عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه أَنَّهُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إمْلاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: «شَهِدْت النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ- عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ- فَقَالَ: ائتني بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَك، فَشَهِدَ مَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ».
عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے عورت کے املاص (اسقاط حمل) کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا (کہ اس کی دیت کیا ہو گی؟)۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس کوئی ایسا شخص لاؤ جو تمہارے ساتھ اس کی گواہی دے۔ چنانچہ ان کے ساتھ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایک عورت نے اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کے نتیجے میں اپنے بچے کو مردہ حالت میں قبل از وقت جن دیا۔
خلیفۂ عادل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ وہ اپنے معاملات اور قضایا میں اپنے اصحاب اور ان میں سے اہلِ علم لوگوں سے مشورہ لیتے تھے۔ جب اس عورت نے ایک مردہ اور ناتمام بچے کو جن دیا تو اس کی دیت کے حکم کے بارے میں انہیں اشکال ہوا۔ لھٰذا انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے جنین کی دیت کے بارے میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا۔
عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی توثیق وتصدیق کرنا چاہا جو قیامت تک کے لیے ایک عام قانون بننے والا تھا۔
لھٰذا انہوں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ پر زور دیا کہ وہ کوئی ایسا شخص پیش کریں جو ان کے قول کی سچائی اور ان کی نقل کردہ بات کی صحت کی گواہی دے۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ انصاری نے ان کی بات کی سچائی کی گواہی دی۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
حوالہ
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)،1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي هُرَيْرة رضي الله عنه قال: «اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فرمَت إحداهما الأخرى بحجر، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى رسول الله: أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ- عَبْدٌ، أَوْ وَلِيدَةٌ- وَقَضَى بِدِيَةِ المرأة على عَاقِلَتِهَا، وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ، فَقَامَ حَمَلُ بنُ النَّابِغَةِ الهُذَلِيُّ، فَقَالَ: يا رسول الله، كيف أغرم من لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ، وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فقال رَسول الله صلى الله عليه وسلم : «إنما هذا من إخوان الكُهَّان» من أجْل سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو وہ اور جو اس کے پیٹ میں (بچہ) تھا ہلاک ہوگئے۔ لوگ مقدمہ لے کر نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کی دیت اس (قاتلہ) کے عاقلہ (یعنی اقارب) کے ذمے ہے ،اور دیت کا وارث اس عورت کی اولاد اور ان ورثاء کو بنایا جو ان کے ساتھ تھے۔ حمل بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی دیت کیسے دی جائے جس نے ابھی نہ پیا نہ کھایا نہ بولا اور نہ ہی چیخا ،اس جیسے کو تو رائیگاں کیا جانا چاہئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے۔ (آپﷺ نے یہ اس لیے فرمایا) کہ انہوں نے کاہنوں جیسا مسجع کلام کیا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جو کہ آپس میں سوکن تھیں جھگڑا ہوا ،ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک چھوٹا پتھر پھینک کر مارا جس سے عام طور پر آدمی مرتا نہیں، لیکن اس نے اسے اس کے ذریعہ قتل کر ڈالا اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا اسے بھی مار ڈالا.
تو نبی ﷺ نے فیصلہ کیا: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے قطع نظر اس کے کہ پیٹ میں جو بچہ ہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی اور اس کی دیت قتل کرنے والی عورت پر ہوگی۔ اور ماری گئی عورت کی دیت کا فیصلہ (اور یہ فیصلہ اس لیے دیا کیوں کہ اس قتل کا تعلق جان بوجھ کر قتل کرنے کے مشابہ تھا) دیا کہ یہ اس کے عصبہ و خاندان (اقارب) پر ہوگی کیوں کہ اس کی بنیاد آپسی تعاون اور انصاف پر تھا اور چونکہ یہ قتل جان بوجھ کر نہیں ہوا تھا۔ اور چونکہ مقتولہ کے بعد دیت اس مقتولہ کی میراث مانی جائے گی اس لئے اس کا وارث مقتولہ کی اولاد ہوگی اور اس کے ساتھ کےجو ورثاء ہونگے وہ لیں گے اور اس میں سے کچھ بھی عصبہ کو نہیں ملے گا۔
حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: -جو کہ قاتلہ کے والد تھے- اے للہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جو مردہ پیدا ہوا اس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ ہی بولا کہ اس کا زندہ ہونا معلوم ہو سکے؟اس کو انہوں نےخطیبانہ اسلوب میں مسجع انداز سے کہا۔
رسول اللہ ﷺ کو ان کا اسلوب ناگوار لگا کیوں کہ انہوں نے شریعت کے احکام کو پر تکلف اور مسجع پیرایہ میں رد کیا جو کہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانے والے کاہنوں کے انداز کے مشابہ تھا۔
حوالہ
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عمران بن حصين رضي الله عنهما «أن رجلا عَضَّ يَدَ رجل؛ فَنَزَعَ يَدَهُ من فِيهِ؛ فوقعت ثَنِيَّتُهُ؛ فاختصما إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يَعَضُّ أحدُكم أخاه كما يَعَضُّ الفَحْلُ؛ لا دِيَةَ لك».
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ کو (دانتوں سے) کاٹ لیا، تو اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گر گئے۔ وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جس طرح کوئی سانڈ۔ کاٹتا ہے؛ (جاؤ) تمہارے لئے کوئی دیت نہیں۔“
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر حملہ آور ہو کر اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ جس شخص کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے کے دو دانت گر گئے۔ دونوں اپنا مقدمہ نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے۔ دانت کاٹنے والا اپنے گر جانے والے دونوں دانتوں کی دیت مانگ رہا تھا، جب کہ جس کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا وہ اپنے دفاع میں یہ دلیل دے رہا تھا کہ اس نے تو اپنے ہاتھ کو اس کے دانتوں کی گرفت سے آزاد کرنا چاہا تھا۔ نبی ﷺ نے دانت کاٹنے والے مدعی پر نکیر کی کہ اس نے کیسے ایسا عمل کیا جسے اکھڑ (اجڈ) جانور کرتے ہیں؟ اور فرمایا: تم میں سے ایک شخص اپنے بھائی کو دانت کاٹتا ہے اور پھر زیادتی کا مرتکب ہونے والے اپنے دانتوں کی دیت کا مطالبہ کرنے کے لئے آجاتا ہے؟! تمہارے لئے کوئی دیت نہیں؛ کیونکہ آغاز کرنے والا ہی جارح اور زیادتی کرنے والا ہے۔
حوالہ
1- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
2- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
3- الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
4- عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ.
5- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من قُتِلَ في عِمِّيّا، أو رِمِّيَاً يكون بينهم بحَجَرٍ، أو بِسَوْطٍ، فَعَقْلُهُ عَقْلُ خطإ، ومن قَتَلَ عَمْدَاً فَقَوَدُ يَدَيْهِ، فمن حَالَ بينه وبينه فعليه لعنة الله، والملائكة والناس أجمعين».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے (اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی ہو گی۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قصاص جان کے بدلے جان کی ہوگی اور جو کوئی اس (قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی باہمی دھکم پیل، یا کسی غیر مبینہ حالت کی وجہ سے، یا کسی اور خفیہ سبب جیسے ہجوم وغیرہ کی وجہ سے مارا جائے اور اس کے قاتل کی نشاندہی نہ ہو سکے تو اس کو قتلِ خطا پر منحصر کیا جائے گا اور اس کی قتلِ خطا والی دیت مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ اور جس کو عمداً (قاتل کی نشاندہی کے ساتھ) قتل کیا گیا ہو تو اس کے ہاتھوں کو سزا دی جائے گی۔ یعنی اس کو جان سے مار کر قصاص لیا جائے گا یا اس کے قتل کا فیصلہ اس کی جان کو قصاص بنایا جائے گا۔ ہاتھ کی تعبیر جان سے مجازی طور پر کی گئی ہے۔ یا پھر اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اس کے ہاتھ نے جو کام کیا ہے اس کی سزا ملے گی اور وہ قتل ہے بایں معنی قود (سزا) کی اضافت ید (ہاتھ) کی طرف مجازی طور پر کی گئی ہے۔ اور جو شخص قاتل اور سزا کے درمیان حائل ہو جب کہ مقتول کے ورثاء اس سے قصاص کے خواہش مند ہوں تو مانو اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ اس کے اس قبیح جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ توبہ قبول کرتا ہےاور نہ ہی اس کا کوئی فرض اور نفل قبول کرتا ہے۔
حوالہ
- سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت
- السنن الصغرى للنسائي، أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، الطبعة: الثانية، 1406 – 1986.
- سنن ابن ماجه، ابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي- دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1428.
- توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
- تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان، مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى.
- فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427.
- ذخيرة العقبى في شرح المجتبى، المؤلف: محمد بن علي بن آدم الإثيوبي الوَلَّوِي، دار المعراج الدولية للنشر ودار آل بروم للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى 1416 هـ - 1996 م.
- صحيح الجامع الصغير وزياداته، الألباني، دار المكتب الإسلامي.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ قَتَل مؤمِنا متعمِّدًا دُفِعَ إلى أولياء المَقْتول، فإنْ شاءوا قَتَلوا، وإنْ شاءوا أَخَذوا الدِّيَة، وهي ثلاثون حِقَّة، وثلاثون جَذَعَة، وأَرْبعون خَلِفَة، وما صالحوا عليه فهو لهم، وذلك لتَشْدِيد العَقْل».
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کوجان بوجھ کرقتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگروہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کرلیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
یہ حدیث ان احکام کو بیان کر رہی ہے جو کسی مومن کو عمداً قتل کرنے کی وجہ سے لاگو ہوتے ہیں۔اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ مقتول کے ورثاء کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کریں تو حاکم اس کو قتل کرے گا اور یہ اس کے عمل کی جنس کے حساب سے اس کی سزا ہو گی۔ یہاں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ حدیث میں مذکور دیت پر راضی ہو جائیں (تو اس کے مطابق فیصلہ ہو گا)اور وہ دیت تیس حقہ،تیس جذعہ اور تیس حاملہ اونٹیاں ہوں گی کہ جن کے پیٹوں میں بچے موجود ہوں۔ اسی طرح حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء اس سے زائد کسی چیز کے ساتھ مصالحت پر راضی ہوں تو لے سکتے ہیں۔ اس حدیث میں جو دیت بیان کی گئی ہے (قتل عمد کی دیت) یہ انتہائی سخت دیت ہے کیونکہ اس میں قتل کی نیت اور ارادہ پایا جاتا ہے۔
حوالہ
- سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
- سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره ، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة: الثانية، 1395 هـ.
- سنن ابن ماجه, ابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي, الناشر: دار إحياء الكتب العربية، فيصل عيسى البابي الحلبي.
- مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
- توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
- تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م.
- حاشية السندي على سنن ابن ماجه = كفاية الحاجة في شرح سنن ابن ماجه, محمد بن عبد الهادي التتوي، أبو الحسن، نور الدين السندي, دار الجيل - بيروت، بدون طبعة.
- مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2002م.
- التَّحبير لإيضَاح مَعَاني التَّيسير, محمد بن إسماعيل الصنعاني المعروف بالأمير, حققه محَمَّد صُبْحي بن حَسَن حَلّاق, مَكتَبَةُ الرُّشد، الرياض - المملكة الْعَرَبيَّة السعودية, الطبعة: الأولى، 1433 هـ - 2012 م.
- الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني ومعه بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني, أحمد بن عبد الرحمن بن محمد البنا الساعاتي, دار إحياء التراث العربي, الطبعة: الثانية.
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر : دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ - 1431 هـ.
- نيل الأوطار، للشوكاني. الناشر: دار الحديث، مصر. الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1993م.
- إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للشيخ الألباني. الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت. الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب يوم الفتح فقال: «ألا إن كل مَأْثُرَة كانت في الجاهلية من دم أو مال تُذْكَرُ وَتُدْعَى تحت قدمي، إلا ما كان من سِقَايَةِ الحاج، وسِدَانَة البيت» ثم قال: «ألا إن دِيَةَ الخطإ شِبْه العمد ما كان بالسَّوْطِ والعَصَا مِائة من الإبل: منها أربعون في بُطُونِهَا أولادُهَا».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: ”خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے"۔ اس کے بعدآپ ﷺ نےفرمایا کہ " آگاہ ہو جاؤ کہ قتلِ خطا کی دیت قتلِ عمد کی سی ہےجو کہ کوڑے یا لاٹھی سے واقع ہو۔ اس کی دیت سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہونی چاہیے جن کے پیٹ میں ان کے بچے ہوں“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے آگاہ کیا کہ اہل جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان فخریہ باتیں باطل و ساقط ہیں ماسوا حاجیوں کو پانے پلانے اور بیت اللہ کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال کے۔ یعنی یہ دونوں ویسے ہی باقی ہیں جیسے تھیں۔
زمانۂ جاہلیت میں بیت اللہ کی دیکھ بھال بنو عبد الدار کے پاس تھی اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس پر باقی رکھا۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی دیتِ مغلظہ ہے جو کہ سو اونٹ ہوتی ہے جن میں سے چالیس حاملہ ہوتے ہیں۔ قتلِ شبہ عمد سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی ایسے آلے سے مارے جس سے عموماً قتل واقع نہ ہوتا ہو جیسے کوڑا اور لاٹھی (اور اس طرح سے مارنے سے آدمی مر جائے)۔
حوالہ
سنن أبي داود، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد-الناشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي-الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
سنن للنسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، الناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب،الطبعة: الثانية، 1406 – 1986.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام،محمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، القاهرة، الطبعة الأولى، 1427هـ.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام ، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423.
منحة العلام شرح بلوغ المرام، عبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428.
بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهري-الناشر: دار الفلق، الرياض، الطبعة: السابعة، 1424 هـ.
سبل السلام، محمد بن إسماعيل الصنعاني، الناشر: دار الحديث.
عون المعبود شرح سنن أبي داود، محمد أشرف الصديقي، العظيم آبادي،الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة: الثانية، 1415 هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «هذه وهذه سواءٌ». يعني: الْخِنْصَر وَالْإِبْهَام.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ اور یہ (دیت میں) برابر ہیں“ یعنی چھنگلی اور انگوٹھا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
دونوں ہاتھوں میں دس انگلیاں ہوتی ہیں۔ کسی کی انگلی کو اگر کوئی مجرم کاٹ دے، تو اس کی دیت کامل دیت کا دسواں حصہ (دس اونٹ) ہے۔ اس سلسلے میں انگلیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ پس چھوٹی چھنگلی جو ہتھیلی کے بغل میں ہوتی ہے اور انگوٹھا جس کا مٹھی باندھنے اور پکڑنے وغیرہ میں اہم کردار ہوتا ہے، دونوں دیت کی مقدار میں برابر ہیں اور دونوں ہاتھوں کی مجموعی دسوں انگلیوں پر کامل دیت (سو اونٹ) ادا کرنی ہوگی۔
اور دونوں پیر، دونوں ہاتھوں اور انگلیوں کی طرح ہیں۔ گرچہ ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر انگلی کا اپنا الگ کردار ہے، جو دوسری سے ادا نہیں ہو سکتا۔ لیکن سب کی دیت برابر ہے۔ سچ مچ اللہ حکیم و خبیر ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى 1422هـ.
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، محمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، القاهرة، الطبعة الأولى، 1427هـ.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423.
بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري - الناشر: دار الفلق - الرياض - الطبعة: السابعة، 1424 هـ.
سبل السلام، محمد بن إسماعيل الصنعاني، الناشر: دار الحديث.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «دِيَة المُعَاهِدِ نصف دِيَة الحُرِّ».
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مُعاہِد کی دیت آزاد (مسلمان) کی دیت کا نصف ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اہلِ کتاب میں سے کسی فرد کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کا نصف ہوتی ہے چاہے وہ ذمی ہو جسے عقدِ ذمہ کے تحت اس شرط پر مسلمانوں کےعلاقے میں رہنے کی اجازت دی گئی ہو کہ وہ جزیہ ادا کرے گا اور دینِ اسلام کے احکام کی پاسداری کرے گا یا پھر وہ معاہِدْ ہو جس کے ساتھ صلح طے پا گئی ہو اور وہ اپنے علاقے میں رہائش پذیر ہو یا پھر مستامن ہو یعنی ایسا کافر ہو جو مسلمانوں کے علاقے میں حصولِ امان کے بعد تجارت وغیرہ کے لیے آیا ہو کیونکہ اس بات میں یہ سب شریک ہیں کہ ان کی جان کی حفاظت واجب ہے۔
ان کے جراحات کی بھی دیت ہوتی ہے جس طرح مسلمانوں کی جراحات کی دیت ہوتی ہے۔ کیونکہ جرح (زخم) قتل کا تابع ہوتا ہے۔چنانچہ اہل کتاب میں سے مرد کی دیت پچاس اونٹ اور عورت کی دیت پچیس اونٹ ہوں گے کیونکہ عورت کی دیت مرد کی دیت کا نصف ہوتی ہے۔
جب کہ حربی کافر کی نہ تو قصاص کی شکل میں کوئی ضمانت ہے اور نہ ہی دیت کی شکل میں۔
حوالہ
سنن أبي داود، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
سنن الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2) ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3) وإبراهيم عطوة عوض المدرس في الأزهر الشريف (جـ 4، 5) الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م.
سنن للنسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، الناشر: مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب،الطبعة: الثانية، 1406 – 1986.
سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام ، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423.
منحة العلام شرح بلوغ المرام، عبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428.
بلوغ المرام من أدلة الأحكام، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، تحقيق وتخريج وتعليق: سمير بن أمين الزهيري-الناشر: دار الفلق – الرياض-الطبعة: السابعة، 1424 هـ.
سبل السلام، محمد بن إسماعيل الصنعاني، الناشر: دار الحديث.
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل- محمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش،الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت،الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com