عن عبد الله بن عباسٍ رضي الله عنهما قال: بلغَ عمرَ رضي الله عنه أن فلانًا باعَ خمرًا. فقال: قاتلَ الله فلانًا! ألم يعلم أن رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: "قاتلَ الله اليهودَ، حُرِّمت عليهم الشُّحومُ، فجَمَلُوها، فباعُوها".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فلاں کو اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کرے! کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ایک شخص نے حیلہ سازی کے ارادے سے شراب فروخت کرکے نفع خوری کی تاہم اس نے اس کو پیا نہیں۔
ایسی حیلہ سازی بالکلیہ حرام ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ویسی ہی بد دعا دی، جیسی نبی ﷺ نے حیلہ سازی کرنے والے یہودیوں کو دی تھی۔ نیز عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو برباد کردے، کیا اس کو معلوم نہیں کہ حیلہ سازی کرنا حرام ہے؛ کیوں کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ بازی ہے اور اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انھوں نے اس سے نفع خوری کے لیے حیلہ سازی کا سہارا لیا؛ کیوں کہ انھوں نے چربی کی صفت و کیفیت میں تبدیلی کردی، اس کو پگھلایا اور پھر اس کو فروخت کرتے ہوئے اس کی قیمت کو کھایا اور -حیلہ سازی اور دھوکہ بازی اپناتے ہوئے- انھوں نے کہا: "ہم نے حرام کردہ چربی تونہیں کھائی" اور اس گمان میں رہے کہ وہ اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور اللہ انھیں اس چال بازی کا بدلہ دینے واﻻ ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر بدمشق الطبعة الأولى1381هـ.
تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: سُئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخمر تُتَّخَذُ خَلًّا؟ قال: «لا».
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شراب کا حکم دریافت کیا گیا، جسے اس وقت تک رکھا جائے کہ وہ سرکے میں تبدیل ہوجائے۔ یہ شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔
اسی کے مطابق اگر شراب کو کسی بھی طریقہ سے سرکے میں تبدیل کردیا جائے؛ چاہے اس میں روٹی، پیاز، خامرہ (انزیم) یا پتھر اور اس طرح کی کوئی شے ڈالی جائے یا اسے سایہ سے دھوپ میں لاکر رکھا جاۓ یا اس کے برعکس دھوپ سے سایے میں لاکر رکھا جاۓ یا اسے اور کسی چیز کے ساتھ ملادیا جائے، ان ساری صورتوں میں وہ اپنی اصل حرمت پر باقی رہے گی اور اس تصرف وتبدیلی سے اس کا حکم تبدیل نہیں ہوگا۔ تاہم اگر کسی کے عمل دخل کے بغیر از خود سرکہ میں تبدیل ہوجائے تو اس صورت میں وہ پاک اور مباح ہے۔
حوالہ
- صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
- سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث, بدون طبعة وبدون تاريخ.
- توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م
- نيل الأوطار, محمد بن علي بن محمد بن عبد الله الشوكاني اليمني, تحقيق: عصام الدين الصبابطي, دار الحديث، مصر, الطبعة: الأولى، 1413هـ - 1993م.
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر : دار ابن الجوزي الطبعة : الأولى ، 1427 هـ - 1431 هـ
- فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى, اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء, جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش, الناشر: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء - الإدارة العامة للطبع – الرياض.
- تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م.
- فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427ه.
- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية. الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «لقد أَنْزَلَ الله الآية التي حَرَّمَ الله فيها الخمر، وما بالمدينة شَرَابٌ يُشْرَبُ إلا من تَمْرٍ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: "اللہ تعالی نے جب وہ آیت اتاری، جس میں شراب حرام کی گئی ہے، تو اس وقت مدینے میں جو بھی شراب پی جاتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے شراب کی حرمت کی آیت نازل کی، اس وقت مدینہ منورہ میں جتنی طرح کی شراب بنتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شراب کے حرام ہونے کی علت اس کا نشہ آور ہونا ہے، قطع اس سے کہ وہ کس چیز سے بنی ہے۔
حوالہ
- تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى 1427 – 2006 م
- فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - 2006 م
- توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م
- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م
- صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي. ط1 1428هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وكل مُسْكِرٍ حرام، ومن شرِب الخمر في الدنيا فمات وهو يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ، لَمْ يَشْرَبْهَا في الآخرة».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا"۔
رواه مسلم وأخرج البخاري الجملة الأخيرة منهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ عقل کو غائب کر دینے والی ہر چیز خمر اور نشہ آور شے ہے۔ خواہ کھانے کی چیز ہو، پینے کی چیز ہو، سونگھنے کی چیز ہو یا کچھ اور۔ ساتھ ہی یہ کہ نشہ لانے والی اور عقل کو غائب کرنے والی ہر چیز کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے منع کیا ہے۔ کم ہو یا زیادہ۔ جس نے کسی بھی نشہ آور شے کا استعمال پابندی سے کیا اور اس سے توبہ کیے بغیر دنیا سے رخصت ہوگیا، تو وہ اللہ کے اس عقاب کا مستحق ہوگیا کہ جنت میں اسے شراب پینے سے محروم رکھا جائے۔
فوائد
- شراب کو حرام قرار دیے جانے کی علت اس کا نشہ آور ہونا ہے۔ لہذا ہر نشہ آور شے حرام ہے۔
- اللہ تعالی نے شراب کو اس لیے حرام قرار دیا، کیوں کہ اس میں بڑے بڑے نقصانات اور مفاسد مضمر ہیں۔
- جنت کے اندر شراب نوشی کمال لذت اور تمام نعمت کی دلیل ہوگی۔
- جو دنیا میں خود کو شراب نوشی سے نہیں روکے گا، اللہ اسے جنت کی شراب سے محروم رکھے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کا عمل رہتا ہے۔
- موت سے پہلے جلد از جلد گناہوں سے توبہ کر لینے کی ترغیب۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 104) (5575).
صحيح مسلم (3/ 1587) (2003).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 519).
فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 418).
توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (6/ 307).
معالم السنن، وهو شرح سنن أبي داود، للخطابي (4/ 264).
الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني، للساعاتي (16/ 116).
فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي (5/ 30).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (6/ 2382).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن وائل الحضرمي أن طارق بن سويد الجعفي سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الخمر، فَنَهَاهُ -أو كره- أن يَصْنَعَهَا، فقال: إنما أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ، فقال: «إنه ليس بِدَوَاءٍ، ولكنه دَاءٌ».
وائل حضرمی سے روایت ہے کہ طارق بن سوید جعفی نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اس سے منع کیا یا اسے بنانے کو ناپسند کیا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ میں تو بس دوا کے لیے شراب بناتا ہوں، تو آپ نے فرمایا : "وہ دوا نہیں، بلکہ بیماری ہے"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پینے کی بجائے دوا کے لیے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ یہ شفا نہيں بلکہ خود بیماری ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شراب حرام ہے اور کئی طرح کی بیماریاں پیدا کرتی ہے نیز اس میں کسی طرح کا کوئی فائدہ نہیں ہے، لہذا اسے تلف کر دینا اور بہا دینا ضروری ہے۔
حوالہ
- تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى، 1427 – 2006 م.
- فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى، 1427 - 2006 م.
- توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.
- صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَريِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى اليَمَنِ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ تُصْنَعُ بِهَا، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟، قَالَ: «البِتْعُ وَالمِزْرُ»، فَقِيلَ لِأَبِي بُرْدَةَ: مَا البِتْعُ؟ قَالَ: نَبِيذُ العَسَلِ، وَالمِزْرُ: نَبِيذُ الشَّعِيرِ، فَقَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» خرجه البخاري.
وَخَرَّجَهُ مُسْلِمٌ وَلَفْظُهُ: قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اَلله أَنَا وَمُعَاذٌ إِلَى اَليَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولُ اَللَّهِ! إِنَّ شَرَابًا يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا يُقَال لَهُ: المِزَرُ مِنَ الشَّعِيرِ، وَشَرَابٌ يُقَالُ لَهُ: البِتْعُ مِنَ العَسَلِ، فَقَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ».
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «فَقَالَ: كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ».
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «وَكَانَ رَسُولُ الله قَدْ أُعْطِيَ جَوَامِعَ الكَلِمِ بِخَوَاتِمِهِ، فَقَالَ: أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ أَسْكَرَ عَنْ الصَّلَاةِ».
ابو بردہ اپنے والد ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے وہاں بنائی جانے والی مشروبات کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا : وہ کیا ہیں؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ بتع اور مزر۔ ابو بردہ سے پوچھا گیا کہ ”بتع“ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ شہد سے تیار کی گئی شراب اور ”مزر“ جَو سے تیار کی ہوئی شراب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جواب میں فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کو امام مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔ مسلم کے الفاظ ہيں: انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا۔ لہذا میں نے عرض کیا: اے اللہ رسول! ہمارے علاقے میں جَو سے ایک شراب بنتی ہے، جسے مِزر کہا جاتا ہے اور شہد سے ایک شراب بنتی ہے، جسے بِتع کہا جاتا ہے۔ آپ نے جواب دیا : "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔" مسلم کی ایک روایت میں ہے: "جو چیز نشے میں ڈال کر نماز سے غافل کر دے، وہ حرام ہے۔" مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے: "اللہ کے رسول ﷺ کو گفتگو کا اختتام جامع ترین الفاظ میں کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔ فرمایا: میں ہر ایسی نشہ آور شے کے استعمال سے منع کرتا ہوں، جو نماز سے غافل کردے"۔
اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہےدرجہصحيح
تشریح
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو یمن بھیجا۔ چناں چہ انھوں نے وہاں بننے والی کچھ مشروبات کے بارے میں پوچھا کہ وہ حلال ہیں یا حرام، تو آپ نے ان کے بارے میں استفسار کیا۔ چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان مشروبات یعنی بِتع سے مراد شہد سے بنی ہوئی نبیذ ہے اور مِزر سے مراد جَو سے بنی ہوئی نبیذ ہے۔ لہذا اللہ کے رسول ﷺ نے، جنھیں جامع ترین الفاظ میں بات رکھنے کی صلاحیت دی گئی تھی، فرمایا: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔"
فوائد
- نبیذ: وہ پانی جس میں کھجور، شہد یا جَو وغیرہ ڈالا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے اندر ان چيزوں کا ذائقہ اور مٹھاس آ جاتا ہے۔ کبھی کبھی خمیر ہو کر اس میں نشہ بھی آ جاتا ہے۔
- یہ حدیث تمام طرح کی نشہ آور اشیا کے حرام ہونے کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
- ضروری مسائل کے بارے میں پوچھنے کی اہمیت۔
- شراب سب سے پہلے نماز میں حاضر ہوتے وقت حرام قرار دی گئی، جب کچھ مہاجروں نے نماز پڑھی اور قرآن پڑھنے میں غلطیاں کر ڈالیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: (اے ایمان والو! جب تم نشے میں ہو تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو، ہاں اگر راہ چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے۔) اس وقت اللہ کے رسول ﷺ کا منادی یہ اعلان کرتا تھا: کوئی نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے نہ آئے۔ بعد ازاں اللہ نے شراب کو مطلقا حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا: (اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔ شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آجاؤ۔)
- اللہ تعالی نے شراب کو اس لیے حرام قرار دیا کیوں کہ اس میں بڑے بڑے نقصانات اور مفاسد مضمر ہیں۔
- شراب کو حرام قرار دینے کی وجہ اس کے نشہ آور ہونے کا وصف ہے۔ لہذا نبیذ کے اندر نشہ آور ہونے کا وصف آجائے، تو حرام ہو جاتی ہے اور یہ وصف نہ ہو، تو حلال رہتی ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 104) (5575).
صحيح مسلم (3/ 1587) (2003).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 519).
فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 418).
توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (6/ 307).
معالم السنن، وهو شرح سنن أبي داود، للخطابي (4/ 264).
الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني، للساعاتي (16/ 116).
فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي (5/ 30).
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (6/ 2382).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com