سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ترک تعلق کرنا اور اس کی شرائط

2 احادیث

رسول الله ﷺ نے انگلیوں میں پھنسا کر کنکری پھینکنے سے منع کیا اور فرمایا کہ یہ نہ تو شکار کو مار سکتی ہے، نہ دشمن کو زخمی کرسکتی ہے؛ بلکہ یہ آنکھ کو پھوڑ اور دانت کو توڑ سکتی ہے۔

عن عبد الله بن مغفل رضي الله عنهما قال: نَهَى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخَذْف، وقال: «إِنَّه لاَ يَقتُلُ الصَّيدَ، ولاَ يَنْكَأُ العَدُوَّ، وإِنَّهُ يَفْقَأُ العَيْنَ، ويَكسِرُ السِّنَ». وفي رواية: أن قَرِيباً لابن مغفل خَذَفَ فنَهَاه، وقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الخَذْفِ، وقال: «إِنَّهَا لاَ تَصِيدُ صَيداً» ثم عاد، فقال: أُحَدِّثُك أنَّ رسول الله نهى عنه، ثم عُدتَ تَخذِفُ! لا أُكَلِّمُكَ أَبَداً.
عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انگلیوں میں پھنسا کر کنکری پھینکنے سے منع کیا اور فرمایا کہ (اس طرح کنکری پھینک کر) نہ تو شکار کو مارا جاسکتا ہے اور نہ دشمن کو زخمی کیا جاسکتا ہے؛ البتہ اس کے ذریعے صرف آنکھ کو پھوڑا جاسکتا ہے اور دانت کو توڑا جاسکتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے کسی قریبی رشتے دار نے انگلی میں پھنسا کر کنکری پھینکی، تو انھوں نے اسے منع کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کنکری پھینکنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ”یہ شکار کو نہیں مار سکتی“۔ ان کے اس رشتے دار نے دوبارہ یہ حرکت کی تو عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے (ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے) کہا: میں تمھیں بتا رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر کنکری مارنے لگ گئے ہو؟ میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا!
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے انگلیوں میں پھنسا کر کنکری پھینکنے سے منع کیا اور فرمایا: ”یہ نہ تو شکار کو مارتی ہے“۔ اورایک روایت کے الفاظ ہیں:”نہ یہ شکار کا شکار کرتی ہے اور نہ دشمن کو زخمی کرتی ہے،البتہ اس کے ذریعے صرف آنکھ کو پھوڑا جاسکتا ہے اور دانت کو توڑا جاسکتا ہے“۔ ”الحذف“: علما کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کنکری کو اپنی دائیں اور بائیں شہادت کی انگلیوں کے درمیان یا شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان رکھے، پھر انگوٹھے پر کنکری رکھ کر شہادت کی انگلی سے اسے مارے یا شہادت کی انگلی پر رکھ کر انگوٹھے کے ذریعے مارے۔ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور اس کی علت یہ بیان کی کہ کنکری اگر لگ جائے تو یہ کسی کی آنکھ پھوڑنے اور دانت توڑنے کا سبب بنتی ہے۔ ”اس سے شکار نہیں ہوتا“ کیونکہ یہ جسم کے اندر نہیں گھستی۔ ”اور نہ ہی یہ دشمن کو روکتی ہے“ کیونکہ دشمن کو تیروں سے مجروح کیا جاتا ہے، ان چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے نہیں۔ عبد اللہ بن مغفل کا ایک رشتے دار اس طرح کنکریاں پھینکتے ہو‎ دیکھا گیا تو انھوں نے اسے اس سے منع کرتے ہوئے بتایا کہ نبی ﷺ نے کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے۔ لیکن جب انھوں نے دوبارہ کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: ”میں تمھیں بتا رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس کے باوجود تم کنکری مارنے رہے ہو؟ میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا“ چنانچہ انھوں نے اس سے قطع تعلق کر لیا؛ کیونکہ اس نے نبی ﷺ کے طرف سے ہونے والی ممانعت کی خلاف ورزی کی تھی۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، الطبعة: الرابعة 1428هـ. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے، جو سلام میں پہل کر لے“

عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ، فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ».
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے، جو سلام میں پہل کر لے“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت بند رکھے اور یہ حالت بنائے رکھے کہ دونوں ایک دوسرے سے ملیں ، لیکن سلام کلام کچھ نہ ہو۔ ان دونوں میں بہتر شخص وہ ہے جو قطع کلامی کے اس سلسلے کو توڑے اور آگے بڑھ کر سلام کرے۔ معلوم رہے کہ یہاں بات چیت بند رکھنے سے مراد ذاتی مفاد کی خاطر بات چیت بند رکھنا ہے۔ رہی بات اللہ کے حق کی خاطر بات چیت بند رکھنے کی، جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کرنے والوں، بدعتیوں اور برے ساتھیوں سے قطع کلامی کرنا، تو اس کے لیے وقت کی کوئی تحدید نہيں ہے۔ اس کا تعلق قطع کلامی کے پیچھے کار فرما مصلحت سے ہے۔ جیسے ہی یہ مصلحت دور ہو جائے، قطع کلامی کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیے۔

فوائد
  1. انسانی طبیعت کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے تین دن یا اس سے کم وقت تک بات چیت بند رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
  2. سلام کی فضیلت، سلام سے دل کی کدورتیں دور ہوتی ہیں اور سلام محبت کی نشانی ہے۔
  3. اسلام مسلمانوں کے بیچ اخوت اور محبت کی فضا قائم کرنا چاہتا ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 21) (6077). صحيح مسلم (4/ 1984) (2560). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 111). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 293). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 339).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com