Al-An'aam
Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.
Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَـٰهُم بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ 42 فَلَوْلَآ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا۟ وَلَـٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ 43 فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَٰبَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُوا۟ بِمَآ أُوتُوٓا۟ أَخَذْنَـٰهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ 44 فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ۚ وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ 45
اور تحقیق بھیجے ہم نے امتوں کی طرف (رسول) آپ سے پہلے، پھر پکڑا ہم نے ان کو ساتھ سختی اور تکلیف کے تاکہ وہ عاجزی کریں (42) پھر کیوں نہ، جب آیا ان پر ہمارا عذاب، عاجزی کی انھوں نے؟ لیکن سخت ہوگئے ان کے دل، مزین کر دیا ان کے لیے شیطان نے جو تھے وہ عمل کرتے (43) پس جب بھلا دیا انھوں نے اس کو کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ اس کی تو کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہرچیزکے،یہاں تک کہ جب وہ اتراگئے ساتھ ان چیزوں کے جو وہ دیے گئے،تو پکڑلیا ہم نے انھیں نا گہاں ،تب وہ ناامید ہوگئے (44) پس قطع کردی گئی جڑ اس قوم کی جنھوں نے ظلم کیا تھا، او ر ہر قسم کی حمد اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے(45)
[42]﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔‘‘ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انھوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا ﴿ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ ’’ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے۔‘‘ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ عاجزی کریں۔‘‘ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑگڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں ۔
[43]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَلٰكِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’پس کیوں نہ گڑگڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا لیکن سخت ہو گئے دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل پتھر ہو گئے ہیں جو حق کے سامنے نرم نہیں پڑتے ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے‘‘ اس لیے وہ سمجھتے رہے کہ جس راستے پر وہ گامزن ہیں یہی دین حق ہے، پس وہ اپنے باطل میں غلطاں کچھ عرصہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور شیطان ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔
[44]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَبۡوَابَ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی تو کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے‘‘ یعنی ان پر دنیا، اس کی لذتوں اور اس کی غفلتوں کے دروازے کھول دیے ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً فَاِذَا هُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو ان کو دی گئیں تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا، پس اس وقت وہ ناامید ہو کر رہ گئے‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو گئے۔ یہ عذاب کی سخت ترین نوعیت ہے کہ انھیں اچانک غفلت اور اطمینان کی حالت میں پکڑ لیا جائے تاکہ ان کی سزا سخت اور مصیبت بہت بڑی ہو۔
[45]﴿فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’پھر کٹ گئی جڑ ظالموں کی‘‘ یعنی عذاب سے وہ برباد ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر نے جھٹلانے والوں کی جو ہلاکت مقدر کی ہے اس پر پروردگار عالم کی تعریف ہے۔ کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے اولیا کی عزت و تکریم، اس کے دشمنوں کی ذلت و رسوائی اور رسولوں کی تعلیمات کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔