباركفورى، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت. - صحيح وضعيف سنن ابن ماجة، للشيخ الألباني، مصدر الكتاب: برنامج منظومة التحقيقات الحديثية -المجاني- من إنتاج مركز نور الإسلام لأبحاث القرآن والسنة بالإسكندرية.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حدِ قذف

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com