U bood nuxurka
Buugga 38 · Ihya Ulum al-Din
Buugga 38 · اردو

مُراقَبَہ ومُحاسَبَہ کا بیان

Tarjumaaddani waa tan turjumaankeeda, ma aha tan Sabīl. Waxaa lagu muujiyaa sida ishu u bixiso, qoraal gooni ah kitaab kasta hoostiisa oo leh cinwaannada turjumaanka laftiisa: sadar sadar uma taagna Carabiga agtiisa, waxayna sidataa khaladaadka nuqulka laga akhriyay. Sabīl kama hubin Carabiga, culimona dib uma eegin.

Waxaa tarjumay Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںLaga akhriyay dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)la qaaday 2026-10-22

Waxa ishu ka sheegto: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےلئے ہیں جو ہرجان کے اعمال کی نگہداشت رکھتاہے اور ہر کا سِب کے کسَب کو دیکھنے والاہے۔دلوں کے پوشیدہ وسوسوں پر مطلع ہے اور بندوں کے قلبی خیالات کا حساب وکتاب کرنے والا ہے۔ آسمان وزمین میں ذرّہ برابر کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں خواہ وہ چیزحرکت کرے یا پُرسکون ہو۔ وہ گٹھلی کےسوراخ اور اس کی جھلی کے برابر اور کم یا زیادہ تمام اعمال کا حساب وکتاب کرنے والا ہے اگرچہ اعمال پوشیدہ ہوں۔ بندوں کے نیک اعمال قبول فرماتا ہے اگرچہ وہ چھوٹے ہوں اور ان کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے اگرچہ زیادہ ہوں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کا حساب وکتاب اس لئے فرماتا ہے تاکہ ہر جان کو اپنے عمل کا علم ہوجائے اور وہ دیکھ لے کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑا نیزاسے معلوم ہوجائے کہ اگر دنیا میں اس پر نگرانی اور محاسبہ کو لازمی قرار نہ دیا جائے تو وہ حشرکے میدان میں بدبختی کاشکار ہو اور ہلاکت میں جاپڑے۔ پھراگر حساب وکتاب کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل و کرم نہ ہواوروہ اعمال کو قبول نہ فرمائے تو ہر جان نقصان اور خسارے میں رہے گی۔

پاکی ہے اس ذات کو جس کی نعمت تمام بندوں کو شامل ہے اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔اسی ذات کے فضل و احسا ن کی خوشبوؤں سے دل ایمان کے لئے کھل اٹھے اور اسی ذات کی توفیق کی برکت سے اعضاء عبادات کے پابند اوراس کے لئے تیار ہوگئے۔ اسی ذات کے حُسْنِ ہدایت سے دلوں سے جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے اور اسی کی تائیدو نصرت سے شیطانی فریب دورہوگئے۔ اس کے لطف و کرم سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگیا اور اس کے آسان کرنے سے عبادات آسان ہوگئیں۔ کیونکہ عطا و جزا، قربت ودوری اورنیک بختی و خوش بختی سب اسی کی طرف سے ہے۔درود ہو سیِّدُالانبیا حضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور آپ کی آل پر جو صوفیا کے سردار ہیں اور آپ کے اصحاب پر جو متقین کےقائد ہیں۔

مراقبہ اور محاسبہ کے متعلق سات فرامین باری تعالٰی :

(1)… وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْــٴًـاؕ-وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَاؕ-وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ(۴۷) ( پ ۱۷، الانبیآء : ۴۷)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گےقیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اُسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو ۔

(2)… وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠(۴۹) ( پ ۱۵، الکھف : ۴۹)

ترجمۂ کنز الایمان : اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نَوِشْتہ(تحریر) کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

(3)… یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْاؕ-اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠(۶) ( پ ۲۸، المجادلة : ۶)

ترجمۂ کنز الایمان : جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا پھر انھیں اُن کے کوتک(کرتوت) جتادے گا اللہ نے انھیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے ۔

(4)…یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶)فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)) پ ۳۰، الزلزال : ۶ تا ۸)

ترجمۂ کنز الایمان : اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہو کر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گااور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔

(5)… ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠(۲۸۱) ( پ ۳، البقرة : ۲۸۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

(6)… یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ﳝ- وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍۚۛ-تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًاؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ- ( پ ۳، اٰل عمرٰن : ۳۰)

ترجمۂ کنز الایمان : جس دن ہر جان نے جو بھلا کام کیا حاضر پائے گی اور جو بُرا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔

(7)… وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُۚ- ( پ ۲، البقرة : ۲۳۵)

ترجمۂ کنز الایمان : اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو۔

ا ہْلِ بصیرت یہ جانتے ہیں کہ رب عَزَّ وَجَلَّ سے کچھ پوشیدہ نہیں، عنقریب ان سے حساب ہونا ہے اور تمام خیالات ولمحات کا حساب دینا ہے۔انہیں یقین ہےکہ ان خیالات سے حفا ظت کی یہی صورت ہے کہ ہمیشہ سچے دل سے اپنے احوال کی نگرانی اور نفس کامحاسبہ کیا جا ئے نیز ہر سانس وحرکت اور ہرلحظہ و لمحہ نفس پر کڑی نظر رکھی جائے کیونکہ جس نے حساب وکتا ب سے پہلے خود اپنا محاسبہ کرلیا بروز ِ قیامت اس کا حساب آسان ہوگا اور سوال کے وقت وہ جواب دے سکے گا نیز اس کا انجام و ٹھکا نابھی اچھا ہوگا اور جو آدمی اپنا محاسبہ نہیں کرتا اسےحشر کے میدان میں زیادہ دیر رکنا پڑے گااوروہ ہمیشہ حسرت کا شکار رہے گا نیز اس کی برائیاں اسے غضب و رُسوائی میں مبتلا کردیں گی۔

ان باتوں کے منکشف ہونے کی وجہ سےاہل بصیرت نے جان لیاکہ ان خرابیوں سے حفاظت صرف اطاعَتِ خداوندی کے ذریعے ہی ممکن ہے جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کو صبر اور نفس کی نگہبانی کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فر مایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- ( پ ۴، اٰل عمرٰن : ۲۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والوصبرکرو اور صبرمیں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو۔

اہْلِ بصیرت حضرات نے اپنے نفسوں کی نگہداشت اس طرح کی کہ پہلے انہیں چند شرائط کا پابند کیا پھر نفس کی نگرانی اور محاسبہ کرتے ہوئے اسے سزا دی پھر مجاہدہ کرکے نفس پر عتاب کیا تو گویا نفس کی نگرانی کے لئے انہیں چھ مرحلے اور مقامات سے گزرناپڑتا ہےلہٰذا ان سب کی تشریح اور حقیقت و فضیلت بیان کرنا بھی ضروری ٹھہرا نیز ان مراحل میں کئے جانےوا لےاعمال کی تفصیل بیان کرنا بھی لازمی ہے اوران سب کی اصل محاسَبۂ نفس ہے لیکن ہرمرحلے کامحاسبہ کرنا نگرانی اور مقررہ شرائط کے بعد ہوتا ہے پھر اگرمحاسَبۂ نفس کے بعد عمل میں کمی نظر آئے تو نفس پرعِتاب اور عِقَاب ہوتا ہے۔ اب ہم توفیْقِ خُداوندی سے ان تمام مقامات کی تشریح کر یں گے۔

باب نمبر1 : نفس کو شرائط کاپابندبنانا

مشتر کہ ساما ن میں جو لوگ مل کر تجارت کرتے ہیں ان کا مقصد حسا ب وکتا ب میں نفع کی سلامتی ہوتا ہے، تاجر اپنے شریک کو مالِ تجا رت دے کر اس سے مدد حاصل کرتاہے تاکہ وہ تجارت کرے پھر یہ اس سےنفع کاحساب و کتاب کرے۔اسی طرح راہِ آخرت میں عقل تاجر کی طرح ہے جس کا مقصد اور نفع فقط تزکیۂ نفس ہے کیونکہ یہی کامیابی کا باعث ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹)وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰) ( پ ۳۰، الشمس : ۹، ۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک مراد کو پہنچا جس نے اُسے ستھرا کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا۔

نفس کو کامیابی اچھے اعمال کے ذریعے ملتی ہے اورعقل آخرت کی تجارت میں نفس سے مددلیتی ہے یعنی اسے استعمال کرتی ہے اور تزکیہ نفس کا پابند کرتی ہے جیسا کہ تاجر اپنے شریک تجا رت اور ملازم سے مدد طلب کرتا ہے تاکہ یہ دونوں مالِ تجارت میں اضافہ کریں۔ تو جس طرح تا جرشریْکِ سے حساب وکتاب کے معاملے میں جھگڑنے سے بچنے کے لئے ان باتوں کا محتاج ہوتا ہے کہ پہلے اسے چندشرائط کاپا بند کرے پھر اس کی نگرانی کرے،اس کے بعدحساب وکتاب کرےپھر (اگر خیانت پائےتو)ڈانٹ ڈپٹ کرےیاسزا دے اسی طرح عقل بھی پہلے نفس کوچندشرائط کاپا بند بنا تی ہے اوران شرائط کے ساتھ چند ذمہ داریاں عائد کر تی ہے نیز کامیابی کے راستوں پر اس کی راہ نمائی کرتی ہے اور ان راستوں پر چلنے کی تاکید کرتی ہےاور لمحہ بھر نفس کی نگرانی سے غافل نہیں ہوتی کیونکہ اگر عقل نفس کو آزادچھوڑدے تو اس سے خیانت اور اصل سرمایہ ضا ئع ہونے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا جس طرح خائن ملازم پر اعتماد کر کے مال سپرد کردینے سے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ان مراحل کے پیش نظر محاسَبۂ نفس اورشرائطِ مقررہ کو پورا کرنے کا مطالبہ ہونا چاہئے کیو نکہ اس اُخروی تجارت کا ثمرہ فردوس اعلیٰ(جنت)کی صورت میں ملتا ہے اورانبیاوشہدا عَلَیْہِمُ السَّلَام کی ہمراہی میں سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی تک رسائی ملتی ہے اور دنیوی نفع کے بجائے اُخروی نفع کی گہرائی میں جانا بہت ضروری ہے کیونکہ دنیوی نفع اُخروی نعمتوں کے مقابلے میں کچھ نہیں ہےاوردنیوی نفع عا رضی بھی ہے جبکہ اُخروی نعمتیں دائمی ہیں توایسے مال کا کیافا ئد ہ جو ہلاکت و بربادی کی طرف لے جا ئے؟ایسے عارضی فائدے میں کو ئی بھلائی نہیں بلکہ اس سے اچھا تو عارضی شر ہے کیونکہ اگر عارضی شرختم ہوجائے تو برائی بالکل ختم اور دائمی خوشی حاصل ہوتی ہے لیکن عارضی بھلائی کے ختم ہونے پر ہمیشہ کے لئے افسوس رہتا ہے ۔اسی لئے کسی شاعر نے کہا :

اَشَدُّ الْغَمِّ عِنْدِیْ فِیْ سُرُوْرٍ تَیَـقَّنَ عَنْہ ٗ صَاحِبُہُ انْتِقَالًا

ترجمہ : جس خوشی کے چلے جانے کا یقین ہو مجھے اس خوشی پر زیادہ رنج و ملال ہے۔

لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہر عقل مند شخص پرلازم ہے کہ وہ نفس کے محاسبہ سے غافل نہ ہواورنفس کی حرکات و سکنات اور لذات وخیالات پر سختی کرے کیونکہ زندگی کا ہر سانس انمول ہیرا ہے جس سے ہمیشہ باقی رہنے والی نعمت(یعنی جنت )خریدی جاسکتی ہےتو ان سانسوں کو ضائع کرنا یاہلا کت والے کاموں میں صَرف کرنا بہت سنگین اوربڑا نقصان ہے جو سمجھدار شخص کاشیوہ نہیں۔

ہر صبح نفس کو مخاطب کرو :

جس طرح تاجر شریک کو مال سپرد کرنے سے پہلےکچھ وقت نکالتا ہے جس میں وہ اپنے شریک کو بعض باتوں کا پابند کرتا ہےاسی طرح بندے کو چاہئے کہ وہ نمازِ فجر سے فارغ ہونے کے بعدنفس کو پا بند بنانے کے لئے کچھ وقت دل کے لئے نکالےاوراسے آگاہ کرے کہ اے نفس!میری تمام جمع پونجی یہ زندگی ہے،اگر یہ ضائع ہوگئی تو میرا تمام مال ضائع ہوجائے گا اور مجھے اُخروی تجارت اور اس کے نفع سے مایوس ہونا پڑے گا، آج مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مہلت دی ہے اور ابھی تک موت سے ہمکنار نہیں کیا گویایہ میرے رب تعالیٰ کی طرف سےایک انعام ہےکیونکہ اگر وہ مجھے دیگر لوگوں کی طرح موت دے دیتا تو میں بھی صرف ایک دن کے لئے دنیامیں آنے کی مہلت مانگتا تاکہ کوئی نیک اعمال کرسکوں۔ اے نفس!تو یہ سمجھ کہ تجھے موت آگئی تھی، اب تجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا گیا ہے لہٰذا تو آج کے دن کو ضائع کرنے سے بچ کیونکہ ہر سانس انمول ہیرا ہے۔ اے نفس!یاد رکھ دن رات میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں جیساکہ حدیث شریف میں آیاہے : ’’(بروز قیامت ) ہر شخص کے لئے دن اور رات کے چوبیس خزانے پھیلائے جائیں گے اوران میں سے ایک خزانہ بندے کے سا منے پیش کردیا جائےگا۔اس خزانے میں وہ اپنے کئے ہو ئے نیک اعما ل کو نور سے بھرا ہوا دیکھے گا تو بہت زیادہ خوش ہوگا کیونکہ یہ انوار عظمت والے بادشاہ تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں اوراس خو شی کاعالم یہ ہوگا کہ اگراسے جہنم والوں میں تقسیم کر دیاجائے توجہنمی ا س خوشی کے سبب اپنی تکلیف کے احساس کو بھول جا ئیں۔ پھر بندےکے لئے سیاہ تاریک خزانہ کھولا جائے گا جو بدبو دار ہوگا اور تاریکی اسے ڈھانپے ہوگی یہ گھڑی وہ ہوگی جس میں اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافر مانی کی ہوگی جسے دیکھ کراسے ایسے دہشت وخوف کا سامنا ہوگا کہ اگر اس دہشت و خوف کوجنتیوں میں تقسیم کردیاجائے تو ان پر جنتی نعمتوں کا مزہ کم ہوجائے۔ پھر ایک خزانہ کھو لاجا ئے گااس میں نہ ظلمت ہو گی نہ نو ر ہوگا یہ گھڑی وہ ہوگی جن میں بندہ سویا رہا یا عمل سے غافل رہا یا دنیاوی جائز کاموں میں مشغول رہا۔ اس خزانے کو خالی دیکھ کر بندے کو ایسی حسرت ہوگی جیسے کسی تا جر کو تجارت میں بڑے نفع پر قدرت رکھنے کے با وجوداور بادشاہ کواپنی سستی کی وجہ سے موقع ہاتھ سے نکلنے کے سبب نقصان اٹھانا پڑے۔ اے نفس! تجھے اتنا نقصان اور حسرت کافی ہے،مزید نہیں۔ اسی طرح بندے پر زندگی بھر کے خزانے پیش کئے جائیں گے۔‘‘

نفس کو سمجھاؤ :

اپنے نفس کو سمجھاؤ کہ آج محنت کرلے تاکہ خزانے بھرے رہیں اور نفس کوان خزانوں کے جمع کر نے سےفا رغ نہ رکھو جو تمہاری سلطنت کا باعث ہیں۔نفس کو سمجھا ؤ کہ سستی، آرام طلبی اور کاہلی کی طرف نہ جائے ورنہ تم دیگر لوگوں کو ملنے والے عِلِّیِّیْن کے درجات سے محروم ہوجاؤگے اگرچہ جنت میں داخل ہوجاؤ لیکن حسرت تم سے چمٹ کر با قی رہے گی نیزنقصان اور حسرت کی تکلیف تم برداشت نہیں کرپاؤگے اگرچہ وہ جہنم کے عذاب سے کم ہے۔

آخرت کا خسارہ :

ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ”یہ ٹھیک ہے کہ گناہ گار کی بخشش ہوگی لیکن کیا وہ نیکی کرنے والوں کے ثواب و درجات سے محروم نہیں ہوگا؟“

گو یا بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےایسا فر ماکر خسا رے اور حسرت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فر ماتا ہے :

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِؕ- ( پ ۲۸، التغابن : ۹)

ترجمۂ کنز الایمان : جس دن تمہیں ا کھٹا کرے گا سب جمع ہونے کے دن وہ دن ہے ہار والوں کی ہار کھلنے کا۔

یہ تو اوقات کے حوالے سے نفس کو آگاہی ہے۔اس کےبعدنفس کو سات اعضاء یعنی آنکھ، کان، زبان، پیٹ، شرمگاہ ،ہاتھ اور پاؤں کے حوالے سے آگا ہ کرواور ان اعضاء کو نفس کے حوالے کردو کیونکہ اس تجارت میں یہ اعضاء نفس کے خادم ورعا یا ہیں اوراس تجارت کے اُمور ان ہی اعضاء کے ذریعے مکمل ہوتے ہیں نیز جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لئے ایک حصہ مقرر ہے اور یہ دروازے اِن اعضاء کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرنے والے شخص کے لئے متعین ہیں۔لہٰذا نفس کوآگا ہ کرو کہ ان اعضا ءکو گناہوں سے محفوظ رکھے۔

40 ka mid ah 706
Qoraalka Carabiga
كتاب المراقبة والمحاسبة وهو الكتاب الثامن من ربع المنجيات من كتاب إحياء علوم الدين

Qoraalka waxaa laga helayOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472la qaaday 2026-10-21

Kani waa qoraalka Carabiga ah ee Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn ee al-Ghazālī sida uu ugu jiro ururinta OpenITI, oo laga soo qaaday nuqulka Shamela ee daabacaadda Dār al-Maʿrifa. Cidna lama barbar dhigin buugga daabacan ama qoraal gacmeed, culimona ma dib u eegin. Ururintu waxay sheegaysaa in boggaga qaarkood qayb qoraalka ka mid ah ay maqan tahay iyo in qoraallada hoose ee tifaftiraha ay qoraalka ku dhex qasmeen; labadaba waxaa loo muujiyaa sidooda. Boggaga daabacaadda waxaa lagu calaamadeeyay meesha ay ku dhammaadaan. Tarjumaadahu waa kuwa turjumaannadooda; mid kastaa waxaa laga akhriyay nuqulka la magacaabay oo la socda, waxaana lagu muujiyaa qoraal gooni ah kitaab kasta hoostiisa oo leh cinwaanno u gaar ah: midna sadar sadar lama barbar dhigin Carabiga, Ingiriisiga Karim wuu soo gaabiyaa buugga sida turjumaankiisu sheegay, mid kastaana waxay sidataa khaladaadka nuqulka laga akhriyay. Sabīl waxba ma tarjumin, tarjumaad kalena kama hubin Carabiga, culimona midna dib uma eegin.