Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Hujuraat
Sura ya 49

Al-Hujuraat

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 4–5

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَآءِ ٱلْحُجُرَٰتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ 4 وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا۟ حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 5

بلاشبہ وہ لوگ جو پکارتے ہیں آپ کو حجروں کے باہر سے، اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(4) اور اگربے شک وہ صبر کرتے حتی کہ آپ(خود ہی)نکلتے ان کی طرف تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(5)

[4] یہ آیت کریمہ، اعراب (عرب دیہاتیوں)میں سے، چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے جفا سے موصوف کیا ہے۔ وہ اس لائق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حدود کو نہ جانیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ یہ عرب دیہاتی رسول اللہﷺ کی خدمت میں وفد بن کر آئے اور انھوں نے آپ کو اپنے گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے پاس پایا، انھوں نے ادب کو ملحوظ نہ رکھا اور آپ کے باہر تشریف لانے تک انتظار نہ کر سکے اور پکارنا شروع کر دیا ’’اے محمد! اے محمد! (ﷺ) ہمارے پاس آؤ ‘‘ ... پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی عدم عقل کی بنا پر مذمت کی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے ساتھ ادب و احترام کو نہ سمجھ سکے۔ جیسا کہ ادب کا استعمال عقل مندی میں شمار ہوتا ہے، بندے کا باادب ہونا اس کی عقل کا عنوان ہے۔اللہ بندے کی بھلائی چاہتا ہے

[5] بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ صَبَرُوۡا حَتّٰى تَخۡرُجَ اِلَيۡهِمۡ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے، تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی بندوں سے جو گناہ صادر ہوتے ہیں اور ان سے ادب میں جو خلل واقع ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والا ہے، وہ ان پر بہت مہربان ہے کہ وہ ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔