سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قرض

3 احادیث

اسے دے دو اس لیے کہ بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رجلًا أتى النبي صلى الله عليه وسلم يَتَقَاضَاهُ فَأغْلَظَ له، فَهَمَّ به أصحابه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «دَعُوه، فإن لِصَاحب الحَقِّ مَقَالا» ثم قال: «أعْطُوهُ سِنًّا مِثْل سِنِّهِ» قالوا: يا رسول الله، لا نَجِدُ إلا أمْثَلَ مِنْ سِنِّهِ، قال: «أعْطُوه، فإن خَيْرَكم أحْسَنُكُم قَضَاء».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ سے سختی سے مطالبہ کیا (اس گستاخی پر) صحا بہ کرام نے اس کو جھڑکا، رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ حق دار کو کہنے کا حق حاصل ہے پھر آپ نے فرمایا، اسے اتنی عمر کا جانور دے دو جتنی عمر کا جانور اس کا تھا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس جیسا تو ہم نہیں پاتے البتہ اس سے بہتر اور زیادہ عمر والا ہے آپ نےفرمایا: وہی اسے دے دو اس لیے کہ بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا ،آپ ﷺ نے اس آدمی سےایک چھوٹا اونٹ قرض کے طور پر لیا تھا (ایک دن) وہ آدمی آپ ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ قرض کی واپسی کا سختی سے مطالبہ کیا۔ نبی ﷺ کے صحا بہ نے اس کو اس کی گستا خی اورتلخ کلامی پر زد و کوب کرنے کا ارادہ کیا۔ رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اور جو کہنا چاہتا ہے ادب کے دائرے میں کہنے دو، اس لیے کہ حق دار کو جس پر اس کا قرض باقی ہے اسے اس کی ادائیگی کے مطالبہ وغیرہ کا پورا پورا حق حاصل ہے، رہا مسئلہ گالی گلوج اور ایذا رسانی کا تو یہ ایک مسلمان کے اخلاق کے منافی ہے۔ پھر نبی ﷺ نے بعض صحا بہ کو حکم دیا کہ اسے اتنی عمر کا جانور دے دو. صحابہ نے عرض کیا ہم نہیں پاتے مگر اس سے زیادہ عمر والا اونٹ آپ نےفرمایا: اسے زیادہ عمر والا اونٹ ہی دے دو اس لیے کہ اچھے انسان لوگوں کے معاملات میں اور اجرو ثواب کے اعتبار سے بھی وہ ہیں جو اپنے قرض اور حقوق کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين, بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تم سے پہلے لوگوں (پچھلی امتوں) میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا اور ایک امیر شخص تھا۔ وہ اپنے ملازمین کو حکم دیتا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم ایسا کرنے کے اس سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس سے درگزر کرو۔

عن أبي مسعود البدري رضي الله عنه قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «حُوسِب رجُل ممن كان قَبْلَكُمْ، فلم يُوجد له من الخَيْر شيء، إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِراً، وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر، قال الله عز وجل : نحن أحَقُّ بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه».
ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے امتوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا اور ایک امیر شخص تھا۔ وہ اپنے ملازمین کو حکم دیتا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم ایسا کرنے کے اس سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس سے درگزر کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

”حُوسِب رجُل“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک شخص سے اس کے آگے بھیجے گئے اعمال پر حساب لیا۔ "ممن كان قَبْلَكُمْ"۔ یعنی وہ پچھلی امتوں میں سے تھا۔ ”فلم يُوجد له من الخَيْر شَيء“ یعنی اس کے پاس کوئی ایسا نیک عمل نہ نکلا جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہو۔ ”إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِرا“ یعنی وہ لوگوں سے خرید و فروخت اور لین دین کیا کرتا تھا اور امیر شخص تھا۔ ”وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر“ یعنی جب لوگوں سے ان کے ذمہ واجب الادا قرض وصول کرنے ہوتے تو وہ اپنے نوکروں سے کہتا کہ تنگ دست یعنی ایسے غریب قرض دار سے نرمی کے ساتھ معاملہ کریں جو قرض ادا کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو بایں طور کہ خوشحالی تک اسے مہلت دیں یا پھر اس کا کچھ قرض کم کردیں۔ ”قال الله -عز وجل-: نحن أحق بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے لوگوں سے اچھے سلوک،ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنے اور ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کے بدلے میں اسے معاف فرما دیا۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1397 هـ. كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى، 1430ه.ـ صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة الأولى، 1428هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي، سنة النشر: 1418هـ - 1997م. التنوير شرح الجامع الصغير، تأليف: محمد بن إسماعيل الصنعاني، تحقيق: د/ محمد إسحاق محمد إبراهيم، الناشر: مكتبة دار السلام، الطبعة: الأولى، 1432هـ. التيسير بشرح الجامع الصغير، تأليف: محمد عبد الرؤوف بن زين العابدين المناوي، الناشر: مكتبة الإمام الشافعي، الطبعة: الثالثة، 1408هـ - 1988م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگیوں سے نجات عطا کرے، اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔

عَنْ أَبَي قَتَادَةَ رضي الله عنه أنَّهُ طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ، فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُعْسِرٌ، فَقَالَ: آللَّهِ؟ قَالَ: آللَّهِ؟ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ».
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ پنے ایک قرض دار کو ڈھونڈ رہے تھے۔ دراصل وہ چھپتا پھر رہا تھا۔ ایک دن مل گیا، تو کہنے لگا کہ میں تنگ دستی کا شکار ہو چکا ہوں۔ لہذا ابو قتادہ نے پوچھا کہ کیا تم اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہو کہ تنگ دستی کے شکار ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تنگ دستی کا شکار ہوں۔ چنانچہ ابو قتادہ نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "جسے یہ اچھا لگتا ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی تنگیوں سے نجات عطا کرے، اسے چاہبے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اس کا (کچھ یا سارا) قرض معاف کر دے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ ایک شخص کی تلاش میں تھے جس نے ان سے قرض لیا تھا اور ان سے چھپتا پھرتا تھا۔ آخر کار انہوں نے اسے ڈھونڈ لیا۔ قرض لینے والے نے کہا: میں تنگ دست ہوں اور میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لیے کوئی مال نہیں ہے۔ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی اس کے پاس کوئی مال نہیں ہے؟ اس نے اللہ کی قسم کھاکر بتایا کہ وہ سچ بول رہا ہے۔ بعد ازاں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: جسے یہ بات خوش اور مسرور کرتی ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی پریشانیوں، شدتوں اور ہولناکیوں سے نجات دے، وہ تنگدست کی تنگی دور کرے۔ یعنی قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت دے، یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دے۔

فوائد
  1. تنگ دست کو اس کی تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دینا یا اس کے سر پر لدے ہوئے قرض کے بوجھ کو کلی یا جزئی طور پر ہلکا کرنا مستحب ہے۔
  2. جو شخص کسی مومن سے دنیا کی کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی بعض سختیوں کو دور کرے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا وہ عمل کرتا ہے۔
  3. قاعدہ: فرائض نوافل سے افضل ہیں۔ لیکن کبھی کبھی نفل فرض سے افضل ہو جاتا ہے۔ جیسے کسی تنگ دست کے قرض کو معاف کر دینا نفل ہے اور اس کے بارے میں تحمل سے کام لینا، فراخی کا انتظار کرنا اور مطالبہ کر کے تنگ نہ کرنا فرض ہے۔ لیکن یہاں نفل فرض سے افضل ہے۔
  4. یہ حدیث تنگ دست کے بارے میں ہے، جو کہ معذور ہے۔ رہی بات ٹال مٹول کرنے والے کی، تو اس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مال دار شخص کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔"
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1196) (1563). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 457). الكاشف عن حقائق السنن(شرح المشكاة)، للطيبي (7/ 2172). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (16/ 392). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للقاري (5/ 1954). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 945).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com