Ar-Ra'd
Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.
Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَـٰلُهُم بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْـَٔاصَالِ ۩ 15
اور واسطے اللہ ہی کے سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے اور ناخوشی سے اور ان کے سائے بھی صبح اور شام کے وقت (15)
[15] یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے رب کی مطیع اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے ﴿ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا ﴾ ’’خوشی سے اور ناخوشی سے‘‘ (طَوْعاً) اس شخص کے لیے جو اختیاری طور پر اللہ کے سامنے جھکتا اور اسے سجدہ کرتا ہے جیسے اہل ایمان اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے ہیں (کَرْھاً) اس شخص کے لیے استعمال ہوا ہے جو تکبر کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتا مگر خود اس کی فطرت اور اس کا حال اس کی تکذیب کرتے ہیں ﴿ وَّظِلٰلُهُمۡ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ ﴾ ’’اور ان کی پرچھائیاں صبح اور شام‘‘ یعنی تمام مخلوقات کے سائے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ہر چیز کا سجدہ اس کے حسب حال ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ﴾(بنی اسرائیل: 17؍44) ’’اس جہان ہست و بود میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ۔‘‘ جب صورت حال یہ ہے کہ تمام کائنات طوعاً و کرہاً اپنے رب کے سامنے سرافگندہ ہے تو معلوم ہوا کہ وہی الٰہ حقیقی اور وہی معبود حقیقی ہے اور غیر اللہ کی الوہیت باطل ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ کی الوہیت کے بطلان کا ذکر کرتے ہوئے دلیل دی ہے۔