’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے۔ خاص طور سے اسلام کے ہراول دستہ کی حیثیت رکھنے والے مہاجر وانصار صحابہ کو۔ آپ نے آگے بتایا کہ اگر بعد کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو اتنا ثواب حاصل نہيں کر سکے گا، جتنا کسی صحابی کو ایک مد یا آدھا مد خرچ کرنے پر ثواب مل جایا کرتا تھا۔ مد متوسط جسامت والے انسان کےایک لپ بھر کو کہتے ہیں۔ صحابہ کو اتنا بڑا ثواب ان کے اخلاص، سچی نیت اور فتح مکہ سے پہلے ایسے وقت میں خرچ کرنے اور جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے ملا، جب اس کی اشد ضرورت تھی۔
- صحابہ کو گالی دینا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
صحيح البخاري (5/ 8) (3673). صحيح مسلم (4/ 1967) (2540). عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لبدر الدين العيني (16/ 187). المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي (16/ 93). الإفصاح عن معاني الصحاح، ليحيى بن هبيرة (8/ 70). نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر، لأحمد بن حجر العسقلاني (ص111).