عن عبد الله بن أبي أوفى رضي الله عنهما أنَّ رسول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- بَشَّرَ خَدِيجَةَ رضي الله عنها بِبَيتٍ فِي الجنَّة مِنْ قَصَبٍ، لاَ صَخَبَ فِيهِ، ولاَ نَصَبٍ.
عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موتیوں سے بنے ایک گھر کی بشارت دی جس میں نہ کوئی شور شرابہ ہوگا اور نہ ہی کوئی تھکن۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں کھوکھلے موتیوں سے بنے ایک محل کی خوشخبری دی جس میں نہ تو پریشان کن آوازیں ہوں گی اور نہ ہی تھکن۔ اُم المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا وہ سب سے پہلی خاتون ہیں جن سے نبی ﷺ نے شادی کی۔ نبی ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو آپ ﷺ کی عمر پچیس سال جب کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی۔ وہ اس وقت ثیبہ تھیں اور آپ ﷺ کی چاروں بیٹیاں اور تینوں یا دونوں بیٹے ان ہی سے پیدا ہوئے۔ ان کے ہوتے ہوئے آپ ﷺ نے کسی دوسری عورت سے شادی نہ کی یہاں تک کہ وہ وفات پا گئیں۔ رضی اللہ عنہا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت ہی عقل مند، ذہین اور حکیم خاتون تھیں جن کی اخلاقی صفات اور خوبیاں مشہور ہیں۔
حوالہ
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الدمام، الطبعة: الأولى 1415هـ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ.
كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى 1430هـ.
شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ.
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ.
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يومًا: «يا عائش، هذا جبريل يُقرِئك السلام» فقلت: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته، تَرى ما لا أَرى. تريد رسول الله صلى الله عليه وسلم .
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اے عائشہ یہ جبریل ہیں، جو تم کو سلام کہہ رہے ہیں"۔ میں نے کہا: ان پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ میں جو نہیں دیکھ پاتی آپ اسے دیکھتے ہیں۔ ایسا کہتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے تھی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ جبریل علیہ السلام تم کو سلام کر رہے ہیں، تو انھوں نے کہا : ان پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ اے اللہ کے رسول! میں جو نہیں دیکھ پاتی آپ اسے دیکھتے ہیں۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ تو جبریل کو دیکھ لیتے ہیں اور وہ ان کو دیکھ نہیں پاتیں۔
حوالہ
- صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
- إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ.
- منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري, حمزة محمد قاسم, راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط, مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية, 1410 هـ - 1990 م.
عن أبي موسى رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «كَمُل من الرجال كثير، ولم يَكمُل من النساء: إلا آسية امرأة فرعون، ومريم بنت عِمران، وإنَّ فضلَ عائشة على النساء كفضل الثَّرِيد على سائر الطعام».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مردوں میں سے بہت سے لوگ مرتبۂ کمال تک پہنچے، لیکن عورتوں میں سے صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران ہی مرتبۂ کمال تک پہنچیں اور عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے"۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ایسے مرد جو دینی اور اخلاقی فضیلتوں میں مرتبۂ کمال کو پہنچے، بہت ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ تو عام مرتبۂ کمال کو پہنچے، جیسے علما، صالحین اور اولیا۔ جب کہ کچھ لوگ کمال کے سب سے اونچے مرتبے پر فائز ہوئے، جیسے انبیاے کرام۔ لیکن اس کے بالمقابل ایسی عورتیں جو مرتبۂ کمال کو پہنچیں، بہت کم ہیں۔ جن میں سر فہرست دو عورتیں ہیں: ایک فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم، جن کے کامل ایمان کی مثال اللہ نے دی ہے۔ ارشاد ہے : {وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ} (اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال دی ہے۔) در اصل جب موسی علیہ السلام فرعون کے جادوگروں پر غالب آگئے، تو وہ ان پر ایمان لے آئیں اور جب فرعون کو ان کے ایمان کی خبر ہوئی، تو اس نے ان کو اتنی اذیتیں دیں کہ وہ دنیا سے سدھار گئیں۔ لیکن ہاں! ایمان کی دولت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ جب کہ دوسری عورت مریم بنت عمران ہیں، جن کی پاک بازی اور کمال عبادت کی اللہ نے مثال دی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا : "عائشہ کو عورتوں پر وہی فضیلت حاصل ہے، جو فضیلت ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے"۔ ثرید جو روٹی اور گوشت سے بنتا ہے، عربوں کا سب سے پسندیدہ پکوان ہے اور تمام عورتوں میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت بھی کچھ اسی طرح ہے, جیسے کہ سب سے زیادہ پسندیدہ کھانے ثرید کو تمام کھانوں فضیلت حاصل ہے۔
حوالہ
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية، عام النشر: 1410 هـ - 1990 م.
إكمال المعلم بفوائد مسلم لعياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، المحقق: الدكتور يحيى إسماعيل، الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر، الطبعة: الأولى، 1419 هـ - 1998 م.
عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: «إنَّ أمركنَّ لمِمَّا يُهِمُّني بعدي، ولن يصبر عليكن إلا الصابرون». قال: ثم تقول عائشة، فسقى الله أباك من سَلْسَبيل الجنة، تريد عبد الرحمن بن عوف، وقد كان وَصَل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم بمال، يقال: بيعت بأربعين ألفا.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں سے) فرمایا کرتے تھے: ”میرے بعد تمھارا معاملہ کچھ ایسا ہے، جو مجھے فکرمند رکھتا ہے۔ تمھارا خرچ وہی اٹھائیں گے، جو صابر لوگ ہیں“۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ تمھارے باپ کو جنت کے چشمۂ سلسبیل سے سیراب فرمائے۔ اس سے ان کی مراد عبد الرحمن بن عوف تھے۔ انھوں نے آپ ﷺ کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو -کہا جاتا ہے کہ- چالیس ہزار (دینار) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح
ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ بیان کر رہے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے ہوئے اپنی ازواجِ مطہرات سے مخاطب ہوئے کہ مجھے اپنی وفات کے بعد تمھارے معاملے اور تمھارے گزر بسر کے بارے فکر لاحق ہے؛ کیوں کہ میں نے تمھارے لیے کوئی میراث نہیں چھوڑی اور تمھارے اوپر خرچ کرنے کا بار صرف صبر کرنے والے لوگ ہی برداشت کریں گے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے کہا کہ اللہ تیرے باپ عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے اس چشمے سے سیراب کرے، جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ نے ازواج رسول ﷺ کے لیے ایک باغ بطور صدقہ دے دیا تھا، جو چالیس ہزار دینار میں فروخت ہوا تھا۔
حوالہ
سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ، 1975م.
مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى1421هـ، 2001م.
سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة الأولى لمكتبة المعارف، 1422هـ.
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى، دار الكتب العلمية، بيروت.
مرقاة المفاتيح، علي بن سلطان القاري ، دار الفكر، بيروت، لبنان، الطبعة: الأولى 1422هـ، 2002م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com