Taa-Haa
Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.
Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı
فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَن لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرْدَىٰ 16
پس نہ روکے تجھ کو اس سے وہ شخص جو نہیں ایمان لاتا ساتھ اس کےاور پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی، پس تو (بھی) ہلاک ہو جائے (16)
[16] وہ شخص، جو قیامت کا انکار کرتا ہے اور اس کے واقع ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا وہ آپ(ﷺ) کو قیامت اور جزا و سزا پر ایمان لانے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے روک نہ دے۔ وہ اس بارے میں شک کرتا ہے اور شک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس بارے میں باطل دلائل کے ذریعے سے بحث کرتا ہے، خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے، مقدور بھر قیامت کے بارے میں شبہات پیدا کرتا ہے، اس کا مقصد حق تک پہنچنا نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ جس شخص کا یہ حال ہو اس کی بات پر کان دھرنے اور اس کے اقوال و افعال کو، جو قیامت پر ایمان لانے سے روکتے ہیں، قبول کرنے سے بچیے۔ جس شخص کا یہ حال ہے اس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے حکم دیا ہے کہ وہ ایسا شخص ہے جس کا دجل اور اس کی وسوسہ اندازی مومن کے لیے سب سے زیادہ ڈرنے کی چیز ہے اور نفوس انسانی کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ابنائے جنس کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ اس میں تنبیہ اور اشارہ ہے کہ ہر اس شخص سے بچا جائے جو باطل کی طرف دعوت دیتا ہے، ایمان واجب یا اس کی تکمیل سے روکتا ہے اور قلب میں شبہات پیدا کرتا ہے، نیز ان تمام کتابوں سے بچا جائے جو باطل نظریات پر مشتمل ہیں ۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، آخرت پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ تینوں امور ایمان کی اساس اور دین کا ستون ہیں ۔ اگر یہ امور کامل ہیں تو دین بھی کامل ہے اور ان امور کے فقدان یا ان کے ناقص رہنے سے دین بھی ناقص رہ جاتا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جس میں ان گروہوں کی سعادت اور شقاوت کی میزان کے بارے میں خبر دی گئی ہے، جن کو کتاب عطا کی گئی تھی۔ فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰؔبِـُٔوۡنَ وَالنَّصٰرٰى مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ۰۰﴾(المائدۃ:5؍69) ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے یا یہودی ہوئے یا صابی یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل بھی کرے گا، ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ ارشاد فرمایا:﴿ فَتَرۡدٰى ﴾ یعنی اگر آپ اس شخص کے راستے پر گامزن ہوئے جو مذکورہ امور سے روکتا ہے تو آپ ہلاک ہو کر بدبختی کا شکار ہو جائیں گے۔