اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ: اصلا رشتہ جوڑنے اور رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا وہ نہيں ہے، جو بھلائی کے بدلے میں بھلائی کرے۔ بلکہ اصل رشتہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑنے کا کام کرے۔ اس کے رشتے دار اس کے ساتھ برا کریں، تب بھی وہ ان کے ساتھ اچھا کرے۔
- شریعت کی نظر میں معتبر صلہ رحمی یہ ہے کہ قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے، ظلم کرنے والے کو معاف کیا جائے اور نہ دینے والے کو دیا جائے۔ بھلائی کے بدلے میں بھلائی کرنا اصل صلہ رحمی نہیں ہے۔
- صلہ رحمی کا مطلب ہے جہاں تک ہو سکے، رشتے داروں کو خیر پہنچانا۔ مثلا مالی مدد کرنا، ان کے حق میں دعا کرنا، ان کو بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا وغیرہ۔ اسی طرح جہاں تک ہو سکے ان کو شر سے بچانا۔
صحيح البخاري (8/ 6) (5991). منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم (5/ 242). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 397). نزهة المتقين، لمصطفى الخن وغيره (1/ 311). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 190).