نِیَّت،اِخلاص اور صِدْق کا بیان
Tarjumaaddani waa tan turjumaankeeda, ma aha tan Sabīl. Waxaa lagu muujiyaa sida ishu u bixiso, qoraal gooni ah kitaab kasta hoostiisa oo leh cinwaannada turjumaanka laftiisa: sadar sadar uma taagna Carabiga agtiisa, waxayna sidataa khaladaadka nuqulka laga akhriyay. Sabīl kama hubin Carabiga, culimona dib uma eegin.
Waxaa tarjumay Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںLaga akhriyay dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)la qaaday 2026-10-22
Waxa ishu ka sheegto: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
ہم شکرگزاربندوں کی تعریف کی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعریف بجالاتے ہیں اوریقین والوں کے ایمان کی طرح اس پر ایمان لاتے ہیں اورصادقین کے اقرار کی طرح اس کی وَحْدانِیَّت کااقرار کرتے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا،زمین وآسمان کا خالق،جن وانس اور ملائکہ مُقَرَّبِیْن کو(ان کی قدرت و طاقت کے مطابق)اس بات کا مکلَّف بنانے والا ہے کہ وہ خالصتاً اسی کی عبادت کریں۔چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے :
وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ ( پ ۳۰، البینة : ۵)
ترجمۂ کنز الایمان : اوران لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے۔
پس خالص دیْنِ متین اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لئے ہے کیونکہ وہ ذات شرکَتِ غیرسے بے نیاز،لوگوں سے بڑھ کر بے نیاز ہےاور درودہو اس کے نبی رسولوں کے سردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اور تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پاکیزہ آل و اصحاب پر۔
بے شک اہْلِ دل حضرات کے سامنے بصیرتِ ایمان اور نورِ قرآن سے یہ بات مُنکَشَف ہوچکی ہے کہ علم وعبادت کے بغیر سعادتِ اَبَدی تک کوئی رسائی نہیں اور عُلَماکے سواسب لوگ ہلاکت میں ہیں اورعاملین کے علاوہ سب عُلَما ہلاکت میں ہیں اورمخلصین کے سوا سب عامِلین ہلاکت میں ہیں اور مخلصین بھی بہت بڑے خطرے میں ہیں۔عمل بغیر نیت کے مَحْض مَشَقَّت اور نیت بغیر اخلاص کے ریا(دکھاوا)ہے اور یہ نفاق کا ساتھی اور گناہ میں اس کے برابر ہے۔اخلاص ، صِدْق اور تحقیق کے بغیر گَرد و غبار کے ذرات کی طرح ہے اور ہر وہ عمل جو غَیْرُاللہ کے ارادے کی آمیزش کے ساتھ کیا جائے اس کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے :
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا(۲۳) ( پ ۱۹، الفرقان : ۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو کچھ انھوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر اُنھیں باریک باریک غبارکے بکھرے ہوئے ذرّے کردیاکہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔
کاش!میں جان لیتا کہ جو شخص نیت کی حقیقت کو نہیں جانتا وہ اسےدرست کیسے کرے گا؟یا جو شخص اخلاص کی حقیقت سے نا واقف ہے وہ نیت درست کر کے اس میں اخلاص کیسے پیداکرے گا؟اورجب اخلاص کا پیکر شخص صدق کا معنیٰ ہی نہ جانتا ہوتو اپنے نفس سے صدق کا مطالبہ کیسے کرے گا؟لہٰذا جو بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت بجالانے کاارادہ رکھتا ہو اس پر سب سے پہلے نیت کا علم سیکھناضروری ہے تاکہ نیت کی معرفت حاصل ہو ،پھر صدق اور اخلاص کی حقیقت سمجھ لینے کے بعد نیت کو عمل کے ذریعے درست کرے کیونکہ صدق و اخلاص ہی بندے کی نجات اور چھٹکارے کا سبب ہیں۔پس ہم صدق اور اخلاص کے معانی کو تین ابواب میں بیان کریں گے : (۱)…نیت کی حقیقت اور اس کے معنیٰ کا بیان(۲)…اخلاص اور اس کے حقائق کا بیان(۳)…صدق اور اس کی حقیقت کا بیان۔
1 یاد رہے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّ کی محبت حضورنَبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت ہے جیساکہ حضرت سیِّدُناابوالقاسم قُشَیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابو سعید خَرَّاز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب نے بیان فرمایا: میں نے خواب میں امامُ الانبیا، سَیَّدُالۡمُرۡسَلِیۡن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی تو عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا عذر قبول فرمائیے ، مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں مشغولیت نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سے روک رکھا ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: یَامُبَارَک !مَنۡ اَحَبَّ اللہَ فَقَدۡ اَحَبَّنِی یعنی اے مبارک!جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔( الرسالة القشیرية ، باب المحبة ، ص ۳۵۶)
2 الشفا ، فصل وأما خوفه ربه ... الخ ، ۱ / ۱۴۶
باب نمبر1 : نیت کا بیان
(اس میں پانچ فصلیں ہیں)
اس باب میں درج ذیل اُمُورکوبیان کیاجائےگا : (۱)…نیت کی فضیلت(۲)…نیت کی حقیقت(۳)… نیت عمل سے بہتر ہے(۴)…نفس سے متعلق اعمال کی ترجیح(۵)…نیت کا غیر اختیاری ہونا۔
پہلی فصل : نیت کی فضیلت کا بیان
نیت کی فضیلت سے متعلق آیات،احادیث اور اقوال :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے : وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ- ( پ ۷، الانعام : ۵۲) ترجمۂ کنز الایمان : اوردورنہ کروانہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے۔
اس آیتِ مُقَدَّسَہ میں’’ یُرِیْدُوْنَ ‘‘(ارادے،چاہت)سے مراد نیت ہے۔
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اِنَّمَاالْاَعْمَال ُ بِالنِّیَّاتِ وَلِکُلِّ امْرِی ءٍ مَّانَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہ ٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہ ٗ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہ ٗ اِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِ امْرَأَةٍ یَّنْکِحُھَا فَھِجْرَتُہ ٗ اِلٰی مَاھَاجَرَاِلَیْہٖ یعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوتو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہی ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا کو پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوتو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔(1 )
مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : اَکْثَرُ شُھَدَآءِ اُمَّتِیْ اَصْحَابُ الْـفُرُشِ وَرُبَّ قَتِیْلٍ بَیْنَ الصَّفَّیْنِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِـنِیَّتِہٖ یعنی میری امت کے اکثر شہدا بستر پر مرنے والے لوگ ہونگے اورجہاد میں قتل کئے گئے بہت سے لوگوں کی نیتوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے(کہ ان کی کیا نیت تھی)۔ (2 )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے : اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ- ( پ ۵، النسآء : ۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان : یہ دونوں اگر صلح کراناچاہیں گے تو اللہ ان میں میل(موافقت پیدا) کردے گا۔
اس آیتِ طَیِّبَہ میں نیت کو توفیق کا سبَب قراردیاگیا ہے۔
نیت سے متعلق 18احادیث و روایات :
(1)… اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَا یَنْظُرُاِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَاِنَّمَایَنْظُرُاِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ یعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری صورتوں اور تمہا رے اموال کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ وہ تو تمہارے دلوں کی طرف نظرفرماتا ہے۔(3 )
دلوں کی طرف نظر فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نیت کا محل ہیں۔
(2)…بے شک بندہ نیک اَعمال کرتا ہے اور فَرِشتے اس کو مُہر لگے ہوئے صحیفوں میں لے کر اوپر چڑھتے اور بارگاہِ الٰہی میں پیش کرتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : اس صحیفے کو ڈال دو کیونکہ اس میں جو اعمال ہیں وہ میری رضا کے لئے نہیں کئے گئے۔پھر فَرِشتوں کو حکم ارشادفرماتا ہے : اس بندے کے لئے یہ یہ لکھو۔ تو فَرِشتے عرض کرتے ہیں : اے ربّ عَزَّ وَجَلَّ !اس نے تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہیں کیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : اس نے ان اعمال کو بجالانے کی نیت کی تھی۔(4 )
(3)…لوگ چار طرح کے ہیں : ایک وہ شخص جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے علم اور مال عطا فرمایا، وہ اپنے مال میں اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہےتو دوسرا شخص کہتا ہے : اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اس کی مثل عطا فرماتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔یہ دونوں اجر میں برابر ہیں۔تیسرا شخص وہ ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مال تو دیا ہے لیکن علم عطا نہیں کیا،وہ اپنی جہالت کی وجہ سے مال کو فضول کاموں میں اڑاتا ہے تو چوتھا شخص کہتا ہے : اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اس کی مثل عطا کرتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں۔(5 )
کیا تم نہیں دیکھتےکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صرف نیت کی وجہ سے اچھے اور برے اعمال میں شریک فرما دیا۔اسی طرح
(4)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو ارشادفرمایا : بے شک مدینہ طیبہ میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ ہم نے جس وادی کو طے کیایا جس زمین کو پامال کیا جس سے کفار کو غصہ آئے یا جو مال ہم نے خرچ کیایا ہمیں بھوک پہنچی تو وہ ان سب کاموں میں ہمارے ساتھ شریک رہے ہیں حالانکہ وہ مدینہ میں ہیں۔صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !وہ کیسے؟حالانکہ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔تو ارشادفرمایا : انہیں عذر نے روک لیا تو وہ حُسْنِ نیت کی وجہ سے ہمارے ساتھ شریک ہیں۔(6 )
مُہاجِرِاُمِّ قیس :
(5)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث میں ہے : مَنْ ھَاجَرَ یَبْتَغِیْ شَیْئًا فَھُوَ لَـہ ٗ فَھَاجَرَرَجُلٌ فَتَزَوَّجَ اِمْرَاَةً مِّنَّا فَکَاَنْ یُّسَمّٰی مُھَاجِرُاُمِّ قَیْسٍ یعنی جو شخص کسی چیز کی طلب میں ہجرت کرے تو وہ اسی کے لیے ہے(7 )تو ایک شخص نے ہمارے قبیلے کی ایک عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی تو اس کا نام ہی’’مہاجرِ اُمِّ قَیْس‘‘(یعنی اُمِّ قَیْس کی طرف ہجرت کرنے والے) پڑ گیا۔
قَتِیْلُ الْحِمَار :
(6)… راہِ خدا میں مارے جانے والے ایک شخص کو’’ قَتِیْلُ الْحِمار ‘‘کہہ کر پکاراجاتا تھاکیونکہ اس نے ایک شخص سے اس کا سامان اور گدھا لینے کے لئے قتال کیا تھااسی نیت پر وہ مارا گیا تو وہ اپنی نیت کی طرف منسوب ہوا۔(8 )
(7)…حضرت سیِّدُناعُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث میں ہے : مَنْ غَزَاوَھُوَلَایَنْوِیْ اِلَّا عِقَالًا فَلَہ ٗ مَانَوٰی یعنی جو شخص صرف ایک رسی حاصل کرنے کے لئے لڑا تو اس کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(9 )
(8)…حضرت سیِّدُنااُبَیْ بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے ایک شخص سے مدد چاہی جو میرے ساتھ مل کر جہاد کر رہا تھا تواس نے کہا : جب تک تم میرے لئے کچھ اُجرت مُقَرَّر نہیں کرو گے تومیں تمہاری مدد نہیں کرونگا۔چنانچہ میں نے اس کے لئے کچھ اُجرت مقرر کردی پھر اس کےمتعلق بارگاہِ رسالت میں عرض کی توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : اس کے لئے دنیاوآخرت میں وہی کچھ ہے جو تم نے اس کے لئے مُقَرَّر کر دیا۔(10 )
اچھی نیت کا صلہ :
(9)…اسرائیلی روایت میں ہے کہ ایک شخص قحط کے زمانے میں ریت کے ایک ٹیلے کے پاس سے گزرا تو اس نے اپنے دل میں کہا : اگر یہ ریت غلہ ہوتاتو میں اسے لوگوں میں تقسیم کر دیتا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس وقت کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ اس بندے سے کہہ دیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارا صدقہ قبول کیا اور تمہاری اچھی نیت کا بدلہ دیا کہ اتنی ریت برابر غلہ صدقہ کرنے کا ثواب عطا کیا ۔(11 )
(10)…کئی احادیث میں مروی ہے : مَنْ ھَمَّ بِحَسَنَةٍ وَّلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَـہ ٗ حَسَنَة ٌ یعنی جو کسی نیکی کا ارادہ کرے لیکن کر نہ سکےتو اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔(12 )
(11)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عَمْروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سےمروی روایت میں ہےکہ جس کی نیت دنیا ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور وہ اس وقت دنیا سے جدا ہوتا ہے جب اسے دنیا کی زیادہ رغبت ہوتی ہے اور جس کی نیت آخرت ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا دل غَناسے بھر دیتا ہے اور اس کا سامان اس کے لئے جمع کر دیتا ہے اور وہ دنیا سے انتہائی بے رغبتی کے وقت جدا ہوتا ہے۔(13 )
Qoraalka waxaa laga helayOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472la qaaday 2026-10-21
Kani waa qoraalka Carabiga ah ee Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn ee al-Ghazālī sida uu ugu jiro ururinta OpenITI, oo laga soo qaaday nuqulka Shamela ee daabacaadda Dār al-Maʿrifa. Cidna lama barbar dhigin buugga daabacan ama qoraal gacmeed, culimona ma dib u eegin. Ururintu waxay sheegaysaa in boggaga qaarkood qayb qoraalka ka mid ah ay maqan tahay iyo in qoraallada hoose ee tifaftiraha ay qoraalka ku dhex qasmeen; labadaba waxaa loo muujiyaa sidooda. Boggaga daabacaadda waxaa lagu calaamadeeyay meesha ay ku dhammaadaan. Tarjumaadahu waa kuwa turjumaannadooda; mid kastaa waxaa laga akhriyay nuqulka la magacaabay oo la socda, waxaana lagu muujiyaa qoraal gooni ah kitaab kasta hoostiisa oo leh cinwaanno u gaar ah: midna sadar sadar lama barbar dhigin Carabiga, Ingiriisiga Karim wuu soo gaabiyaa buugga sida turjumaankiisu sheegay, mid kastaana waxay sidataa khaladaadka nuqulka laga akhriyay. Sabīl waxba ma tarjumin, tarjumaad kalena kama hubin Carabiga, culimona midna dib uma eegin.