Al-Mulk
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
قُلْ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَـٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ 23 قُلْ هُوَ ٱلَّذِى ذَرَأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ 24 وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ 25 قُلْ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ 26
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔