Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Ghaashiya
Sura ta 88

Al-Ghaashiya

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 17–26

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ 17 وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ 18 وَإِلَى ٱلْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ 19 وَإِلَى ٱلْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ 20 فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ 21 لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ 22 إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ 23 فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَكْبَرَ 24 إِنَّ إِلَيْنَآ إِيَابَهُمْ 25 ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم 26

کیا پس نہیں دیکھتے وہ اونٹوں کی طرف کیسے پیدا کیے گئے وہ؟ (17) اور آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا وہ؟ (18) اور پہاڑوں کی طرف کیسے گاڑے گئے وہ؟(19) اور زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی وہ؟ (20) پس آپ نصیحت کریں، بس آپ تو نصیحت ہی کرنے والے ہیں (21) نہیں ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ(22)مگر جس نے رو گردانی کی اور کفر کیا (23) تو عذاب د ے گا اسے اللہ عذاب بہت بڑا (24) بلاشبہ ہماری ہی طرف ہے ان کا لوٹ کر آنا (25) پھر یقیناً ہمارے ہی ذمے ہے ان کا حساب (26)

[20-17] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو، جو رسولﷺ کی تصدیق نہیں کرتے اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو، اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کریں، جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں،فرماتا ہے:﴿ اَفَلَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَى الۡاِبِلِ كَيۡفَ خُلِقَتۡ﴾’’کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیے گئے؟‘‘ یعنی کیا وہ اس کی انوکھی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو بندوں کے لیے مسخر اور ان بے شمار منافع اور مصالح کے لیے ان کا مطیع کر دیا، جن کے وہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔﴿ وَاِلَى الۡجِبَالِ كَيۡفَ نُصِبَتۡ﴾ ’’اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے وہ نصب کیے گئے ہیں؟‘‘ یعنی خوبصورت اور نمایاں بنا کر ان کو نصب کیا گیا ہے۔ جس سے زمین کو استقرار اور ثبات حاصل ہوا جس سے وہ حرکت نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں (انسان کے لیے) بڑے بڑے فوائد و دیعت کیے ہیں ۔ ﴿وَاِلَى الۡاَرۡضِ كَيۡفَ سُطِحَتۡ﴾ ’’اور زمین کی طرف کہ کس طرح وہ بچھائی گئی ہے۔‘‘ یعنی زمین کو کس طرح کشادگی کے ساتھ پھیلایا اور نہایت نرم اور ہموار بنایا گیا ہے۔ تاکہ بندے اس پر ٹھکانا کر سکیں، اس پر کھیتی باڑی کر سکیں، باغات اگا سکیں، عمارتیں تعمیر کر سکیں اور اس کے راستوں پر سفر کر سکیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زمین کا ہموار ہونا، اس کے گول ہونے کے منافی نہیں۔ اس کو ہر جانب سے افلاک نے گھیرا ہوا ہے، جیسا کہ عقل، نقل، حس اور مشاہدہ اس پر دلالت کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے ہاں یہ مذکور اور معروف ہے، خاص طور پر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دور کی مسافتوں کو قریب کرنے کے لیے جو اسباب فراہم کیے ہیں، ان کے ذریعے سے لوگ زمین کے اکثر گوشوں سے واقف ہو گئے ہیں، کسی شے کا ہموار ہونا ایک بہت ہی چھوٹے جسم کی گولائی کے منافی ہوسکتا ہے جسے اگر ہموار کیا جائے تو اس میں قابل ذکر گولائی باقی نہیں رہے گی۔رہا کرہ زمین کا جسم جو کہ بہت ہی بڑا اور کشادہ ہے جو بیک وقت گول اور ہموار ہے، دونوں امور ایک دوسرے کے منافی نہیں، جیسا کہ اہل خبر کو اس کی معرفت حاصل ہے۔

[21، 22]﴿ فَذَكِّرۡ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَكِّرٌ﴾ یعنی لوگوں کو وعظ و نصیحت اور ان کو تنبیہ کیجیے اور ان کو خوشخبری دیجیے کیونکہ آپ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ان کو نصیحت کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کو ان پر داروغہ بنا کر اور مسلط کر کے نہیں بھیجا گیا اور نہ ان کے اعمال کا وکیل بنا کر ہی بھیجا گیا ہے، پس جب آپ نے وہ ذمہ داری پوری کر دی جو آپ کے سپرد کی گئی تھی، تو اس کے بعد آپ پر کوئی ملامت نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مانند ہے:﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾(ق:50؍45) ’’اور آپ ان کے ساتھ زبردستی کرنے والے نہیں، آپ قرآن کے ذریعے سے اس شخص کو نصیحت کرتے رہیے جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہے۔‘‘

[23، 24]﴿ اِلَّا مَنۡ تَوَلّٰى وَكَفَرَ﴾ مگر جو کوئی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر کا رویہ اختیار اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے ﴿ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الۡعَذَابَ الۡاَكۡبَرَ﴾تو اللہ اسے نہایت سخت اور دائمی عذاب دے گا۔

[25، 26]﴿ اِنَّ اِلَيۡنَاۤ اِيَابَهُمۡ﴾ یعنی تمام خلائق کو ہماری ہی طرف لوٹنا اور قیامت کے روز ان سب کو (ہمارے ہی پاس) اکٹھے ہونا ہے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا حِسَابَهُمۡ﴾ ، پھر انھوں نے جو کوئی اچھا برا عمل کیا ہے، ان سے اس کا حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔