سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو (یعنی اپنے نسب کا انکار نہ کرو)، جس نے اپنے باپ سے منہ پھیرا، اس نے کفر کیا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تَرْغَبُوا عن آبائكم، فمن رغب عن أبيه، فهو كفر».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو (یعنی اپنے نسب کا انکار نہ کرو)، جس نے اپنے باپ سے منہ پھیرا، اس نے کفر کیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جو شخص جان بوجھ کر حقیقی باپ سے اپنے نسب کا انکار کرتا ہے، وہ کفر اصغر کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس سے مراد حقیقی کفر نہیں ہے، جس کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہے گا؛ بلکہ یہ حقیقی کفر سے فروتر کفر ہے۔ اس پیرائے میں اس فعل کے حرام ہونے اوراس کی سخت قباحت کا بیان ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري -أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة الجعفي البخاري - تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر -الناشر : دار طوق النجاة -الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د/ مصطفى الخن، د/ مصطفى البغا، محيي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، ط: الرابعة عشر1407. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، تأليف محمد علي بن محمد علان. كنوز رياض الصالحين، تأليف حمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، ط1-1430ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. رياض الصالحين، تأليف محيي الدين النووي، تحقيق عصام موسى هادي، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بدولة قطر.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
لعان

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com