Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Yunus
Sura ya 10

Yunus

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 53–56

وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ إِى وَرَبِّىٓ إِنَّهُۥ لَحَقٌّ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ 53 وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِى ٱلْأَرْضِ لَٱفْتَدَتْ بِهِۦ ۗ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ 54 أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ 55 هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ 56

اور وہ خبر دریافت کرتے ہیں آپ سے، کیا حق ہے وہ( عذاب)؟ آپ کہہ دیجیے! ہاں ! قسم ہے میرے رب کی! بلاشبہ وہ یقینا حق ہےاور نہیں تم عاجز کر سکتے (اللہ کو)(53) اور اگر بے شک ہو واسطے ہر نفس کے جس نے ظلم کیا، جو کچھ ہے زمین میں (سارا) تو ضرور فدیہ دے دے گا وہ ساتھ اس کےاورچھپائیں گے وہ (مجرم) ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے ساتھ انصاف کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (54) آگاہ رہو! بے شک واسطے اللہ ہی کے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، خبر دار! بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(55) وہی زندہ کرتا ہے اور (وہی) مارتا ہےاوراسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(56)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿وَيَسۡتَنۢۡبِـُٔوۡنَكَ﴾ ’’اور آپ سے دریافت کرتے ہیں ۔‘‘ یہ مکذبین تحقیق و تبیین اور طلب ہدایت کے لیے نہیں بلکہ عناد اور نکتہ چینی کے قصد سے آپ سے پوچھتے ہیں ﴿اَحَقٌّ هُوَ﴾ ’’کیا آیا یہ سچ ہے؟‘‘ یعنی کیا یہ بات صحیح ہے کہ انسانوں کے مرنے کے بعد قیامت کے روز انھیں دوبارہ زندہ کر کے جمع کیا جائے گا، پھر ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اچھے اعمال کا بدلہ اچھا ہوگا اور برے اعمال کا بدلہ برا ہوگا۔ ﴿قُلۡ﴾ ’’کہہ دیجیے!‘‘ اس کی صحت پر قسم اٹھا کر اور واضح دلیل کے ذریعے سے اس پر استدلال کرتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿اِيۡ وَرَبِّيۡۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ﴾ ’’قسم ہے میرے رب کی، یہ یقینا حق ہے‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم عاجز نہ کرسکو گے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو دوبارہ اٹھانے سے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں تمھیں پیدا کیا ہے جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے اسی طرح وہ دوبارہ تمھیں پیدا کر سکتا ہے تاکہ وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے۔

[54]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب قیامت برپا ہوگی ﴿لَوۡ اَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ ﴾ اگر ہو ہر گناہ گار کے پاس جس نے کفر و معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا ﴿ مَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ زمین میں ہے‘‘ یعنی زمین میں جو سونا چاندی وغیرہ ہے تو وہ سب کا سب اپنے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے فدیہ میں دے دے۔ ﴿لَافۡتَدَتۡ بِهٖ﴾ ’’تو وہ ضرور فدیے میں دے دے۔‘‘ مگر یہ فدیہ دینا اس کے کسی کام نہ آئے گا کیونکہ نفع و نقصان اور ثواب و عذاب تو نیک اور برے اعمال پر منحصر ہے۔ ﴿ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّؔا رَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور چھپے چھپے پچھتائیں گے وہ جب دیکھیں گے عذاب‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا دل ہی دل میں اپنے اعمال پر پچھتائیں گے مگر اب رہائی کا کوئی وقت نہیں ہو گا۔ ﴿ وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا۔‘‘ یعنی کامل انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ جس میں کسی پہلو سے بھی ظلم و جور نہیں ہوگا۔

[55]﴿اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’خبردار، اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘ وہ ان کے درمیان حکم دینی اور حکم قدری کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور قیامت کے روز وہ حکم جزائی کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’خبردار، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اس لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے تیاری نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات وہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں رکھتے، حالانکہ نہایت تواتر کے ساتھ قطعی دلائل اور عقلی اور نقلی براہین اس ملاقات پر دلالت کرتے ہیں ۔

[56]﴿هُوَ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’وہی جان بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زندگی اور موت میں تصرف کرتا ہے اور وہ ہر قسم کی تدبیر کرتا ہے اور تدبیر کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤگے۔‘‘ قیامت کے روز۔ پس وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔