سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت ہی سے شادی کرے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يَنْكِحُ الزَّاني المَجْلود إلا مثْلَه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت ہی سے شادی کرے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں باطل و ناجائز نکاحوں کی ایک قسم بیان کی گئی ہے اور یہ وہ نکاح ہے جس میں زانی، اپنی زناکاری سے تائب نہ ہو اور اس کا زناکار ہونا ثابت ہو تو ایسے شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی پاکباز مسلمان خاتون سے نکاح کرے کیونکہ اس سے نکاح کے لیے اسی جیسی زناکار خاتون ہی آگے آسکتی ہے اور جن کی حالت ایک دوسرے سے مناسبت رکھتی ہے اور یہ حکم اس وقت جاری ہوگا جب وہ اس عظیم گناہ سے توبہ نہ کرے۔ نیز یہ کہ بدکاری کی مرتکب اس زناکار خاتون سے بھی کسی مسلمان کا نکاح کرنا جائز نہیں جو زناکاری سے تائب نہ ہوئی ہو۔ زناکار کو کوڑے کھانے والے سے متصف کرنا، غلبہ صفت کی بناء پر ہے کیونکہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ جس کا زناکار ہونا ثابت ہوجائے تو اس کو کوڑے لگائے جاتے ہیں، ورنہ اس حکم میں وہ زناکار بھی شامل ہے جس کو کوڑے نہیں لگائے گئے ہوں۔اگر ان دونوں حالات میں نکاح ہوجائے تو ایسا نکاح باطل ہوگا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے کسی اور مرد سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا“۔

حوالہ

سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ - 2001م. صحيح أبي داود – الأم, أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين الألباني, مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت, الطبعة الأولى، 1423هـ - 2002م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1427هــ - 1431هـ. فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى, اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء, جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش, الناشر: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء - الإدارة العامة للطبع – الرياض. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حدِ قذف

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com