جو شخص ہو بہو اپنا مال کسی آدمی یا انسان کے پاس پا لے جب کہ وہ شخص دیوالیہ قرار دیا جا چکا ہو؛ تو صاحب مال ہی اس کا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مستحق ہے.
جس نے کسی کو اپنا کوئی سامان بیچا یا پھر اس کے پاس بطورِ امانت رکھوایا یا پھر اسے بطور قرض دیا یا پھر ایسی ہی کوئی اور صورت حال ہوئی اور پھر وہ خریدار دیوالیہ ہو گیا بایں طور کہ اس کا مال اس کے ذمے واجب الاداء رقوم کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو تو اگر اس شخص کو اس دیوالیہ آدمی کے پاس اپنا سامان بعینہ مل جائے تو بائع دوسروں کے مقابلے میں اسے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔
- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. -الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.