Tsallaka zuwa abin da ke ciki
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-An'aam
Sura ta 6

Al-An'aam

Wannan tafsiri ne da wani harshe ba Larabci ba, kamar yadda yake a Quranic Universal Library (QUL, ta Tarteel), wanda aka ɗauka ta kwafin buɗaɗɗen bayanan QUL da spa5k/tafsir_api ke riƙewa. Bayanan QUL ba su faɗi wanda ya rubuta ko ya fassara shi ba, ko wane bugu da aka buga yake bi, kuma ba su bayyana lasisi ga rubutun ba, saboda haka ba a tabbatar da haƙƙin nuna shi ba. Babu wanda ya kwatanta shi da littafin da aka buga, kuma babu malami da ya duba shi. Kowane sashe yana kusa da ayoyin da yake bayani a kansu, waɗanda rubutun Alƙur’ani ne na Tanzil, kamar yadda yake a can. Sabīl bai rubuta ko ɗaya daga cikinsa ba, kuma bai fassara shi ba.

Rubutu dagaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITan ɗauka 2026-10-21

Aya ta 12

قُل لِّمَن مَّا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُل لِّلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ 12

کہہ دیجیے! کس کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے؟ فرما دیجیے! اللہ ہی کا ہے، لازم کر لیا ہے اس نے اپنے نفس پر مہربانی کرنا، یقینا وہ جمع کرے گا انھیں روزقیامت کے، نہیں ہے کوئی شک اس میں ، جن لوگوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو، پس وہ نہیں ایمان لاتے(12)

[12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی ان مشرکین سے توحید کا اقرار کرواتے اور ان پر اس کی حجت ثابت کرتے ہوئے کہیے ﴿لِّمَنۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟‘‘ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس نے پیدا کیا۔ کون ان کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ لِّلّٰه ِ﴾ ’’اللہ کا ہے‘‘ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں انکار نہیں کرتے، کیا جب وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اکیلا ہی کائنات کا مالک اور اس کی تدبیر کرنے والا ہے تو اس کے لیے توحید اور اخلاص کا اعتراف کیوں نہیں کرتے؟ ﴿ كَتَبَ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ ﴾ ’’اس نے لکھا ہے کہ اپنے نفس پر رحم کرنا‘‘ یعنی تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کے اقتدار اور تدبیر کے تحت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت اور احسان کی چادر پھیلا رکھی ہے اور اس کی بے پایاں رحمت نے ان سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اس نے اپنے لیے لکھ رکھا ہے کہ ’’اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے۔‘‘عطا کرنا اس کے نزدیک محروم کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے ہیں اگر بندے اپنے گناہوں کے سبب خود ان کو اپنے آپ پر بند نہ کر لیں ، پھر اس نے انھیں ان دروازوں میں داخل ہونے کی دعوت دی ہے اگر ان کے گناہ اور عیب ان کو ان دروازوں کی طلب سے روک نہ دیں ۔ ﴿ لَيَجۡمَعَنَّـكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’البتہ اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں ‘‘ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے اور وہ سب سے زیادہ سچی خبر دینے والا ہے اور اس پر اس نے ایسے براہین و دلائل قائم کیے ہیں جو اسے حق الیقین قرار دیتے ہیں مگر ان ظالموں نے دلائل و براہین کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا انکار کر دیا کہ وہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور گناہ کرنے میں جلدی کی اور اس کے ساتھ کفر کرنے کی جسارت کی، پس وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑ گئے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَلَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا تو وہ ایمان نہیں لاتے‘‘

معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورۂ مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لیے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے۔ بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیا و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے۔