Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ar-Ra'd
Sura ya 13

Ar-Ra'd

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 12–13

هُوَ ٱلَّذِى يُرِيكُمُ ٱلْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنشِئُ ٱلسَّحَابَ ٱلثِّقَالَ 12 وَيُسَبِّحُ ٱلرَّعْدُ بِحَمْدِهِۦ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِۦ وَيُرْسِلُ ٱلصَّوَٰعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَن يَشَآءُ وَهُمْ يُجَـٰدِلُونَ فِى ٱللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ ٱلْمِحَالِ 13

وہی ہے (اللہ) جو دکھاتا ہے تمھیں بجلی ڈرانے اور امید دلانے کے لیےاور وہی پیدا کرتا ہے بادل بھاری (12)اور تسبیح بیان کرتی ہے گرج ساتھ اس کی حمد کےاور فرشتے بھی اس کے خوف سےاور وہ بھیجتا ہے کڑکتی بجلیاں ، پھر پہنچاتا (گراتا) ہے وہ بجلیاں جس پر چاہتا ہےاور وہ (کافر) جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بابت اور وہ شدید قوت والا ہے (13)

[12]﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُرِيۡكُمُ الۡـبَرۡقَ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾ ’’وہی ہے جو دکھاتا ہے تم کو بجلی، ڈرانے کے لیے اور امید دلانے کے لیے‘‘ یعنی اس بجلی (کے گرنے) کی وجہ سے کڑک اور عمارتوں کے منہدم ہونے کا نیز باغات اور کھیتیوں کے پھلوں پر مختلف اقسام کے ضرر رساں اثرات کا خدشہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں بھلائی اور فائدے کی امید بھی ہوتی ہے۔ ﴿ وَّيُنۡشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴾ ’’اور وہ بارش سے لدے ہوئے بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے۔‘‘ یہ بارش بندوں کو اور زمین کو فائدہ دیتی ہے

[13]﴿ وَيُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’اور تسبیح بیان کرتا ہے گرجنے والا، اس کی خوبیوں کی‘‘ (اَلرَّعْد) سے مراد بجلی کی کڑک کی آواز ہے جو بادلوں سے سنائی دیتی ہے اور بندوں کو ڈرا دیتی ہے۔ یہ کڑک اپنے رب کے سامنے جھکی ہوئی، اس کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرتی ہے۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ مِنۡ خِيۡفَتِهٖ﴾ ’’اور سب فرشتے اس کے ڈر سے‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے فروتنی کے ساتھ اور اس کی سطوت سے ڈرتے ہوئے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ﴿وَيُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ﴾ ’’اور بھیجتا ہے وہ کڑکتی بجلیاں ‘‘ اس سے مراد وہ آگ ہے، جو بادلوں سے نکلتی ہے ﴿ فَيُصِيۡبُ بِهَا مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’پھر ڈالتا ہے ان کو جس پر چاہے‘‘ وہ یہ کڑکتی ہوئی بجلیاں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور جتنی چاہتا ہے اور جب ارادہ کرتا ہے گرا دیتا ہے ﴿ وَهُمۡ يُجَادِلُوۡنَ فِي اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ شَدِيۡدُ الۡمِحَالِ ﴾ ’’اور وہ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی گرفت سخت ہے‘‘ وہ بہت زیادہ قوت و اختیار کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے کوئی اس کے سامنے دم مار سکتا ہے نہ بھاگ کر بچ سکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ اکیلا ہی، بندوں کے لیے بادل اور بارش لاتا ہے جس کے اندر ان کے رزق کا مادہ ہے، وہی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، بڑی سے بڑی مخلوق اس کے خوف سے نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے سرافگندہ ہے، بندے اس کے خوف سے لرزاں ہیں اور وہ بہت بڑی قوت کا مالک ہے… تب وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔