Yusuf
Bu, Arapçadan başka bir dilde bir tefsirdir; Quranic Universal Library’de (QUL, Tarteel’e ait) bulunduğu hâliyle, spa5k/tafsir_api’nin tuttuğu QUL verilerinin açık kopyası üzerinden alınmıştır. QUL’un kaydı kimin yazdığını ya da çevirdiğini veya hangi basılı neşri izlediğini söylemez ve metin için bir lisans belirtmez; bu yüzden bunu gösterme hakkı doğrulanmamıştır. Kimse bunu basılı bir kitapla karşılaştırmadı ve hiçbir âlim gözden geçirmedi. Her bölüm, yorumladığı âyetlerin yanında durur; bu âyetler Tanzil’in Kur’ân metnidir, orada olduğu gibi gösterilir. Sabīl bunun hiçbirini yazmamış ve çevirmemiştir.
Metin kaynağı:Quranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 tarihinde alındı
ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ 102
یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں یہ آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ پاس ان (برادران یوسف) کے جب اتفاق کیا تھا انھوں نے اپنے معاملے پراور وہ مکرو فریب کرتے تھے (102)
[102] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مصطفیﷺ پر یہ قصہ بیان کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ خبر جس سے ہم نے آپ کو آگاہ کیا ہے۔ ﴿ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’غیب کی خبریں ہیں ، جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں ‘‘ اور اگر ہم آپ کی طرف وحی نہ کرتے تو اس جلیل القدر واقعہ کی خبر آپ تک نہ پہنچ سکتی۔ ﴿ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے۔‘‘ ﴿ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ ﴾ ’’جب وہ اتفاق کر رہے تھے اپنے کام پر‘‘ یعنی یوسف کے بھائی فریب پر اتفاق کر رہے تھے۔ ﴿ وَهُمۡ يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ چال چل رہے تھے۔‘‘ جبکہ ان کے اور ان کے باپ کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے اس طرح سازش کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہی تھا کہ اصل واقعہ معلوم کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اصل واقعہ سے آگاہ نہ کرے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰu کا قصہ بیان کرنے کے بعد وہ حالات بیان فرمائے جن کا علم، اللہ کی وحی کے بغیر مخلوق کو حاصل نہیں ہو سکتا تو وہاں فرمایا:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ…﴾(القصص: 28؍44) ’’اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی تو آپ طور کے غربی جانب نہ تھے اور نہ آپ اس واقعہ کا مشاہدہ کرنے والے تھے۔‘‘ اور یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے۔