Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir Ibn Kathir · Al-Anbiyaa
Sura ya 21

Al-Anbiyaa

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 89–90

وَزَكَرِيَّآ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُۥ رَبِّ لَا تَذَرْنِى فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْوَٰرِثِينَ 89 فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ وَوَهَبْنَا لَهُۥ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُۥ زَوْجَهُۥٓ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ يُسَـٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ۖ وَكَانُوا۟ لَنَا خَـٰشِعِينَ 90

دعا اور بڑھاپے میں اولاد ٭٭

اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ ” انہوں نے دعا کی کہ مجھے اولاد ہو جو میرے بعد نبی بنے “۔ سورۃ مریم میں اور سورۃ آل عمران میں یہ واقعہ تفصیل سے ہے۔ آپ علیہ السلام نے یہ دعا چھپا کر کی تھی، ”مجھے تنہا نہ چھوڑ“ یعنی بے اولاد۔

دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔

صفحہ نمبر5510