Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Az-Zukhruf
Sura ya 43

Az-Zukhruf

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 36–39

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ ٱلرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُۥ شَيْطَـٰنًا فَهُوَ لَهُۥ قَرِينٌ 36 وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ 37 حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَنَا قَالَ يَـٰلَيْتَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ بُعْدَ ٱلْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ ٱلْقَرِينُ 38 وَلَن يَنفَعَكُمُ ٱلْيَوْمَ إِذ ظَّلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ 39

اور جو اندھا ہو جائے (تغافل کرلے) رحمٰن کے ذکر سے تو مقرر کر دیتے ہیں ہم اس کے لیے ایک شیطان کو، پس وہ اس کا ہم نشین ہو جاتا ہے (36) اور بلاشبہ وہ البتہ روکتے ہیں ان کو سیدھے راستے سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ ہدایت پر چلنے والے ہیں (37) یہاں تک کہ جب آئے گا وہ ہمارے پاس تو کہے گا: اے کاش! ہوتی میرے اور تیرے درمیان دوری مشرق اور مغرب کی، پس بہت برا ہے ہم نشین (38) اور ہرگز نہ نفع د ے گی تم کو آج، جبکہ ظلم کیا تم نے، یہ بات کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو(39)

[36] جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے سخت سزا کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَمَنۡ يَّعۡشُ ﴾ یعنی جو منہ موڑتا ہے ﴿عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان کے ذکر سے‘‘ جو قرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمان نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے۔ جو کوئی اس کو قبول کرے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اور وہ سب سے بڑے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے ، وہ خائب و خاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے سعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ اس کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتا ہے، اسے امیدیں دلاتا ہے اور اسے گناہوں پر ابھارتا ہے۔

[37]﴿وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ یعنی وہ انھیں صراط مستقیم اور دین قویم سے روکتے ہیں ﴿وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ شیطان کے باطل کو مزین کرنے ، اسے خوبصورت بناکر پیش کرنے اور اپنےاعراض کے باعث وہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔ پس دونوں برائیاں اکٹھی ہو گئیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا اس شخص کے لیے کوئی عذر ہے جو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس شخص اور اس قسم کے دیگر لوگوں کے لیے کوئی عذر نہیں، جن کی جہالت کا مصدر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی ہے، حالانکہ وہ ہدایت حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے قدرت رکھنے کے باوجود ہدایت سے منہ موڑا اور باطل کی طرف راغب ہوئے، اس لیے یہ گناہ ان کا گناہ اور یہ جرم ان کا جرم ہے۔

[38] اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرنے والے کا، اپنے ساتھی کی معیت میں یہ حال تو دنیا کے اندر ہے اور وہ گمراہی، بدراہی اور حقائق کو بدلنے کا جرم ہے۔ رہا ۔اس کا وہ حال جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا، تو وہ بدترین حال ہو گا، ندامت، حسرت اور حزن و غم کا حال ہو گا جو اس کی مصیبت کی تلافی کر سکے گا نہ اس کے ساتھی سے نجات دلا سکے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ يٰؔلَيۡتَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِيۡنُ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، اے کاش! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، پس تو برا ساتھی ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴾(الفرقان:25؍27-29) ’’اور اس روز جب ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور حسرت سے کہے گا، کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، ذکر ( یعنی قرآن) کے آجانے کے بعد، اس نے مجھے گمراہ کر ڈالااور شیطان تو انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔‘‘

[39]﴿وَلَنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡيَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّـكُمۡ فِي الۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُوۡنَ ﴾ قیامت کے روز تمھارا اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ عذاب میں اشتراک، تمھارے کسی کام نہ آئے گا، چونکہ تم ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے اس لیے اس عذاب میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ مصیبت میں تسلی بھی تمھارے کوئی کام نہ آئے گی۔ کیونکہ جب دنیا میں مصیبت واقع ہوتی ہے اور مصیبت زدگان اس میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی مصیبت قدرے ہلکی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ آخرت کی مصیبت میں تو ہر قسم کی عقوبت جمع ہوگی، اس میں ادنیٰ سی راحت بھی نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ یہ دنیاوی راحت بھی نہ ہو گی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی رحمت سے راحت عطا کر۔