İçeriğe geç
Tafsir As-Saadi - Urdu · Saad
Sure 38

Saad

Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.

Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı

Ayet 17

ٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَٱذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلْأَيْدِ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ 17

اور (کافروں نے) کہا: اے ہمارے رب! جلدی دے ہمیں ہمارا حصہ پہلے یوم حساب سے (16) صبر کیجیے ان باتوں پرجو وہ کہتے ہیں اور یاد کیجیے ہمارے بندے داؤ د صاحبِ قوت کو، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (17)

[16] یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا ﴾ یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے ﴿قَبۡلَ يَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن سے پہلے۔‘‘ وہ اپنے اس قول سے باز نہیں آتے۔ اے محمدﷺ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں۔

[17] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے۔‘‘ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو۔ وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوۡبِهَا ﴾(طٰہٰ:20؍130)(اے محمد!ﷺ) جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔‘‘ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤ دu ہیں وہ ﴿ذَا الۡاَيۡدِ ﴾ ’’صاحب قوت تھے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعبد، خوف، امید، کثرتِ گریہ زاری اور کثرتِ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہو جاتا، تو اس خلل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20)

[18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔

[20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔