U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · Qaaf
Suuradda 50

Qaaf

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadaha 1–4

قٓ ۚ وَٱلْقُرْءَانِ ٱلْمَجِيدِ 1 بَلْ عَجِبُوٓا۟ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ ٱلْكَـٰفِرُونَ هَـٰذَا شَىْءٌ عَجِيبٌ 2 أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ۖ ذَٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيدٌ 3 قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ ٱلْأَرْضُ مِنْهُمْ ۖ وَعِندَنَا كِتَـٰبٌ حَفِيظٌۢ 4

قٓ! قسم ہے قرآن مجید کی(1)بلکہ انھوں نے تعجب کیا کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، تو کہا کافروں نے یہ ایک عجیب چیز ہے(2) کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے ہم مٹی (تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے؟) یہ واپسی تو بہت بعید ہے(3) تحقیق ہمیں علم ہے جو کچھ کم کرتی ہے زمین ان میں سے، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے (ہر چیز کی) حفاظت کرنے والی(4)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھاتا ہے۔ یعنی اس کے معانی بہت وسیع اور عظیم، اس کے پہلو بے شمار ہیں، اس کی برکات بے پایاں اور اس کی عنایات بہت زیادہ ہیں۔ (مَجْد) کا معنی ہے اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت۔ (مجد) سے موصوف ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کلام، یہ قرآن ہے جو اولین و آخرین کے علوم پر مشتمل ہے، جس کی فصاحت کامل ترین، جس کے الفاظ عمدہ ترین اور جس کے معانی عام اور حسین ترین ہیں۔

[2] یہ اوصاف اس کی کامل اتباع، اس کی فوری اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر کے موجب ہیں۔مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے بنابریں فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا﴾ یعنی رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے تعجب کرتے ہیں۔ ﴿ اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ﴾یعنی ان ہی میں سے ایک متنبہ کرنے والا آیا، جو انھیں ایسے امور کے بارے میں متنبہ کرتا ہے جو انھیں نقصان دیتے ہیں اور وہ انھیں ایسے امور کا حکم دیتا ہے جو انھیں فائدہ دیتے ہیں، اور وہ خود ان کی جنس سے ہے جس سے علم حاصل کرنا، اس کے احوال اور اس کی صداقت کے بارے میں معرفت حاصل کرنا ممکن ہے۔ پس انھوں نے ایک ایسے امر پر تعجب کیا جس پر تعجب کرنا ان کے لیے مناسب نہیں بلکہ اس پر تعجب کرنے والی عقل پر تعجب کرنا چاہیے۔﴿ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ کافر کہنے لگے۔‘‘ جس نے ان کو اس تعجب پر آمادہ کیا ہے وہ ان کی ذہانت اور عقل کی کمی نہیں بلکہ ان کا کفر اور تکذیب ہے۔ ﴿هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾یہ بڑی انوکھی چیز ہے، ان کا اس کو انوکھا اور نادر سمجھنا دو امور میں سے کسی ایک پر مبنی ہے۔(۱)یا تو وہ اپنے تعجب اور اسے انوکھا سمجھنے میں سچے ہیں، تب یہ چیز ان کی جہالت اور کم عقلی پر دلالت کرتی ہے، اس پاگل اور مجنون شخص کی مانند، جو عقل مند شخص کے کلام پر تعجب کرتا ہے، اس بزدل شخص کی مانند جو شہسوار کے شہسواروں کے ساتھ بھڑ جانے پر تعجب کرتا ہے اور اس کنجوس کی مانند جو سخی لوگوں کی سخاوت پر تعجب کرتا ہے جس کا یہ حال ہو، اس کے تعجب کرنے سے کون سا نقصان ہے؟ کیا اس کا تعجب اس کی بہت زیادہ جہالت اور اس کے ظلم کی دلیل نہیں؟(۲) یا ان کا تعجب اس لحاظ سے ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی غلطی کو جانتے ہیں، تب یہ سب سے بڑا اور بد ترین ظلم ہے۔

[4,3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے تعجب کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾ ’’بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا پھر زندہ ہوں گے) یہ زندہ ہونا بعید ہے۔‘‘ انھوں نے اس ہستی کی قدرت کو، جو ہر چیز پر قادر اور ہر لحاظ سے کامل ہے محتاج بندے کی قدرت پر قیاس کیا ہے جو ہر لحاظ سے عاجز ہےاور جاہل کو، جسے کسی چیز کا علم نہیں، اس ہستی پر قیاس کیا ہے جو ہر چیز کا علم رکھتی ہے اور برزخ میں قیام کی مدت کے دوران، زمین ان کے اجساد میں جو کمی کرتی ہے، وہ اسے بھی جانتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں درج کر رکھا ہے، یعنی جو کچھ ان کی زندگی اور موت میں ان کے ساتھ وقوع پذیر ہو گا، اس کے بارے میں یہ کتاب ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کامل اور وسیع علم کے ذریعے سے ، جس کا اس کے سوا اور کوئی احاطہ نہیں کر سکتا، اس کی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت پر استدلال ہے۔