Yaseen
Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.
Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21
وَمَا عَلَّمْنَـٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ 69 لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ 70
اور نہیں سکھایا ہم نے اس (رسول) کو شعر کہنا اور نہ(یہ) لائق ہی تھا اس کے، نہیں ہے وہ (کلام الٰہی) مگر ایک نصیحت اور قرآن واضح(69) تاکہ ڈرائے وہ اس کو جو ہے زندہ اور ثابت ہو جائے بات (اللہ کی) اوپر کافروں کے (70)
[69] مشرکین نبی مصطفی ﷺ پر شاعر ہونے کا بہتان لگایا کرتے تھے نیز یہ کہ جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں وہ شاعری ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو شاعری سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾ یعنی آپ کے لیے مناسب نہیں ہے کہ آپ شاعری کریں۔ یعنی آپ کا شاعر ہونا جنس محال میں سے ہے۔ آپ تو ہدایت یافتہ ہیں جبکہ شعراء گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ لوگ ہی ان شعراء کی پیروی کرتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے تمام شبہات کو دور کر دیا جن کا یہ گمراہ لوگ سہارا لیا کرتے ہیں ، چنانچہ اس شبہ کو بھی ختم کر دیا کہ آپ لکھ سکتے ہیں یا پڑھ سکتے ہیں اور آگاہ فرمایا کہ اس نے آپ کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہے:﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾یعنی یہ چیز جو محمد رسول ﷺ لے کر آئے ہیں ’’ذکر‘‘ ہے جس سے عقل مند لوگ تمام دینی مطالب میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں، وہ تمام دینی مطالب پر کامل ترین طریقے سے مشتمل ہے اور وہ عقلوں کو اس چیز کی یاددہانی کرواتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اچھے کام کرنے کے حکم اور برے کاموں سے ممانعت کے طور پر انسانی فطرت میں ودیعت کر دیا ہے۔﴿وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور واضح قرآن ہے‘‘ یعنی جن امور کی تبیین مطلوب ہے ان سب کو بیان کرتا ہے۔ اس لیے معمول کو حذف کر دیا تاکہ وہ اس حقیقت پر دلالت کرے کہ وہ پورے حق کو اور باطل کے بطلان کو اجمالی اور تفصیلی دلائل کے ذریعے سے بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رسول ﷺ پر اسی طرح نازل فرمایا۔
[70]﴿لِّيُنۡذِرَ مَنۡ كَانَ حَيًّا ﴾ ’’تاکہ اس شخص کو، جو زندہ ہو، متنبہ کرے۔‘‘ یعنی جو شخص دل زندہ رکھتا ہے وہی اس قرآن کے لائق ہے، اسی شخص کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن اس کے دل کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت عمدہ اور زرخیز زمین کے لیے بارش کی حیثیت ہوتی ہے۔ ﴿وَّيَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں پر بات پوری ہوجائے۔‘‘ کیونکہ ان پر حجت الٰہی قائم ہو گئی اور ان کی حجت منقطع ہو گئی اور ان کے پاس ایک ادنیٰ سا عذر اور شبہ باقی نہیں رہا جس کا وہ سہارا لے سکیں۔