حدیث میں اس کام کی ممانعت کا بیان ہے جسے زمانہ جاہلیت میں لوگ کیا کرتے تھے یعنی اپنے حقیقی باپ کے بجائے کسی اور کے ساتھ اپنا نسب جوڑ دینا۔ انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنے اہلِ خاندان یعنی اپنے باپ، داد اور پردادا وغیرہ کی طرف نسبت کرے اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے حقیقی باپ کے بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے حالاں کہ اسے یہ بخوبی علم ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے۔ مثلاً اس کا باپ فلاں قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو اور وہ دیکھے کہ اس قبیلے میں دوسرے قبیلے کے مقابلے میں یہ نقص پایا جاتا ہے چنانچہ اس کی وجہ سے وہ دوسرے قبیلے کی طرف اپنی نسبت کر لے جو حسب کے اعتبار سے اعلی ہے تاکہ اپنے آپ سے اپنے قبیلے کے عیب کو دور کر سکے۔ ایسا کرنے والے شخص کے متعلق وعید ہے کہ وہ جنت سے محروم رہے گا۔
صحيح البخاري -أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة الجعفي البخاري - تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر -الناشر : دار طوق النجاة -الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د/ مصطفى الخن، د/ مصطفى البغا، محيي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، ط: الرابعة عشر1407. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، تأليف محمد علي بن محمد علان. كنوز رياض الصالحين، تأليف حمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، ط1-1430ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. رياض الصالحين، تأليف محيي الدين النووي، تحقيق عصام موسى هادي، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بدولة قطر.