سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے لگے، یہاں تک کہ چٹان پرسیدھے کھڑے ہوگئے۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی۔

عن الزُّبير بن العَوَّام رضي الله عنه قال: كان على النبي صلى الله عليه وسلم دِرْعان يوم أحد، فنهض إلى الصَّخرة فلم يستطع، فأَقعد طلحة تحته، فصعد النبي -صلى الله عليه وسلم عليه- حتى استوى على الصخرة، فقال: سمعتُ النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «أَوْجِبْ طلحة».
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے لگے، یہاں تک کہ چٹان پرسیدھے کھڑے ہوگئے۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

نبی ﷺ نے غزوۂ احد کے دن دشمنوں کے نیزوں اور تیروں سے بچنے کے لیے لوہے سے بنی دو قمیصیں پہن رکھی تھیں۔ آپ ﷺ ایک چٹان کی طرف جانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ اس پر چڑھنا چاہتے تھے، لیکن نہیں پا رہے تھے۔ اس پر طلحہ رضی اللہ عنہ آکر نبی ﷺ کے نیچے بیٹھ گئے۔ نبی ﷺ ان پر سوار ہو کر چٹان پرچڑھ گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: "طلحہ نے واجب کر لی۔" یعنی طلحہ نے اپنے اس عمل کی وجہ سے یا غزوۂ احد میں انھوں نے جو کچھ کیا، اس کی وجہ سے اپنے لیےجنت واجب کر لی اور اپنے عمل کی وجہ سے اس کے حق دار ہو گئے۔

حوالہ

سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر، ومحمد فؤاد عبد الباقي، وإبراهيم عطوة عوض، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ- 1975م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى 1421هـ، 2001م. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة الأولى لمكتبة المعارف، 1422هـ. معجم اللغة العربية المعاصرة، أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل، الناشر: عالم الكتب، الطبعة: الأولى 1429هـ، 2008م. تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، محمد عبد الرحمن بن عبد الرحيم المباركفورى، دار الكتب العلمية، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
صحابہ رضی اللہ عنہم کے درجات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com