عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ”رشتہ جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں رشتہ جوڑے، بلکہ رشتہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے“۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ: اصلا رشتہ جوڑنے اور رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا وہ نہيں ہے، جو بھلائی کے بدلے میں بھلائی کرے۔ بلکہ اصل رشتہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑنے کا کام کرے۔ اس کے رشتے دار اس کے ساتھ برا کریں، تب بھی وہ ان کے ساتھ اچھا کرے۔
فوائد
- شریعت کی نظر میں معتبر صلہ رحمی یہ ہے کہ قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے، ظلم کرنے والے کو معاف کیا جائے اور نہ دینے والے کو دیا جائے۔ بھلائی کے بدلے میں بھلائی کرنا اصل صلہ رحمی نہیں ہے۔
- صلہ رحمی کا مطلب ہے جہاں تک ہو سکے، رشتے داروں کو خیر پہنچانا۔ مثلا مالی مدد کرنا، ان کے حق میں دعا کرنا، ان کو بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا وغیرہ۔ اسی طرح جہاں تک ہو سکے ان کو شر سے بچانا۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 6) (5991).
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم (5/ 242).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 397).
نزهة المتقين، لمصطفى الخن وغيره (1/ 311).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 190).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا». فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْصُرُهُ إِذَا كَانَ مَظْلُومًا، أَفَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ أَنْصُرُهُ؟ قَالَ: « تَحْجُزُهُ -أَوْ تَمْنَعُهُ- مِنَ الظُّلْمِ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! جب وہ مظلوم ہو گا، تب تو میں اس کی مدد کروں گا، لیکن یہ بتائیے کہ جب وہ ظالم ہو گا، تب میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے ظلم کرنے سے روکو گے -یا فرمایا کہ تم اسے ظلم کرنے سے منع کرو گے-، یہی اس کی مدد کرنا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو اور اسے بےیار و مددگار نہ چھوڑو؛ چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ جب وہ مظلوم ہو گا، تب تو میں اس سے ظلم کو دور کرکے اس کی مدد کروں گا، لیکن جب وہ دوسروں پر زیادتی کرتے ہوئے خود ظالم ہو گا، تو پھر میں اس کی مدد کیسے کروں گا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: تم اسے دوسروں پر ظلم کرنے سے روکو گے۔ یہی اس کی مدد کرنا ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري (3/ 128) (2443).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 589).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 326).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المؤمن الذي يخالط الناس، ويصبر على أذاهم خير من الذي لا يخالط الناس ولا يصبر على أذاهم».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مؤمن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے، جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر نہیں کرتا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان سے میل جول بڑھانے کی فضیلت کی دلیل ہے۔ بلاشبہ وہ مومن جو لوگوں کےمسائل کے تئیں انہماک کے ساتھ سرگرم عمل رہتا ہے، ان کے ساتھ میل جول اختیار رکھتا ہے اور اور انھیں نصیحت کرنے اور درست راہ دکھانے میں لاحق مصائب پر صبر و تحمل کا مظاہر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ میل ملاپ نہیں رکھتا، بلکہ ان کے اٹھنے بیٹھنے سے الگ رہتا ہے اور ان سے گوشۂ تنہائی کو ترجیح دیتا ہے یا انفرادی حیثیت سے اپنی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا۔
حوالہ
سنن الترمذي، لمحمد بن عيسى بن سَوْرة الترمذي، أبو عيسى، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر (جـ 1، 2)، ومحمد فؤاد عبد الباقي (جـ 3)، وإبراهيم عطوة عوض (جـ 4، 5)، ط شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر.
سنن ابن ماجه، لابن ماجة أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، ط دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
صحيح الجامع الصغير وزيادته، لأبي عبد الرحمن محمد ناصر الدين الألباني، ط المكتب الإسلامي.
توضيح الأحكام من بلوغ المرام، الشيخ عبد الله بن عبد الرحمن البسام، ط مكتبة الأسد الإسلامية، الطبعة الخامسة.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، الشيخ عبد الله بن صالح الفوزان، ط دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، الشيخ صالح الفوزان بن عبد الله الفوزان، طبعة الرسالة
فتح ذي الجلال والإكرام، الشيخ محمد بن صالح العثيمين، ط المكتبة الإسلامية، الطبعة الأولى.
سبل السلام بشرح بلوغ المرام، للإمام محمد بن إسماعيل الصنعاني، ط دار الحديث.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إنَّ الأشعريين إذا أرمَلُوا في الغَزْوِ، أو قَلَّ طعامُ عِيالِهم بالمدينةِ، جَمَعُوا ما كان عندهم في ثوبٍ واحدٍ، ثم اقتَسَمُوه بينهم في إناءٍ واحدٍ بالسَّوِيَّةِ، فَهُم مِنِّي وأنا مِنهُم".
ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”اشعری قبیلے کے لوگ جب کسی جنگ میں مفلس ہوجائیں یا پھر مدینہ میں ان کے پاس اپنے اہل و عیال کے لیے توشہ کم ہوجائے تو ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے اسے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں اور پھر اسے ایک برتن میں ڈال کر اپنے مابین برابر تقسیم کرلیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اشعری لوگ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلے کے لوگ ہیں۔ جب ان کے پاس کھانے کی کمی ہوتی یا پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد پر ہوتے تو اپنے کھانے کو اکٹھا کر کے برابر برابر باہم تقسیم کرلیتے ۔ اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ اس بات کے سزاوار ٹھہرے کہ ان کی رسول اللہ ﷺ کی طرف شرف و محبت کی نسبت ہو اور آپ ﷺ بھی انہی میں سے ہیں یعنی ایثار و فرمانبرداری کے عظیم اخلاقی صفت کی راہ پر گامزن ہیں۔
حوالہ
صحيح البخاري , ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار طوق النجاة, الطبعة: الأولى، 1422هـ.
صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت.
فتح الباري لابن حجر العسقلاني ,رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي- قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب- عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز.دار المعرفة, ط بدون, 1379ه.
شرح مسلم للنووي, دار إحياء التراث, ط2, 1392ه.
تطريز رياض الصالحين لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة , الطبعة: الأولى، 1423هـ.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي،الطبعة الأولى 1418ه.
شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة: 1426 هـ.
كنوز رياض الصالحين بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشرة, 1407ه.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بَلَغَهُ أن بني عمرو بن عوف كان بينهم شَرٌّ، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلح بينهم في أناس معه، فحُبِس رسول الله صلى الله عليه وسلم وحَانتِ الصلاة، فجاء بلال إلى أبي بكر رضي الله عنهما ، فقال: يا أبا بكر، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حُبِس وحَانت الصلاة فهل لك أن تَؤُمَّ الناس؟ قال: نعم، إن شِئت، فأقام بلال الصلاة، وتقدم أبو بكر فكبَّر وكبَّر الناس، وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي في الصفوف حتى قام في الصفِّ، فأخذ الناس في التَّصْفيقِ، وكان أبو بكر رضي الله عنه لا يَلْتَفِتُ في الصلاة، فلما أكثر الناس في التَّصْفيقِ الْتَفَتَ، فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأشار إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فرفع أبو بكر رضي الله عنه يَدَهُ فحمد الله، ورجع القَهْقَرَى وراءه حتى قام في الصف، فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى للناس، فلما فرغ أقبل على الناس، فقال: «أيها الناس، ما لكم حين نَابكم شيء في الصلاة أخذتم في التصفيق؟! إنما التصفيق للنساء. من نَابه شيء في صلاته فليَقُل: سبحان الله، فإنه لا يسمعه أحد حين يقول: سبحان الله، إلا التَفَتَ، يا أبا بكر: ما مَنَعَك أن تصلي بالناس حين أشَرْتُ إليك؟»، فقال أبو بكر: ما كان ينبغي لابن أبي قُحافة أن يصلي بالناس بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم .
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کو خبر ملی کہ عمرو بن عوف کی اولاد کےدرمیان کچھ جھگڑا ہے۔ چنانچہ رسول ﷺ چند لوگوںکے ساتھ ان کے درمیان مصالحت کرانے کی غرض سے تشریف لے گئے، رسول کریم ﷺ وہاں کچھ رکنا پڑا اور نماز کا وقت ہوگیا۔ تو بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابوبکر! رسول اللہ ﷺ وہاں رک گئے ہيں اور نماز کا وقت ہوگیا ہے، تو کيا آپ لوگوں کی امامت کرائیں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہتے ہو۔ بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے ليے اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور تکبير تحریمہ کہہ کر نیت باندھی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ صفوں کے درميان چلتے ہوئےتشریف لے آئے يہاں تک کہ (اگلی)صف ميں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ بحالت نماز کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ جب لوگوں کی تالیاں زیادہ ہوگئیں تو متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کھڑے ہیں۔ رسول ﷺ نے ان کی جانب اشارہ فرمایا (کہ نماز پڑھاتے رہيں)، ليکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھايا، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور الٹے پاؤں پیچھے چلے آئے یہاں تک کہ صف میں کھڑے ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: لوگو! تمھیں کیا ہے کہ جب تمہيں نماز میں کوئی نئی چیز پيش آتی ہے تو تم تالیاں بجانا شروع کرديتے ہو؟ تالیاں بجانا تو خواتین کے ليے (مشروع) ہے، جب نماز میں کسی کو کوئی نئی چیز پيش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے اس لیے کہ جو بھی اسے سبحان اللہ کہتے ہوئے سنے گا تو اس کی طرف متوجہ ہوگا۔ (پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا:) ’’اے ابو بکر! تمھیں جب میں نے اشارہ کر دیا تھا (کہ نماز پڑھاتے رہو) تو پھر تمھیں لوگوں کو نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟‘‘ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابو قحافہ کے بيٹے (ابو بکر) کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں لوگوں کو نماز پڑھائے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
رسول کریم ﷺ کو خبر ملی کہ عمرو بن عوف کی اولاد کےدرمیان کچھ اختلاف ہے۔ اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی ہے۔ آپ ﷺ بعض صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے، تو وہاں تاخير ہوگئي اور نماز کا وقت ہوگيا۔ وہ عصر کی نماز تھی جيسا کہ بخاری نے اپنی روايت ميں اس کی صراحت کی ہے۔ صحيح بخاری کی روايت کے الفاظ يہ ہيں: ”جب نماز عصر کا وقت ہوا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے (نماز پڑھانے کے ليے) کہا تو وہ آگے بڑھے“۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابوبکر! رسول اللہ ﷺ وہاں رک گئے ہيں اور نماز کا وقت ہوگیا ہے، تو کیا آپ لوگوں کی امامت کرائیں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہتے ہو۔ بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے ليے اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور تکبير تحریمہ کہہ کر نیت باندھی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ صفوں کے درميان چلتے ہوئے تشریف لے آئے۔ بخاري نے ایک روايت ميں یہ اضافہ کیا ہے: ”صفوں کو چيرتے ہوئے تشريف لائے“، يہاں تک کہ پہلی صف ميں کھڑے ہوگئے جيسا کہ صحيح مسلم کی روايت ميں ہے کہ صفوں کو چيرتے ہوئے آئے يہاں تک کہ اگلی صف ميں کھڑے ہوگئے، جب لوگوں کو نبی کريم ﷺ کی موجودگی کا علم ہوا تو وہ تالياں بجانے لگے کیونکہ وہ نبی کريم ﷺ کے پيچھے نماز پڑھنا پسند کرتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی تالياں سن رہے تھے ليکن اس کی وجہ کیا تھی؟ اس سے بے خبر تھے۔ اور وہ ادھر اُدھر متوجہ نہيں ہوتے تھے، کیونکہ انہيں علم تھا کہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ ہونا ممنوع ہے اور يہ شيطان کا بندے کی نماز ميں سے اچک لينا ہے جيسا کہ ترمذي وغيرہ ميں اس کا ذکر ہے، ليکن جب لوگوں نے بہت زیادہ تالیاں بجائیں تو ابو بکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور ديکھا کہ رسول کریم ﷺ تشریف لا چکے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے ان کی جانب اشارہ کیا کہ لوگوں کی امامت کراتے رہيں،جيسا کہ صحيح بخاری کی روايت ميں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر برقرار رہيں، ليکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھايا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ جو حسن معاملہ فرمايا تھا، اس پراللہ تعالیٰ کی حمد بيان کی، پھر وہ الٹے پاؤں چند قدم پیچھے آگئے یہاں تک کہ مقتديوں کی صف میں شامل ہوگئے، اور رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب اپنا رخ کیا اور ارشاد فرمایا: اےلوگو! تمھیں کیا ہے کہ جب تمہيں نماز میں کوئی نئی چیز پيش آتی ہے تو تم تالیاں بجانا شروع کرديتے ہو؟ تالیاں بجانا تو خواتین کے ليے (مشروع) ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ اگر نماز میں انھیں کوئی چیز پیش آجائے تو ان کے لیے کیا کرنا مسنون ہے، چنانچہ فرمايا: ”جب نماز میں کسی کو کوئی نئی چیز پيش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے اس لیے کہ جو بھی اسے سبحان اللہ کہتے ہوئے سنے گا تو اس کی طرف متوجہ ہوگا“۔ پھر فرمایا: ”اے ابو بکر! تمھیں جب میں نے اشارہ کر دیا تھا (کہ نماز پڑھاتے رہو) تو پھر تمھیں لوگوں کو نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟“ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابو قحافہ کے بيٹے (ابو بکر) کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں لوگوں کو نماز پڑھائے۔ يہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اللہ کے رسول ﷺ سے محبت اور آپ کی تعظيم وتوقير اظہار تھا۔
حوالہ
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر:1418 هـ - 1997م.
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ، الطبعة الرابعة عشر 1407هـ.
شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426هـ.
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي، نسخة الإلكترونية، لا يوجد بها بيانات نشر.
صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلاَةِ وَالصَّدَقَةِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «صَلاَحُ ذَاتِ البَيْنِ، فَإِنَّ فَسَادَ ذَاتِ البَيْنِ هِيَ الحَالِقَةُ».
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل چیز نہ بتاؤں؟» صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں!، آپ ﷺ نے فرمایا: «لوگوں کے درمیان صلح کروانا، کیونکہ آپسی بگاڑ ہلاک کر دینے والی چیز ہے۔»
رواه أبو داود والترمذيدرجہصحيح
تشریح
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا میں تمہیں بہت زیادہ نفلی روزوں، نمازوں اور صدقات کے ثواب سے بھی افضل چیز کے بارے میں بتاؤں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: آپس میں لڑنے والوں کے درمیان صلح کرانا، کیونکہ لڑائی جھگڑا لوگوں کے درمیان جدائی، وحشت، باہمی بغض ونفرت اور قطع تعلقی کا سبب بنتا ہے۔ درحقیقت آپسی بگاڑ سے پیدا ہونے والا بغض وہ خصلت ہے جو دین و دنیا کو اس طرح ہلاک اور جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے جس طرح استرا بالوں کو مونڈ دیتا ہے۔
فوائد
- نبی ﷺ کا یہ طریقہ تعلیم کہ آپ صحابہ سے سوال کرتے اور انہیں جواب جاننے کا شوق دلاتے۔
- طیبی نے فرمایا: اس میں لوگوں کے درمیان صلح کرانے اور آپسی بگاڑ سے بچنے کی ترغیب ہے؛ کیونکہ صلح کرانا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور مسلمانوں کے درمیان آپسی اتحاد کا ذریعہ ہے، اور آپسی بگاڑ دین میں ایک رخنہ ہے۔ چنانچہ جو شخص اس کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے اور اس بگاڑ کو دور کرتا ہے، وہ اس روزہ دار اور تہجد گزار سے بھی بلند درجہ پاتا ہے جو اپنی خاص عبادت میں مشغول رہتا ہے۔
حوالہ
سنن أبي داود (7/ 280) (4919).
سنن الترمذي (4/ 244) (2509).
تحفة الأحوذي (7/ 179).
شرح سنن أبي داود للعباد (559/ 32).
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com