Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Mulk
Sura ta 67

Al-Mulk

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Ayoyi 20–21

أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ۚ إِنِ ٱلْكَـٰفِرُونَ إِلَّا فِى غُرُورٍ 20 أَمَّنْ هَـٰذَا ٱلَّذِى يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُۥ ۚ بَل لَّجُّوا۟ فِى عُتُوٍّ وَنُفُورٍ 21

بھلا کون ہے جو وہ لشکر ہو تمھارا، کہ وہ مدد کرے تمھاری سوائے رحمن کے؟ نہیں ہیں کافر مگر دھوکے ہی میں (20) بھلا کون ہے وہ جو وہ رزق دے تمھیں اگر روک لے رحمن اپنا رزق ؟بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور(حق سے)گریز پر (21)

[20] اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے روگردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے: ﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ جُنۡدٌ لَّـكُمۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ﴾ یعنی جب رحمٰن تمھارے ساتھ کوئی برائی کرنے اارادہ کرے تو کون سا تمھارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے؟ یعنی رحمان کے سوا تمھارے دشمنوں کے خلاف کون تمھاری مدد کر سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہو جائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اسے ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی۔پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمان کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کر سکتا، اپنے کفر پر جمے رہنا فریب اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

[21]﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ يَرۡزُقُكُمۡ اِنۡ اَمۡسَكَ رِزۡقَهٗ﴾ یعنی رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر وہ تم سے رزق کو روک لے تو کون تمھارے لیے رزق بھیج سکتا ہے؟ کیونکہ مخلوق تو خود اپنے رزق پر قادر نہیں، دوسروں کو کیسے رزق دے سکتی ہے؟ بندوں کو جو نعمت عطا ہوتی ہے صرف اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ پس رزق عطا کرنے والی اور نعمتوں سے بہرہ ور کرنے والی ہی اس بات کی مستحق ہے کہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے۔مگر کفار ﴿لَّجُّوۡا﴾ جمے ہوئے ہیں ﴿ فِيۡ عُتُوٍّ﴾ حق کے معاملے میں سختی اور درشتی میں ﴿ وَّنُفُوۡرٍ﴾ ’’اور نفرت میں۔‘‘ یعنی حق سے دور بھاگتے ہیں۔