سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہجرت اور اس کے احکام

2 احادیث

میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکوں کے بیچ رہتا ہو

عن جرير بن عبد الله قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إلى خَثْعَمٍ فاعٍتَصَمَ نَاسٌ منهم بالسجود، فَأَسْرَعَ فيهم القَتْلُ قال: فَبَلَغَ ذلك النبيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لهم بنصف العَقْلِ وقال: «أنا بريء من كل مسلم يُقيم بين أَظْهُرِ المشركين». قالوا: يا رسول الله لم؟ قال: «لا تَرَاءَى نَارَاهُما».
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی جانب ایک سریہ بھیجا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ بچاو کے لیے سجدے میں گر پڑے، لیکن انھیں تیزی سے قتل کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس کی اطلاع اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو ان کى آدھی دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: "میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکوں کے بیچ رہتا ہو"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ تو فرمایا : "ان میں سے ایک کی آگ دوسرے کو نہيں دکھنی چاہیے"۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی ایک حصے کی جانب، جو کافر تھا، لشکر کی ایک ٹکڑی بھیجی۔ یہ لوگ وہاں پہنچے تو کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ مسلم ہيں، سجدہ کرنے لگے۔ لیکن، چونکہ وہ مشرکوں کے ساتھ رہ رہے تھے، اس لیے مسلمانوں نے انھیں مشرک سمجھ کر بنا وقت گنوائے قتل کر دیا۔ لیکن جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ مسلمان ہی تھے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کى دیت عام مسلمانوں کى دیت سے آدھی رکھى۔ پوری دیت ادا کرنے کے لیے اس لیے نہيں کہا کہ اس قتل کے وقوع کا سبب وہ خود ہی تھے۔ شریعت نے کافروں کے علاقے میں رہنے کو حرام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مسلمان کافر سے اتنا قریب نہ رہے کہ اگر ان میں ایک آگ جلائے تو دوسرے کو دکھنے لگے۔ اس طرح کا حکم کفر اور اس کے پیروکاروں سے براءت کے اظہار کی بنا پر دیا گیا ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد: المكتبة العصرية. السنن الصغرى للنسائي، أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، الطبعة: الثانية، 1406 – 1986. سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر ومحمد فؤاد عبد الباقي وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر الطبعة: الثانية، 1395 هـ - 1975 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان، مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، لمحمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية 1405 هـ - 1985م. ذخيرة العقبى في شرح المجتبى، المؤلف: محمد بن علي بن آدم الإثيوبي الوَلَّوِي دار المعراج الدولية للنشر ودار آل بروم للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى - 1416 هـ - 1996 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہجرت کا سلسلہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا، جب تک کافروں سے جنگ لڑی جاتی رہے گی

عن عبد الله بن وقدان السعدي قال: وَفَدْتُ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في وفد كُلُّنَا يَطلبُ حَاجة، وكنتُ آخرهم دُخُولاً على رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقلتُ: يا رسول الله، إني تَركتُ من خلفي وهم يَزْعُمُون أنَّ الهجرة قد انقطعت، قال: «لا تنقطع الهجرة ما قُوتِلَ الكُفَّارُ».
عبد اللہ بن وقدان سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک وفد کے ساتھ آیا۔ ہم میں سے ہر شخص آپ سے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس کر رہا تھا۔ میں سب سے آخر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میں اپنے پیچھے ایسے لوگوں کو چھوڑ آیا ہوں، جو سمجھتے ہیں کہ ہجرت کا سلسلہ اب بند ہو چکا ہے۔ آپ نے جواب دیا: "ہجرت کا سلسلہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا، جب تک کافروں سے جنگ لڑی جاتی رہے گی"۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

معزز صحابی عبد اللہ بن وقدان سعدی رضی اللہ عنہ اپنے یہاں کے کچھ لوگوں کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے۔ ان میں سے ہر شخص آپ سے کچھ نہ کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔ وہ آپ کے سامنے سب سے آخر میں حاضر ہوئے اور انھوں نے جو سوال پوچھے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ ان کے پیچھے رہ جانے والے لوگوں میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اب ہجرت کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ اس کا جواب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دیا کہ دارالکفر سے دارالاسلام کی جانب ہجرت کا سلسلہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا، جب تک مسلمانوں اور کافروں کے بیچ جنگ جاری رہے گی۔ یہ اور بات ہے کہ مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت بند ہو چکی ہے، کیونکہ ایک دوسری حدیث میں ہے : "لا هجرة بعد الفتح" یعنی فتح مکہ کے بعد مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت نہیں رہی (متفق علیہ)۔

حوالہ

السنن الصغرى للنسائي، أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، مكتب المطبوعات الإسلامية، حلب، الطبعة: الثانية، 1406 – 1986. مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى 1428. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان، مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي، الطبعة الأولى 1427. ذخيرة العقبى في شرح المجتبى.المؤلف: محمد بن علي بن آدم بن موسى الإثيوبي الوَلَّوِي، دار المعراج الدولية للنشر ودار آل بروم للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1416 هـ - 1996 م التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان، للشيخ الألباني، دار با وزير للنشر والتوزيع، جدة - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1424 هـ - 2003 م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م .

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com