سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہبہ اور عطیہ

10 احادیث

اگر تو اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا۔

عن أم المؤمنين ميمونة بنت الحارث رضي الله عنها : أنها أعتقت وَليدَةً ولم تستأذن النبي صلى الله عليه وسلم فلما كان يَومُها الذي يَدورُ عليها فيه، قالت: أشَعَرْتَ يا رسول الله، أني أعتقت وليدتي؟ قال: «أو فعلت؟» قالت: نعم. قال: «أما إنك لو أعطيتها أخوالك كان أعظم لأجرك».
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کر دی اور نبی کریم ﷺ سے (اس کی) اجازت نہیں لی۔ چنانچہ جب نبی کریم ﷺ کے ان کے پاس تشریف لانے (یعنی ان کی باری) کا دن ہوا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے محسوس کیا کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامووٗں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا چونکہ یہ جانتی تھیں کہ اللہ کے راستے میں ٖغلام آزاد کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس لیے انہوں نے اپنی ایک باندی کو آزاد کر دیا۔ لیکن اس کی خبر نبی ﷺ كو نہیں دی تھی یا آپ سے اس کو آزاد کرنے کی اجازت نہیں مانگی تھی۔ لہٰذا جب ان کی باری تھی، تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتلادیا۔ آپ نے پوچھا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ میمونہ رضى الله عنها نے آپ کی رائے لیے بنا جو کچھ کیا تھا اس پر آپ نے کوئی نکیر نہیں فرمائی، صرف اتنا فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامؤوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے زیادہ ثواب کا باعث ہوتا“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ: تو نے اچھا کیا، لیکن اگر تو اسےبنی ہلال کے اپنے مامؤوں کو ہبہ کردیتی تو یہ زیادہ ثواب کا باعث ہوتا اور بہتر ہوتا، اس لئے کہ اس میں اپنے قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنے کے ثواب کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی ثواب ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - كنوز رياض الصالحين»، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى1430ه مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - أبو الحسن عبيد الله المباركفوري - إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء - الجامعة السلفية - بنارس الهند الطبعة: الثالثة - 1404 هـ، 1984.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یا رسول اللہ! میرے دو ہمسائے ہیں۔ میں تحفہ کسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: يا رسولَ اللهِ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ، فإلى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قال: «إلى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا».
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے دو ہمسائے ہیں۔ میں تحفہ کسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میرے دو پڑوسی ہیں اور مجھے حکم ہے کہ پڑوسی کا اکرام کیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو تاہم میں ان دونوں کو ایک ساتھ ہدیہ نہیں دے سکتی۔ اب میں ان دونوں میں سے کسے ہدیہ بھیجوں تاکہ میرا شمار بھی ان لوگوں میں ہوجائے جو پڑوسی کا اکرام کرتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے جس کا دروازہ زیادہ قریب ہے اسے ہدیہ بھیجو“۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الرابعة عشر، 1407ه - 1987م. رياض الصالحين للنووي، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، ط1، 1428هـ. رياض الصالحين، للنووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، ط4، 1428هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بنی ہوئی چادر لے کر آئی۔

عن سهل بن سعد رضي الله عنه : أن امرأةَ جاءت إلى رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِبُرْدَةٍ مَنسُوجَةٍ، فقالت: نَسَجتُها بيديَّ لأَكْسُوَكَها، فأخذها النبيُّ صلى الله عليه وسلم محتاجاً إليها، فخرجَ إلينا وإنها إزارُهُ، فقال فلانٌ: اكسُنِيها ما أحسَنَها! فقال: "نعم"، فجلسَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم في المجلسِ، ثم رجع فطَوَاها، ثم أرسلَ بها إليه، فقال له القومُ: ما أحسَنتَ! لبسها النبيُّ صلى الله عليه وسلم محتاجاً إليها، ثم سألته وعَلِمتَ أنه لا يَرُدَ سائلاً، فقال: إني واللهِ ما سألتُهُ لألبِسَها، إنما سألتُهُ لتكُونَ كَفَنِي. قال سهلٌ: فكانت كَفَنَهُ.
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بنی ہوئی چادرلے کر آئی اور کہنے لگی: میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں اسے آپ کو پہناؤں۔ نبی ﷺ نے اسے اپنی ضرورت کی چيز سمجھتے ہوئے لے لیا۔ پھر آپ ﷺ اسے تہ بند کے طور پر باندھ کر ہمارے پاس تشريف لائے۔ تو ايک صاحب نے کہا: يہ تو آپ مجھے پہناديں, کس قدر خوبصورت ہے يہ چادر! آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا۔ پھر آپ ﷺ مجلس میں بيٹھ گئے۔ پھر واپس گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر اس شخص کی طرف بھیج دیا۔ پس لوگوں نے اس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا۔ نبی ﷺ نے يہ چادر اپنی ضرورت سمجھ کر پہنی تھی، ليکن تو نے آپ ﷺ سے يہ مانگ لی اور تجھے يہ بھی معلوم ہے کہ آپ کسی سائل کو واپس نہیں کرتے۔ اس شخص نے جواب دیا : اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کے لئے نہیں مانگی ہے بلکہ میں نے تو اسے اس لئے مانگی ہے تاکہ یہ میرا کفن بنے۔ سھل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پس يہ چادر اس کے کفن ہی کے کام آئی۔
امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ کے ایثار (اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دینے) کا تذکرہ ہے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے اس چادر کے معاملے میں اپنی ذات پر اس شخص کو ترجیح دی، جب کہ آپ ﷺ کو اس كى ضرورت تھی۔ آپ ﷺ اس چادر کو پہن كر نکلے، يہ اس بات کی دليل ہے کہ آپ ﷺ کو اس کی سخت ضرورت تھی۔ ایک عورت نے آکر نبی ﷺ کو ایک چادر ہدیہ كيا۔ تو ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا کہ یہ کتنی خوبصورت ہے!۔ اور اس نے نبی ﷺ سے اسے مانگ لی۔ رسول الله ﷺ نے چادر کو اتار کر لپیٹا اور اسے دے ديا۔ بعض شارحین کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے ماخوذ فوائد ميں سے يہ بھی ہے کہ نیک لوگوں کے آثار سے تبرک جائز ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ یہ تبرک تو آپ ﷺ کی ذات سے تھا ، فضیلت اور نیکی میں کسی اور کو آپ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازيں صحابۂ کرام آپ ﷺ کی حیات میں یا آپ کی وفات کے بعد کسی اور کے ساتھ ایسا نہیں کرتے تھے۔ اگر یہ اچھی بات ہوتی تو وہ ضرور اسے ہم سے پہلے کر چکے ہوتے۔

حوالہ

بهجة شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. تيسير العزيز الحميد في شرح كتاب التوحيد؛ للإمام سليمان بن عبدالله بن محمد بن عبدالوهاب، تحقيق أسامة عطايا، دار الصميعي-الرياض، الطبعة الأولى، 1428هـ. الجمع بين الصحيحين؛ للإمام محمد بن فتوح الحميدي، تحقيق د. علي البواب، دار ابن حزم. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے رسول ﷺ کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا بطورِ تحفہ پیش کیا۔

عن الصعب بن جَثَّامَةَ رضي الله عنه ، قال: أهديتُ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - حماراً وحشياً، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فلما رأى ما في وجهي، قال: «إنا لم نَرُدَّهُ عليك إلا لأنَّا حُرُمٌ».
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا تحفے کے طور پر پیش کیا تو آپ ﷺ نے وہ مجھے واپس کردیا۔ جب آپ ﷺ نے میرے چہرے پر ملال کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”ہم تمہیں یہ واپس نہ کرتے لیکن بات یہ ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کے اخلاق حسنہ میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے دین کے بارے میں لوگوں سے مداہنت نہیں برتتے اور ان کی دلجوئی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ چنانچہ نبی ﷺ کا گزر صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں تھے۔ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بہت تیز بھاگنے والے اور ماہر تیر انداز تھے۔ جب نبی ﷺ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو انہوں نے ایک جنگلی گدھے کو آپ ﷺ کے لیے شکار کیا اور اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کر دیا۔ صعب رضی اللہ عنہ پر یہ بات گراں گزری کہ نبی ﷺ نے ان کا ہدیہ کیوںکر واپس کر دیا؟ ان کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کا چہرہ دیکھا تو ان کی دل جوئی کرتے ہوئے فرمایا کہ آپﷺ نے ان کا تحفہ صرف اس لیے واپس کر دیا ہے کیونکہ وہ حالت احرام میں ہیں اور محرم شخص اس شکار کو نہیں کھا سکتا جو اس کے لیے شکار کیا گیا ہو۔

حوالہ

بهجة شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ نے قبیلۂ ازد کے ایک شخص کو، جنھیں ابن لتبیہ کہا جاتا تھا، زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا۔ جب وہ (وصول کر کے) آئے، تو کہنے لگے: یہ مال تمھارے لیے ہے (یعنی مسلمانوں کا) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے۔ رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی

عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ، يُدْعَى ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، قَالَ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا» ثُمَّ خَطَبَنَا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى العَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ، فَيَأْتِي فَيَقُولُ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، أَفَلاَ جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ، وَاللَّهِ لاَ يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ، فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةً تَيْعَرُ» ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطِهِ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ» بَصْرَ عَيْنِي وَسَمْعَ أُذُنِي.
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قبیلۂ ازد کے ایک شخص کو، جنھيں ابن لتبیہ کہا جاتا تھا، زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا۔ جب وہ (وصول کر کے) آئے، تو کہنے لگے: یہ مال تمھارے لیے ہے (یعنی مسلمانوں کا) اور یہ مجھے ہدیے میں ملا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اس کام پر عامل بناتا ہوں، جس کا اللہ نے مجھے والی بنایا ہے۔ پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمھارا مال ہے اور یہ تحفہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے! اگر وہ سچا ہے، تو کیوں نہیں وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہا، پھر دیکھتا کہ اسے ہدیہ ملتا ہے کہ نہیں! اللہ کی قسم ! تم میں سے جو بھی حق کے سوا کوئی چیز لے گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس چیز کو اٹھائے ہوئے ہوگا؛ بلکہ میں تم میں ہر اس شخص کو پہچان لوں گا، جو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اونٹ اٹھائے ہوگا، جو بلبلا رہا ہوگا، گائے اٹھائے ہوگا، جو اپنی آواز نکال رہی ہوگی یا بکری اٹھائے ہوگا، جو ممیا رہی ہوگی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا، یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی دکھائی دینے لگی اور فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نےقبیلۂ ازد کے ایک آدمی کو جنھیں ابن لتبیہ کہا جاتا تھا صدقہ اکٹھا کرنے کا مکلف بنایا۔ جب وہ اپنے کام سے واپس ہو کر مدینہ پہنچے، تو اپنے پاس موجود کچھ مال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مال آپ مسلمانوں کی جماعت کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیۃً دیا گیا ہے! تو نبی ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے؛ تاکہ لوگوں کو بتائیں اور اس کام سے انھیں ڈرائیں۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک میں کسی کو زکاۃ اور مال غنیمت وغیرہ کی وصولی کا عامل بناتا ہوں، جس کا مجھے اختیار عطا کیا ہے۔ پھر وہ اپنے کام سے واپس آکر کہتا ہے: یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ ہدیہ ہے، جو مجھے دیا گیا ہے! اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو کیوں نہیں اپنے باپ کے گھر میں یا ماں کے گھر میں بیٹھا رہا کہ اس کے پاس ہدیہ آجاتا؟ اللہ کی قسم! جو شخص عامل رہتے ہوئے کوئی عطا کی ہوئی چیز لےگا، وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس چیز کو اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہوگا۔ اگرچہ وہ اونٹ ہو، گائے ہو یا بکری ہی کیوں نہ ہو! پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر اٹھائےکہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کے بغل کی سفیدی دیکھی، پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! میں نے پہنچا دیا!

حوالہ

صحيح البخاري (9/ 28) (6979). صحيح مسلم (3/ 1463) (1832). جمهرة اللغة، أبوبكر الأزدي (2/ 1067). المعجم الوسيط، مجمع اللغة العربية (2/ 1065). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 305). تطرز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص166). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 234).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، اگرچہ وہ شخص تمھیں وہ گھوڑا ایک درہم میں ہی کیوں نہ دے۔ کیوںکہ کسی کا بطور ہبہ دی گئی شے کو واپس لینا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی قے کر کے اسے چاٹ لے۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: «حَمَلْتُ على فرس في سبيل الله، فأضاعه الذي كان عنده، فأردت أن أشتريه، وظننت أنه يبيعه بِرُخْصٍ، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم ؟ فقال: لا تَشْتَرِهِ، ولا تعد في صدقتك؛ فإن أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ؛ فإن العَائِدَ في هِبَتِهِ كالعَائِدِ في قَيْئِهِ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے راستے میں (جہاد کےلیے) ایک گھوڑا کسی کو سواری کے لیے دیا اور جسے دیا تھا، اس نے اس کی حالت بالکل ہی بگاڑ دی ۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں اسے واپس خرید لوں۔ میرا خیال تھا کہ وہ شخص اسے سستے داموں میں بیچ دے گا۔ اس کے متعلق میں نے نبی ﷺ سے جب پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، اگرچہ وہ شخص تمھیں وہ گھوڑا ایک درہم میں ہی کیوں نہ دے۔ کیوںکہ کسی کا بطور ہبہ دی گئی شے کو واپس لینا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی قے کر کے اسے چاٹ لے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جہاد فی سبیل اللہ میں کسی شخص کی معاونت کرتے ہوئے اسے ایک گھوڑا دیا؛ تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر لڑسکے۔ اس شخص نے اس گھوڑے پر خرچ کرنے میں کوتاہی برتی اور اچھے انداز میں اس کی دیکھ بھال نہیں کی اور اس سے اتنا کام لیا کہ وہ نحیف اور کمزور ہو گیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ا س سے وہ گھوڑا خرید لیں۔ انھوں نے کہ گھوڑا نحیف اور لاغر ہونے کی وجہ سے سستا میں مل جاۓ گا۔ تاہم نبی ﷺ سے مشورہ لینے سے پہلے انھوں نے اسے خریدنے کی بات نہیں چلائی؛ کیونکہ ان کے دل میں اس سلسلے میں کچھ کھٹکا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں اسے خریدنے سے منع فرما دیا، اگرچہ وہ کم قیمت پر ہی مل رہا ہو؛ کیوںکہ یہ اللہ کی راہ میں دی گئی شے تھی۔ (اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ) اس کے پیچھے نہ لگو اور نہ ہی اس سے کوئی واسطہ رکھو، تاکہ کہیں یہ نہ ہو کہ جسے وہ گھوڑا بطور ہبہ دیا گیا تھا، وہ اس کی قیمت میں تمھارے لیے کچھ کمی کر دے اور اس طرح تم اپنے دیے گئے صدقے کے کچھ حصے کو واپس لینے والے بن جاؤ۔ چوںکہ یہ شے تمھاری ملکیت سے نکل چکی ہے اور اس کی وجہ سے تمھارے گناہ معاف ہوئے اور اس نے تمھیں بہت سی برائیوں اور گندگیوں سے چھٹکارا دیا، اس لیے مناسب نہیں کہ وہ لوٹ کر دوبارہ تمھارے پاس آئے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے اسے خریدنے کو صدقہ دے کر واپس لینے کا نام دیا، حالاںکہ وہ اسے قیمت کے ساتھ خرید رہے تھے۔ اور اسے قے کر کے چاٹنے سے تشبیہ دی ہے، قے یعنی پیٹ میں موجود چیز منہ کے راستہ سے باہر آئے، قے کو دوبارہ لوٹانے سے مراد اسے چاٹنا ہے، اس قسم کی تشبیہ دینے کا مقصد اس فعل سے نفرت پیدا کرنا اور اس کی قباحت کو بیان کرنا ہے۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا ہو۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما مرفوعاً: "العائد في هِبَتِهِ، كالعائد في قَيْئِهِ". وفي لفظ: "فإن الذى يعود في صدقته: كالكلب يَقِئ ُثم يعود في قيئه".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا ہو“۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”جو شخص صدقہ کرکے واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے ہدیہ واپس لینے سے نفرت دلانے کے لیے بہت بُری مثال بیان فرمائی ہے کہ ہدیہ دے کر واپس لینے والا اس کُتے کی طرح ہے جو قے کرے اور اس کی طرف لوٹ کر اسے چاٹتا ہے۔ یہ مثال اس کی بُرائی، شناعت اور اوچھے پن پر دلالت کرتی ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام:تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428. - فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی کریم ﷺ نے عمر بھر کے لیے ہبہ کئے گئے مکان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اسی کا ہے جس کے لئے وہ ہبہ کیا گیا ہے۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: «قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعُمْرَى لمن وهبت له». وفي لفظ: «من أُعمِر عمرى له ولعقبه؛ فإنها للذي أعطيها، لا ترجع إلى الذي أعطاها؛ لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث». وقال جابر: «إنما العمرى التي أجازها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أن يقول: "هي لك ولعقبك"، فأما إذا قال: "هي لك ما عشت"؛ فإنها ترجع إلى صاحبها». وفي لفظ لمسلم: «أمسكوا عليكم أموالكم ولا تفسدوها، فإنه من أُعمِر عمرى فهي للذي أُعمِرها حيًّا وميتًا ولعقبه».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عمر بھر کے لیے ہبہ کیے گئے مکان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ وہ اسی کا ہے جس کے لیے وہ ہبہ کیا گیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس کو کوئی مکان عمر بھر کے لیے دیا گیا وہ اس کا ہے اور اس کی اولاد کا۔ بے شک وہ اسی کا ہے جس کے لیے وہ ہبہ کیا گیا وہ اس شخص کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا جس نے وہ دیا ہے کیونکہ یہ ایسا عطیہ ہے جس میں موہوب لہ کا ورثہ جاری ہو چکا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بھر کے لیے دیا گیا مکان جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی کہ ہبہ کرنے والا انسان کسی سے کہہ دے کہ یہ چیز آپ کی اور آپ کی اگلی نسل کی ہوگئی ہے اور اگر یہ شخص یہ کہتا ہے یہ صرف آپ کی زندگی تک کے لیے ہے آپ کی ہوگئی تو وہ چیز مالک کے پاس لوٹ جائے گی۔ مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ (نبی ﷺ نے فرمایا) اپنے مال اپنے قبضے میں رکھو اسے ضائع نہ کرو، جس نے عمر بھر کے لیے مکان دے دیا وہ زندگی میں اسی کا ہے جسے وہ دیا گیا اور مرنے کے بعد اس کی اولاد کا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

”عُمرى“ اور اسی کی طرح ”رُقبى“ ہبہ کی دو قسمیں ہیں، زمانۂ جاہلیت میں لوگ اس طرح كا ہبہ کیا کرتے تھے، ایک شخص دوسرے کو گھر وغیرہ ان الفاظ میں دیتا جیسے ”میں نے وہ گھر تجھے عمر بھر کے لیے ہبہ کیا“ یا ”میں نے تمہاری عمر بھر یا اپنی عمر بھر میں وہ گھر آپ کو دے دیا“۔ لوگ موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے۔) کے مرنے کا انتظار کرتے، تاکہ وہ اپنا ہبہ واپس کردے۔ شریعت نے ہبہ کو برقرار رکھا اور اس کی مروّجہ شرط یعنی لوٹانے کو باطل قرار دیا۔ اس لیے کہ ہبہ کو واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے واپس نگلتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے عمر بھر کے ہبہ کا فیصلہ موہوب لہ اور اس کے بعد اس کے پسماندگان کے لیے کیا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو اپنے اموال کی حفاظت کرنے کی تنبیہ فرمائی تاکہ لوگ اپنے گمان میں اس شرط کو لازم قرار نہ دیں اور اس چیز کو واپس لینے کو جائز جانیں۔ چنانچہ فرمایا ”اپنے مال اپنے قبضے میں رکھو اسے ضائع نہ کرو، جس نے عمر بھر کے لیے مکان دے دیا وہ زندگی میں اسی کا رہے گا جسے وہ دیا گیا ہو اور مرنے کے بعد اس کی اولاد کا ہوجائے گا“۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
10 میں سے 8
10 احادیث
  1. اگر تو اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا۔
  2. یا رسول اللہ! میرے دو ہمسائے ہیں۔ میں تحفہ کسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔
  3. ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بنی ہوئی چادر لے کر آئی۔
  4. میں نے رسول ﷺ کی خدمت میں ایک جنگلی گدھا بطورِ تحفہ پیش کیا۔
  5. نبی ﷺ نے قبیلۂ ازد کے ایک شخص کو، جنھیں ابن لتبیہ کہا جاتا تھا، زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا۔ جب وہ (وصول کر کے) آئے، تو کہنے لگے: یہ مال تمھارے لیے ہے (یعنی مسلمانوں کا) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے۔ رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی
  6. اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، اگرچہ وہ شخص تمھیں وہ گھوڑا ایک درہم میں ہی کیوں نہ دے۔ کیوںکہ کسی کا بطور ہبہ دی گئی شے کو واپس لینا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی قے کر کے اسے چاٹ لے۔
  7. اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا ہو۔
  8. نبی کریم ﷺ نے عمر بھر کے لیے ہبہ کئے گئے مکان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اسی کا ہے جس کے لئے وہ ہبہ کیا گیا ہے۔
  9. ولاء (میراث) کا حق دار ولی نعمت (آزاد کرانے والا) ہوتا ہے
  10. ’’ایک دوسرے سے محبت کرنے کے لیے تحائف کا لین دین کریں‘‘۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com