سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

طبِ نبوی

4 احادیث

ہم خبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گئے۔انہوں نے (بغرضِ علاج) سات داغ لگوا رکھے تھے۔

عن قيس بن أبي حازم، قال: دخلنا على خباب بن الأرت - رضي الله عنه - نعودُه وقد اكْتَوى سبعَ كَيّات، فقال: إن أصحابنا الذين سَلفوا مضوا، ولم تَنقصهم الدنيا، وإنّا أصبنا ما لا نجد له مَوضعاً إلا التراب ولولا أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهانا أن ندعوَ بالموت لدعوتُ به. ثم أتيناه مرة أخرى وهو يبني حائطاً له، فقال: إن المسلم ليُؤجَر في كل شيء يُنفقه إلا في شيء يجعلُه في هذا التراب.
قيس بن حازم رحمہ اللہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گئے۔ انہوں نے (بغرضِ علاج) سات داغ لگوا رکھے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے ساتھی جو پہلے وفات پا چکے وہ اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ہم نے (مال و دولت) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہمیں مٹی کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں ملتی۔ اگر نبی کریم ﷺ نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا۔ پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: مسلمان کو ہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے ماسوا اس خرچ کرنے کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے (عمارتیں وغیرہ بنواتا ہے۔)
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح

حدیث میں بیان ہے کہ خباب بن ارت کو سات دفعہ (بطور علاج) داغ لگایا گیا تھا۔ ان کے کچھ دوست احباب ان کی عیادت کو آئے تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ صحابہ جو ان سے پہلے وفات پا چکے ہیں انہوں نے دنیا کی لذات سے کچھ فائدہ اٹھایا ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے ان کے لیے جو آخرت میں اجر و ثواب تیار کر کے رکھا گیا ہے اس میں کچھ کمی ہو۔ جب کہ انہیں بہت زیادہ مال ملا ہے جسے محفوظ کرنے کے لیے انہیں سوائے اس کے کوئی جگہ نہیں ملتی کہ اس سے عمارتیں بنائیں۔ انہوں نے مزید فرمایا: اگر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں موت کی دعا مانگنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا۔ سوائے اس وقت کے جب دین کے سلسلے میں فتنوں میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اس صورت میں آدمی موت کی دعا کر سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ پھر فرمایا کہ انسان جو کچھ خرچ کرتا ہے اس پر اسے اجر ملتا ہے ماسوا اس خرچ کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے یعنی عمارت کی تعمیر پر۔ کیونکہ عمارت کے سلسلے میں اگر انسان صرف بقدر کفایت پر انحصار کر لے تو اسے زیادہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ جب کہ یہ مال جو وہ زائد از ضرورت عمارت پر خرچ کرتا ہے اس پر انسان کو کوئی اجر نہیں ملتا ماسوا اس عمارت کے جسے وہ فقراء کے لئے بناتا ہے تاکہ وہ اس میں سکونت اختیار کریں یا پھر وہ عمارت جس کی آمدن کو وہ اللہ کے راستے میں وقف کر دیتا ہے یا اس طرح کی کوئی عمارت۔ صرف اس صورت میں اسے اجر ملتا ہے۔تاہم ایسی عمارت جسے وہ خود اپنی سکونت کے لیے بنائے اس میں اسے کوئی اجر نہیں ملتا۔ داغ لگوانے کے سلسلے میں جو نہی وارد ہوئی ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جو یہ عقیدہ رکھے کہ داغ لگوانے میں شفاء ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ شفاء دینے والی ذات اللہ عزوجل کی ہے تو اس کے داغ لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یا پھر یہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو کسی اور طریقۂ علاج کو اختیار کرنے پر قادر ہو لیکن جلد بازی کرے اور اسے آخری طریقہ علاج کے طور پر استعمال نہ کرے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. عمدة القاري شرح صحيح البخاري؛ تأليف بدر الدين العيني، تحقيق عبدالله محمود، دار الكتب العلمية-بيروت، الطبعة الأولى، 1421هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أنَّ رجلًا أتى النبيَّ صلى الله عليه وسلم فقال: أخي يَشْتكي بطنَه، فقال: «اسْقِه عَسَلًا» ثم أتى الثانيةَ، فقال: «اسْقِه عَسَلًا» ثم أتاه الثالثةَ فقال: «اسْقِه عَسَلًا» ثم أتاه فقال: قد فعلتُ؟ فقال: «صدق اللهُ، وكذب بطنُ أخيك، اسْقِه عَسَلًا» فسقاه فبرأ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو پیٹ کی بیماری لاحق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پھر دوسری بار آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پھر (تیسری بار) آیا اور عرض کیا کہ میں نے پلایا (لیکن فائدہ نہیں ہوا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سچا ہے، اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ۔ چنانچہ اس نے پھر شہد پلایا، تو وہ تندرست ہوگیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک آدمی نبیﷺکے پاس آیا اور اس نے آپﷺ کو بتایا کہ اس کا بھائی پیٹ کے مرض کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ یہ اسہال کا مرض تھا جیسا کہ اسی حدیث کی دیگر روایات سے واضح ہوتا ہے۔ نبیﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کو شہد پلائے۔ اس نے اسے شہد پلایا، لیکن وہ صحت یاب نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ آپﷺ نے دوبارہ اسے حکم دیا کہ وہ اسے شہد پلائے۔ اس نے پھر پلایا لیکن اسے کچھ افاقہ نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو صورت حال بتائی۔ آپﷺ نے تیسری مرتبہ پھر اسے حکم دیا کہ اسے شہد پلائے۔ اس نے پھر شہد پلایا، لیکن وہ شفایاب نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپﷺنے فرمایا: ”اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ اسے شہد پلاؤ“۔ اس میں دو احتمالات کا امکان ہے: پہلا احتمال: یہ کہ نبیﷺ نے یہ بات غیبی طور پر بتائی ہو، جس سے آپ ﷺ کو اللہ تعالی نے مطلع کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس کی شفا شہد میں ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے بار بار اسے شہد پلانے کا حکم دیا؛ تا کہ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ ظاہر ہو جائے۔ دوسرا احتمال: ہو سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالی کے اس قول کی طرف اشارہ ہو کہ: ﴿فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ﴾ ”اس (شہد) میں لوگوں کے لیے شفا ہے“، اور آپ ﷺ کو اس بات کا علم ہو کہ اس قسم کے مرض کی شفا شہد ہی میں ہے۔ جب آپ ﷺنے چوتھی دفعہ شہد پلانے کا حکم دیا، تو اس آدمی نے جا کر اپنے بھائی کو شہد پلایا، جس سے وہ اللہ کے حکم سے شفایاب ہو گیا۔ اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ تمام حالات اور ہر بیماری سے شہد کی ہر قسم کے ذریعہ شفا ملے گی البتہ ہر بیماری کی ایک دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہوجاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم سے شفایاب ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم: 2204)

حوالہ

صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. كشف المشكل من حديث الصحيحين، لجمال الدين أبي الفرج عبد الرحمن بن علي بن محمد الجوزي، المحقق: علي حسين البواب، الناشر: دار الوطن – الرياض. شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م. معجم اللغة العربية المعاصرة، للدكتور أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى، 1429 هـ - 2008 م. - صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة : علوي بن عبد القادر السَّقَّاف دار الهجرة الطبعة : الثالثة ، 1426 هـ - 2006 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

بخار جہنم کی بھاپ سے ہوتا ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔

عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الحُمَّى من فَيْحِ جهنم فأبردوها بالماء».
اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ سے ہوتا ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے خبر دی کہ بخار جہنم کی گرمی کی شدت سے ہے۔ چنانچہ مریض کو جو گرمی محسوس ہوتی ہے وہ اسی کی وجہ سے ہوتی ہے چنانچہ اس گرمی کو پانی سے زائل کرے۔

حوالہ

صحيح البخاري -أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة الجعفي البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر -الناشر : دار طوق النجاة -الطبعة : الأولى 1422هـ. صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. رياض الصالحين، تأليف محيي الدين النووي، تحقيق عصام موسى هادي، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بدولة قطر. شرح رياض الصالحين، المؤلف : محمد بن صالح بن محمد العثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426 هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د/ مصطفى الخن، د/ مصطفى البغا، محيي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، ط:الرابعة عشر1407 كنوز رياض الصالحين، تأليف حمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، ط1-1430ه. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، تأليف محمد علي بن محمد علان، دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت - لبنان، الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، أن أبا هِنْد، حَجَمَ النبي صلى الله عليه وسلم في اليَافُوخ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «يا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَانْكِحُوا إلَيْهِ» وقال: «وإنْ كان في شيء مِمَّا تَدَاوُون به خيرٌ فَالحِجَامة».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کے سر کی تالو میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو اور فرمایا اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانے ہی میں ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے ابوہند رضی اللہ عنہ کے ہاں اپنے سر میں پچھنا لگوایا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ (نکاح کے لیے) حسب و نسب اور پیشے میں کفؤ (برابری) کا اعتبار نہیں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے ایک انصاری قبیلہ (عرب کا ازدی قحطانی النسل قبیلہ) کو حکم دیا کہ وہ ابوہند سے (اپنی بچیوں کی) شادی کریں اور ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے انہیں نکاح کا پیغام دیں اور ابوہند بنی بیاضہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھے اور وہ غلامی کی وجہ سے لاحق ایذا و مصیبت کے ساتھ پیشہ کے اعتبار سے حجام (پچھنا لگانے کا کام کرتے) تھے اور عرب کے نزدیک پچھنا لگانا بہت حقیر و گھٹیا پیشہ متصور تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے حسب و نسب یا پیشہ میں کفو و برابری کا اعتبار نہ کیا اور دیگر نصوص میں یہ دلیل ملتی ہے کہ دینداری اور اچھے اخلاق میں کفو کو ملحوظ رکھا جائے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے علاج معالجہ میں سب سے بہتر علاج، پچھنا لگانا ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت. صحيح أبي داود – الأم, أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين الألباني, مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت, الطبعة: الأولى، 1423 هـ - 2002 م. عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته, محمد أشرف بن أمير بن علي بن حيدر الصديقي العظيم آبادي, دار الكتب العلمية – بيروت, الطبعة: الثانية، 1415 هـ. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 ه - 2006 م. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي الطبعة: الأولى، 1427 هـ - 1431. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م. فتاوى اللجنة الدائمة -المجموعة الأولى-: اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء - جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com