تم سے پہلے لوگوں (پچھلی امتوں) میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا اور ایک امیر شخص تھا۔ وہ اپنے ملازمین کو حکم دیتا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم ایسا کرنے کے اس سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس سے درگزر کرو۔
عن أبي مسعود البدري رضي الله عنه قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «حُوسِب رجُل ممن كان قَبْلَكُمْ، فلم يُوجد له من الخَيْر شيء، إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِراً، وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر، قال الله عز وجل : نحن أحَقُّ بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه».
ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے امتوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا اور ایک امیر شخص تھا۔ وہ اپنے ملازمین کو حکم دیتا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم ایسا کرنے کے اس سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس سے درگزر کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
”حُوسِب رجُل“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک شخص سے اس کے آگے بھیجے گئے اعمال پر حساب لیا۔ "ممن كان قَبْلَكُمْ"۔ یعنی وہ پچھلی امتوں میں سے تھا۔ ”فلم يُوجد له من الخَيْر شَيء“ یعنی اس کے پاس کوئی ایسا نیک عمل نہ نکلا جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہو۔ ”إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِرا“ یعنی وہ لوگوں سے خرید و فروخت اور لین دین کیا کرتا تھا اور امیر شخص تھا۔ ”وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر“ یعنی جب لوگوں سے ان کے ذمہ واجب الادا قرض وصول کرنے ہوتے تو وہ اپنے نوکروں سے کہتا کہ تنگ دست یعنی ایسے غریب قرض دار سے نرمی کے ساتھ معاملہ کریں جو قرض ادا کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو بایں طور کہ خوشحالی تک اسے مہلت دیں یا پھر اس کا کچھ قرض کم کردیں۔ ”قال الله -عز وجل-: نحن أحق بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے لوگوں سے اچھے سلوک،ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنے اور ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کے بدلے میں اسے معاف فرما دیا۔
حوالہ
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1397 هـ.
كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى، 1430ه.ـ
صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة الأولى، 1428هـ.
بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418هـ - 1997م.
التنوير شرح الجامع الصغير، تأليف: محمد بن إسماعيل الصنعاني، تحقيق: د/ محمد إسحاق محمد إبراهيم، الناشر: مكتبة دار السلام، الطبعة: الأولى، 1432هـ.
التيسير بشرح الجامع الصغير، تأليف: محمد عبد الرؤوف بن زين العابدين المناوي، الناشر: مكتبة الإمام الشافعي، الطبعة: الثالثة، 1408هـ - 1988م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com