Al-Anfaal
Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.
Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَجِيبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ 24 وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةً ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ 25
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کہنا مانو تم اللہ کا اوراس کے رسول کا جب بلائے وہ تمھیں طرف اس (امر) کی جو زندگی بخشتا ہے تمھیں اور جان لو تم کہ یقینا اللہ حائل ہوجاتا ہے درمیان بندے اوراس کے دل کےاور بلاشبہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(24) اور ڈرو اس فتنے سے جو نہیں پہنچے گا(صرف) انھی لوگوں کو، جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے خاص طورپر اور جان لو تم! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(25)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لیے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انھوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ ﴿ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ ’’جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان۔‘‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمھارے پاس آئے تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمھارے درمیان حائل ہو جائے گا اور تمھارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ، اَللّٰہُمَّ مُصَرِّف الْقُلُوبِ صَرِّفْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ)( صحیح مسلم، القدر، ح:2654) فرمایا: ﴿ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کیے جاؤ گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔
[25]﴿ وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً﴾ ’’اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا‘‘ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں ، سب کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس لیے برائیوں سے منع کر کے، اہل شر کا قلع قمع کر کے کہ وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کر سکیں ، اس فتنہ سے بچا جائے۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔