سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہر اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے میری امت! ہمارے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعًا: «إنَّ لكل أُمَّة أمِينًا، وإنَّ أمِيننا -أيتُها الأمة- أبو عُبيدة بن الجَرَّاح».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے میری امت! ہمارے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

تمام امتوں میں سے ہر امت میں ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو امانت میں دوسروں سے زیادہ معروف ہوتا ہے۔ امانت کے لحاظ سے اس امت کے سب سے زیادہ مشہور شخص ابو عبیدہ عامر بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگرچہ ان میں اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں صفتِ امانت ایک مشترک صفت تھی تاہم حدیث کے سیاق سے یہ پتا چلتا ہے کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس صفت میں دوسروں سے بڑھ کر تھے۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، حمزة محمد قاسم، راجعه: عبد القادر الأرناؤوط، عني بتصحيحه ونشره: بشير محمد عيون، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف، عام النشر: 1410هـ، 1990م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
صحابہ رضی اللہ عنہم کے درجات

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com