حدیث میں بیان ہے کہ خباب بن ارت کو سات دفعہ (بطور علاج) داغ لگایا گیا تھا۔ ان کے کچھ دوست احباب ان کی عیادت کو آئے تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ صحابہ جو ان سے پہلے وفات پا چکے ہیں انہوں نے دنیا کی لذات سے کچھ فائدہ اٹھایا ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے ان کے لیے جو آخرت میں اجر و ثواب تیار کر کے رکھا گیا ہے اس میں کچھ کمی ہو۔ جب کہ انہیں بہت زیادہ مال ملا ہے جسے محفوظ کرنے کے لیے انہیں سوائے اس کے کوئی جگہ نہیں ملتی کہ اس سے عمارتیں بنائیں۔ انہوں نے مزید فرمایا: اگر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں موت کی دعا مانگنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا۔ سوائے اس وقت کے جب دین کے سلسلے میں فتنوں میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اس صورت میں آدمی موت کی دعا کر سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ پھر فرمایا کہ انسان جو کچھ خرچ کرتا ہے اس پر اسے اجر ملتا ہے ماسوا اس خرچ کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے یعنی عمارت کی تعمیر پر۔ کیونکہ عمارت کے سلسلے میں اگر انسان صرف بقدر کفایت پر انحصار کر لے تو اسے زیادہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ جب کہ یہ مال جو وہ زائد از ضرورت عمارت پر خرچ کرتا ہے اس پر انسان کو کوئی اجر نہیں ملتا ماسوا اس عمارت کے جسے وہ فقراء کے لئے بناتا ہے تاکہ وہ اس میں سکونت اختیار کریں یا پھر وہ عمارت جس کی آمدن کو وہ اللہ کے راستے میں وقف کر دیتا ہے یا اس طرح کی کوئی عمارت۔ صرف اس صورت میں اسے اجر ملتا ہے۔تاہم ایسی عمارت جسے وہ خود اپنی سکونت کے لیے بنائے اس میں اسے کوئی اجر نہیں ملتا۔ داغ لگوانے کے سلسلے میں جو نہی وارد ہوئی ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جو یہ عقیدہ رکھے کہ داغ لگوانے میں شفاء ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ شفاء دینے والی ذات اللہ عزوجل کی ہے تو اس کے داغ لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یا پھر یہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو کسی اور طریقۂ علاج کو اختیار کرنے پر قادر ہو لیکن جلد بازی کرے اور اسے آخری طریقہ علاج کے طور پر استعمال نہ کرے۔
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. عمدة القاري شرح صحيح البخاري؛ تأليف بدر الدين العيني، تحقيق عبدالله محمود، دار الكتب العلمية-بيروت، الطبعة الأولى، 1421هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.