سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو شخص ہو بہو اپنا مال کسی آدمی یا انسان کے پاس پا لے جب کہ وہ شخص دیوالیہ قرار دیا جا چکا ہو؛ تو صاحب مال ہی اس کا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مستحق ہے.

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من أدرك ماله بعينه عند رجل -أو إنسان- قد أفلس؛ فهو أحق به من غيره».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ہو بہو اپنا مال کسی شخص کے پاس پا لے جب کہ وہ شخص دیوالیہ قرار دیا جا چکا ہو تو صاحب مال ہی اس کا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مستحق ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جس نے کسی کو اپنا کوئی سامان بیچا یا پھر اس کے پاس بطورِ امانت رکھوایا یا پھر اسے بطور قرض دیا یا پھر ایسی ہی کوئی اور صورت حال ہوئی اور پھر وہ خریدار دیوالیہ ہو گیا بایں طور کہ اس کا مال اس کے ذمے واجب الاداء رقوم کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو تو اگر اس شخص کو اس دیوالیہ آدمی کے پاس اپنا سامان بعینہ مل جائے تو بائع دوسروں کے مقابلے میں اسے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. -الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حجر/ مالی تصرف سے روکنا

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com