Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Anfaal
Sura ta 8

Al-Anfaal

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 74–75

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ 74 وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ مَعَكُمْ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مِنكُمْ ۚ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ 75

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا انھوں نے اللہ کی راہ میں اور (اسی طرح) وہ لوگ جنھوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور مدد کی(ان کی) یہی ہیں مومن سچے، انھی کے لیے ہے مغفرت اور روزی باعزت(74) اور وہ لوگ جو ایمان لائے بعد میں اور ہجرت کی انھوں نے اور جہاد کیا تمھارے ساتھ (مل کر)، پس یہ لوگ تم ہی میں سے ہیں اور رشتے دار بعض ان میں سے زیادہ حق دار ہیں ساتھ بعض کے اللہ کی کتاب میں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(75)

[74]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنھوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی۔‘‘ یعنی مہاجرین و انصار ﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ﴾ یعنی وہی سچے مومن ہیں کیونکہ انھوں نے ہجرت، نصرت دین، ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق کی ہے۔ ﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان کی برائیاں محو ہو جائیں گی اور ان کی لغزشیں ختم ہو جائیں گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یعنی ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے نعمتوں بھری جنتوں میں خیر کثیر ہے۔ بسا اوقات اس دنیا ہی میں انھیں بہت جلد ثواب عطا کر دیا جاتا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل مطمئن ہوتے ہیں ۔

[75] اسی طرح جو لوگ ان مہاجرین و انصار کے بعد آئیں ، نیکیوں میں ان کی اتباع کریں ، ایمان لائیں ، ہجرت کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’پس وہ لوگ تم ہی میں سے ہیں ‘‘ ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے حقوق ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں ۔ ایمان پر مبنی یہ موالات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی ... اس کی بہت بڑی وقعت اور عظیم شان ہے۔ حتی کہ نبی مصطفیﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی تھی، وہ خاص اخوت تھی۔ جو اخوت عامہ و ایمانیہ کے علاوہ ہے، حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی۔ ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ﴾ ’’اور رشتے دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں ایک دوسرے کے، اللہ کے حکم میں ‘‘ اس لیے میت کی وراثت صرف انھی لوگوں کو ملے گی جو اصحاب الفروض ہیں یا وہ میت کا عصبہ ہیں ۔ اگر میت کا عصبہ اور اصحاب الفروض موجود نہ ہوں تو ذوالارحام میں سے وہ لوگ وارث بنیں گے جو رشتہ میں میت کے سب سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی کتاب میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب میں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ اس کے احاطہ علم میں تمھارے احوال بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مناسبت سے تم پر دینی اور شرعی احکام جاری کرتا ہے۔