سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

بيع ميں رکھی جانے والی شرائط

2 احادیث

جس نے کھجور کے ایسے درخت بیچے، جن کی تلقیح کی جاچکی ہو، تو ان کا پھل بیچنے والے کا ہوگا، سوائے اس کے کہ خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه مرفوعًا: «من باع نخلًا قد أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا للبائع، إلا أن يشترط المُبْتَاعُ». وفي رواية: «ومن ابْتَاعَ عبدا فمالُه للذي باعه إلا أن يشترط المُبْتَاعُ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھجور کے ایسے درخت بیچے، جن کی تلقیح کی جاچکی ہو، تو ان کا پھل بیچنے والے کا ہوگا، سوائے اس کے کہ خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”جس نے اپنا غلام بیچا، اس (غلام) کا مال بیچنے والے کا ہو گا، الا کہ خریدار شرط لگا دے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

’تابیر‘ (پیوندکاری) کا حق فروخت کنندہ کو حاصل ہے اور درخت کے پھل پر بھی یہی حکم عائد ہوگا۔ (یعنی وہ بھی فروخت کنندہ کا ہو گا) کیوں کہ اس پھل کے سبب یعنی پیوندکاری کو اسی نے سر انجام دیا ہے۔ سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے کہ پھل اس کا ہو گا۔ اگر کھجوروں کی پیوند کاری ہو چکی ہو اور فروخت کنندہ اس شرط کو قبول کر لے، تو فروخت کنندہ اور خریدار اپنے مابین طے شدہ شرط کے پابند ہوں گے (اور یوں پھل خریدار کا ہو جائے گا)۔ یہی حکم اس غلام کا ہے، جس کے ہاتھ میں اس کے آقا نے کچھ مال تھما رکھا ہو۔ اگر وہ اسے فروخت کر دے، تو اس کے ہاتھ میں موجود مال اس کے آقا کا ہوگا، جس نے اسے بیچا ہے۔ کیوں کہ عقد ِبیع میں یہ مال شامل نہیں۔ الا یہ کہ خریدار اس پورے مال یا اس کے کچھ حصے کی شرط لگا دے (کہ وہ بھی عقد میں شامل ہوگا)، تو وہ عقدِ بیع میں شامل ہو جائے گا۔

حوالہ

تأسيس الأحكام، للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر بدمشق، الطبعة الأولى. صحيح البخاري، دار طوق النجاة، ط 1422هـ. صحيح مسلم، ط دار إحياء التراث العربي، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ میں نے تم سے تمھارا اونٹ لینے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تھا؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور درہم بھی۔ یہ سب تیرا ہے۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما : «أنه كان يسير على جمل فأعيا، فأراد أن يُسَيِّبَهُ. فلحقني النبي صلى الله عليه وسلم فدعا لي، وضربه، فسار سيرا لم يَسِرْ مثله. ثم قال: بِعْنِيهِ بأُوقية. قلتُ: لا. ثم قال: بِعْنِيه. فَبِعْتُهُ بأوقية، واستثنيت حُمْلَانَهُ إلى أهلي. فلما بلغت: أتيته بالجمل. فنقدني ثمنه. ثم رجعت. فأرسل في إثري. فقال: أتَرَانِي مَاكستُكَ لآخذ جملك؟ خذ جملك ودراهمك، فهو لك».
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر جا رہے تھے، جو بہت تھک چکا تھا۔ انھوں نے ارادہ کیا کہ اسے چھوڑ دیں۔ نبی ﷺ پیچھے سے میرے ساتھ آن ملے۔ آپ ﷺ نے میرے لیے دعا کی اور اونٹ کو مارا، تو وہ ایسے چلنے لگا کہ اس طرح کبھی نہ چلا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اس کو مجھے فروخت کر دو! تو میں نے اسے آپ ﷺ کو ایک اوقیہ کے عوض فروخت کردیا اور اس پر سوار ہو کر اپنے اہل وعیال تک جانے کا استثنا کرلیا۔ جب میں پہنچا تو آپ ﷺ کے پاس وہ اونٹ لے کر حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی۔ پھر میں واپس آگیا۔ آپ ﷺ نے میرے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: ”کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ میں نے تم سے تمھارا اونٹ لینے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تھا؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور درہم بھی۔ یہ سب تیرا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ایک غزوے میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ وہ ایک اونٹ پر سوار تھے، جو لاغر و کمزور ہونے کی وجہ سے چلنے اور لشکر والوں کی ہمراہی سے قاصر تھا۔ یہاں تک کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا کہ وہ جہاں چاہے چلا جائے؛ کیوںکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں رہ گیا تھا۔ یہ نبی ﷺ کی اپنے صحابہ اور امت کے ساتھ شفقت کا ایک مظہر تھا کہ آپ ﷺ کمزور و ناتواں اور الگ ہو جانے والے افراد کا خیال کرتے ہوئے لشکر کے پیچھے پیچھے چلا کرتے تھے۔ آپ ﷺ پیچھے سے جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آن ملے جو کہ اپنے لاغر اونٹ پر سوار تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور ان کے اونٹ کو مارا۔ آپ ﷺ کی اس پرشفقت مار نے لاغر و کمزور اونٹ میں طاقت بھر دی، اسے اس سے مدد ملی اور وہ ایسے چلنے لگا، جیسے وہ کبھی چلا ہی نہیں تھا۔ آپ ﷺ چوں کہ گرم گستر اور لطف و مہربانی کے پیکر تھے، اس لیے جابر رضی اللہ کا دل بہلانے اور انہیں باتوں میں لگانے کا فیصلہ کیا، تاکہ سفر آسانی سے کٹ جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ اونٹ ایک اوقیہ کے عوض بیچ دو۔ جابر رضی اللہ عنہ اللہ کے فضل کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اورانھیں یہ علم تھا کہ اس اونٹ کو نبی ﷺ کے ہاتھوں نہ بیچنے سے ان کے دین میں کوئی کمی نہیں آنی ہے۔ کیوںکہ یہ نبی کی واجب اطاعت میں داخل نہیں۔ دراصل یہ حکم ایسا نہیں تھا کہ اس کی پابندی ضروری ہو۔ اس کے باوجود نبی ﷺ نے ان سے دوبارہ بیچنے کو کہا، تو انہوں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے آپ ﷺ کو بیچ دیا اور شرط لگائی کہ وہ مدینے میں موجود اپنے اہل خانہ تک اس پر سوار ہو کر جائیں گے۔ نبی ﷺ نے ان کی شرط قبول کر لی۔ جب وہ پہنچ گئے تو وہ آپ ﷺ کے پاس اونٹ لے کر آئے اور نبی ﷺ نے انھیں قیمت ادا کر دی۔ جب وہ واپس پلٹے تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے ایک شخص کو بھیجا۔ وہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں نے تمھارے اس اونٹ کو لینے کی لالچ میں تم سے خرید و فروخت کا معاملہ کیا تھا؟۔ اپنا اونٹ لے لو اور دراہم بھی۔ دونوں تمھارے ہیں۔ آپ ﷺ کے فضل و کرم اور آپ ﷺ کے اخلاق اور لطف و مہربانی کو دیکھا جائے تو یہ کوئی انوکھی بات محسوس نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں تو آپ ﷺ سے بہت سے بڑے بڑے واقعات منقول ہیں۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com