’تابیر‘ (پیوندکاری) کا حق فروخت کنندہ کو حاصل ہے اور درخت کے پھل پر بھی یہی حکم عائد ہوگا۔ (یعنی وہ بھی فروخت کنندہ کا ہو گا) کیوں کہ اس پھل کے سبب یعنی پیوندکاری کو اسی نے سر انجام دیا ہے۔ سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے کہ پھل اس کا ہو گا۔ اگر کھجوروں کی پیوند کاری ہو چکی ہو اور فروخت کنندہ اس شرط کو قبول کر لے، تو فروخت کنندہ اور خریدار اپنے مابین طے شدہ شرط کے پابند ہوں گے (اور یوں پھل خریدار کا ہو جائے گا)۔ یہی حکم اس غلام کا ہے، جس کے ہاتھ میں اس کے آقا نے کچھ مال تھما رکھا ہو۔ اگر وہ اسے فروخت کر دے، تو اس کے ہاتھ میں موجود مال اس کے آقا کا ہوگا، جس نے اسے بیچا ہے۔ کیوں کہ عقد ِبیع میں یہ مال شامل نہیں۔ الا یہ کہ خریدار اس پورے مال یا اس کے کچھ حصے کی شرط لگا دے (کہ وہ بھی عقد میں شامل ہوگا)، تو وہ عقدِ بیع میں شامل ہو جائے گا۔
تأسيس الأحكام، للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر بدمشق، الطبعة الأولى. صحيح البخاري، دار طوق النجاة، ط 1422هـ. صحيح مسلم، ط دار إحياء التراث العربي، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي.