سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق عقیدہ

1 احادیث

’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلاَ نَصِيفَهُ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے۔ خاص طور سے اسلام کے ہراول دستہ کی حیثیت رکھنے والے مہاجر وانصار صحابہ کو۔ آپ نے آگے بتایا کہ اگر بعد کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو اتنا ثواب حاصل نہيں کر سکے گا، جتنا کسی صحابی کو ایک مد یا آدھا مد خرچ کرنے پر ثواب مل جایا کرتا تھا۔ مد متوسط جسامت والے انسان کےایک لپ بھر کو کہتے ہیں۔ صحابہ کو اتنا بڑا ثواب ان کے اخلاص، سچی نیت اور فتح مکہ سے پہلے ایسے وقت میں خرچ کرنے اور جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے ملا، جب اس کی اشد ضرورت تھی۔

فوائد
  1. صحابہ کو گالی دینا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (5/ 8) (3673). صحيح مسلم (4/ 1967) (2540). عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لبدر الدين العيني (16/ 187). المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي (16/ 93). الإفصاح عن معاني الصحاح، ليحيى بن هبيرة (8/ 70). نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر، لأحمد بن حجر العسقلاني (ص111).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com